اُردو ادبافسانہ

سزا / الماس شیریں

روشن راتیں اندھیرے دن جہاں حسن و ادائیں رقص و موسیقی بکتے تھے۔ بازار حسن کے نام سے ایک الگ جگہ تھی۔ جہاں رات ہوتے ہی رونق شروع ہو جاتی ہے. اور رونق بازار بالکنی سے گاہک پھانسنے کے لیے جھکی نظر
آتی ۔ پان والوں اور پھول بیچنے والوں کی آوازیں بڑے بڑے زمیندار جاگیر دار اور نواب رات کی تاریکی میں یہاں پائے جاتے تھے۔ رقص و موسیقی اور شباب و شراب میں رات بسر ہو جاتی ہے صبح پھر وہی سنسان گلیاں ہو جاتی۔ یہ سب ماضی کی باتیں ہیں اب نہ کوٹھے رہے نہ رقص و موسیقی سب انداز بدل گئے ۔ اب کو ٹھے ختم ہو گئے اور شرفا کے ساتھ بڑی بڑی کوٹھیاں بن گئیں ۔ ان کوٹھیوں میں بس راتیں بکتی ہیں۔ پہلے بازار حسن ایک خاص جگہ تھی ۔ اب ہر جگہ حسن بکھرا پڑا ہے۔ . پہلےبڑے بڑے نواب بھی رات کی تاریکی میں چھپ کر جاتے تھے ۔ اب یہ کوٹھیاں ہر مرد کی دسترس میں ہیں۔ ایک شاندار کوٹھی کرایے پر لیکر میڈم نائلہ کچھ لڑکیوں کے ساتھ رہتی تھی۔
, ۔ وہ لڑکیوں کو اپنی بیٹیاں کہ کر تعارف کرواتی۔ میڈم نائلہ کے تعلقات بڑے بڑے لوگوں سے تھے۔ بڑی بڑی پارٹیوں میں میڈم نائلہ کو مدعو کیا جاتا وہ اپنی بیٹیوں کے ساتھ وہاں جاتی لڑکیاں بہت تیز طرار اور چالاک تھی۔ بولتی ایسے جیسے پی ایچ ڈی کر رکھی ہو۔ نفیس قیمتی لباس اور جیولری پہنے وہ بڑی بڑی اسامیاں ڈھونڈتی۔ چار لڑکیاں چار شکار۔ میڈم نائلہ کی نظریں ان چاروں پر ہوتیں۔ بس پھر پوری رات گزر جاتی ۔ رات ڈھلے میڈم نائلہ چاروں لڑکیوں کے ساتھ تھکی ہوئی لڑکھڑاتے قدموں سے تھکاوٹ سے چور اپنے اپنے بستروں پرگر جاتی ۔پھر شام تک ان کو ہوش نہ رہتا ۔چاروں لڑکیوں میں ایک لڑکی تھی مہک علی جو بہت خوبصورت اور طرح دار تھی۔ وہ جس سے ایک دفعہ بات کر لے ہر مرد اس کی طرف کھچا چلا آتا ۔ میڈم نائلہ مہک علی سے بہت خوش رہتی ۔اور اس کا بہت خیال رکھا جاتا ۔مہک علی کو خود بھی اندازہ تھا کہ میری کتنی ویلیو ہے ۔ ابھرتی جوانی اوپر سے میڈم نائلہ نے اس کو ہر چیز میں ماہر کر دیا تھا ۔ لمبے بال اور بڑی بڑی خوبصورت آنکھیں مہک علی کا پلس پوائنٹ تھا ۔مہک علی کی کوئی رات خالی نہ جاتی۔ لالچی میڈم نائلہ ٹھیک ٹھاک رقم بٹورتی۔ مہک علی باہر پارٹیوں میں جا جا کر تھک گئی تھی ۔ اس لیے اب زیادہ تر لوگوں کو گھر بلایا جاتا ۔ ان میں نواب یوسف اور نواب مہر علی تھے۔ جو مہک علی کے دیوانے تھے ۔ مہک علی کے ایک اشارے پر دونوں لاکھوں روپے لٹا دیتے ۔ نائلہ اکثر مہک علی سے کہتی اس بڈھے سے جو بٹور سکتی ہو بٹور لو اس سے جان چھڑوا کر کوئی اور لمبا ہاتھ مارو مہک علی بولی میڈم جو مرضی کر لیں میں یوسف کو نہیں چھوڑ سکتی اس پر میرا دل آگیا ہے ۔میڈم نائلہ نے زوردار قہقہ لگایا اور بولی ارے پگلی ہم جیسے کسی کو نہیں چھوڑتے انکا دل بھر جایے تو یہ ہمیں چھوڑ دیتے ہیں ۔مہک علی نے کوئ توجہ نہ دی مہک علی یوسف کو نہیں چھوڑتی تھی۔ اور مہر علی مہک کو نہیں چھوڑتا تھا۔ آہستہ آہستہ مہک علی کا سحر نواب یوسف پر چڑھنے لگا مہک علی پورا وقت صرف یوسف کے ساتھ گزارتی میڈم نائلہ غصے میں رہتی مہک علی کی طرف سے انکم کم ہو رہی تھی۔ یوسف مہک علی سے شادی کرنا چاہتا تھا ۔اس کے لیے وہ ہر قسم کی شرائط ماننے کو تیار تھا۔ اتنی دولت کا سن کر میڈم نائلہ مان گئی۔ جمعہ کو نکاح رکھا گیا۔تیاری ساری مکمل تھی۔ مہک علی دلہن بنی قیامت ڈھا رہی تھی۔ یوسف بھی کم نہیں لگ رہا تھا دونوں بہت خوش تھے۔ نکاح ہو گیا اچانک نواب مہر علی گرجتا ہوا اندر آیا مگر یوسف کو دولہے کے روپ میں دیکھ کر ششدر رہ گیا اور دل کو پکڑ کر گرتا چلا گیا ۔ یوسف اباجی کہہ کر اس کی طرف لپکامگر مہر علی یہ شرمندگی برداشت نہ کر سکا کہ باپ بیٹا ایک ہی عورت کے ساتھ یوسف کا بھی حال برا تھا شدت غم سے اسکا چہرہ لال تھا وہ نظر نہیں اٹھا پا رہا تھا ۔وہ اٹھا اور تیزی سے باہر نکل گیا پھر ساری زندگی اس کی شکل کسی نے نہ دیکھی مہک علی بت بنی بیٹھی تھی۔ ان جیسی عورتوں کا حال ہمیشہ سے ایسا ہی رہا ہے۔
چاہے وہ کوٹھے پر ہوں یا کوٹھی میں

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x