اُردو ادباُردو شاعرینظم

مسافتی ملاقاتیں / ارشد معراج

مسافتی ملاقاتیں

 

ہم ملتے ہیں 

نو بجے ہر صبح 

دفتر میں 

ہاتھ ملاتے ہیں پھیکی مسکراہٹ کے ساتھ 

بیٹھ جاتے ہیں اپنی اپنی سکرینوں کے سامنے 

روشنی خرچ کرتے ہیں اپنے دماغوں کی 

کنگال ہو جاتے ہیں ذہن پانچ بجے تک 

لوٹ آتے ہیں 

اگلی صبح کے لیے 

 

ہم ملتے ہیں 

کھانے کی میز پر 

مہنگے ریستوران میں

گفتگو کرتے ہیں خوش ذائقی اور لذت پر 

ماہانہ 

بھول جاتے ہیں 

اگلے کھانے تک  

 

ہم ملتے ہیں 

مشاعروں میں 

سناتے ہیں غزلیں ، نظمیں 

پیٹ بھرتے ہیں داد سے

ہوتے ہیں خوش شہرت سے  

لوٹ جاتے ہیں اپنے اپنے مسکنوں کو 

اگلے مشاعرے تک 

 

ہم پیتے ہیں

مل کر کبھی کبھی 

میسر آ جائے جب 

جگہ اور مشروب 

پہنچ جاتے ہیں اپنی اپنی ٹرانس میں 

اپنے اندر 

پاؤں دھرتے ہوئے بادلوں پر 

وادیوں میں محرومیوں کی

 ہنستے ہنستے 

کبھی روتے روتے 

خاموشی کی چادر اوڑھے کبھی 

نہیں جانتے 

کون کس کس دنیا میں 

 محو سفر ہے اس پل 

 

ہم ملتے ہیں 

روزانہ چائے کی میز پر 

 

لیکن ہم ایک دوسرے سے ملتے کب ہیں  

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x