غزل / یہ محبت پہ جو تشدید ہے میں کہتا تھا / شاہد ذکی
غزل
یہ محبت پہ جو تشدید ہے میں کہتا تھا
بت محب روح کی تردید ہے میں کہتا تھا
اب مری موت پہ گریہ نہیں بنتا تیرا
تو مری آخری امید ہے میں کہتا تھا
خواب پر پہرہء پرواز بٹھائے رکھنا
اصل میں خواب کی تائید ہے میں کہتا تھا
کارخانے! مرے چلنے سے چلے گا تو بھی
یہ تسلی نہیں تاکید ہے میں کہتا تھا
اب جو ہر شے میں خدا تم کو نظر آتا ہے
واسطہ وسعت۔ توحید ہے میں کہتا تھا
رونق۔ روئے تعلق بھی تجسس تک ہے
آگہی ہجر کی تمہید ہے میں کہتا تھا
حد سے نکلے ہو تو بے شکل ہوئے پھرتے ہو
حسن پابندی۔ تحدید ہے میں کہتا تھا
گرمی۔ عشق سے ہم تم ہیں کہ جیسے دنیا
سلسلہ داری۔ خورشید ہے میں کہتا تھا
کام ہے اس کا سرے سارے سروں کے بننا
خامشی نازش۔ ناہید ہے میں کہتا تھا
ہر وجود اپنے عدم ہی کی نموداری ہے
نقش خود نقش کی تردید ہے میں کہتا تھا
کبھی وہ اور کبھی آنکھیں نہیں ہوتی ہیں
زندگی تشنگی۔ دید ہے میں کہتا تھا
وہ جو خوشبو کو مجسم کہے خود بھی تو رہے
رنگ خود رنگ کی تجرید ہے میں کہتا تھا
عیب جوئی بھی ہنر ساز ہوا کرتی ہے
رات رعنائی پہ تنقید ہے میں کہتا تھا
سات سمتوں میں یہ بے سمت مسافت اپنی
بے بصر جست کی تقلید ہے میں کہتا تھا
دم بہ دم ٹوٹ کے بنتی ہوئی دنیا شاہد
وقت کے وہم کی تجدید ہے میں کہتا تھا




