اُردو ادبافسانہ

کھوٹا سکہ / شاہین کمال

جہاں آرا نقوی بڑی ترنگ و امنگ کے ساتھ اپنے گھٹنوں کے درد کو بھلائے حیدری مارکیٹ کے چکر پر چکر لگا رہی تھیں۔ خوشیاں بھی تو ٹانک ہی ہوتی ہیں ناں۔ سو وہ بھی آنے والے پوتے کی خوشیوں سے سرشار، سارے درد کو دیوار سے لگائے ہنستی، گنگناتی، نہالچہ اور کرتے کی تیاریوں میں مگن تھیں۔
شبّیر نقوی اپنی ریٹائرمنٹ کا چوتھا سال اپنے ازلی منصوبے کے مطابق زیادہ سے زیادہ وقت پوری یکسوئی و خوش دلی کے ساتھ تیموریہ لائبریری یا پھر نیشنل لائبریری میں گزارتے۔ ازل سے پڑھنے کے رسیا اور لکھنے کے شوقین نقوی صاحب اب اپنی برسوں کی پیاس کو سیراب کر رہے تھے۔ متوسط طبقے کے خواب اکثر پیٹ کی آگ کے آگے ہی خاکستر ہوتے ہیں۔ زندگی کے تقاضے نبھانے کی خاطر نقوی صاحب کا چلن ہمیشہ سے ایک سے زیادہ نوکری رہی، پر کیا کیا جائے کہ وہی ازلی چادر کی بیچارگی و بوسیدگی کہ سرا اور پیر کی ٹسل برابر چلتی رہی۔ دو بیٹیوں اور ایک بیٹے کی پرورش و تعلیم اور ریٹائرمنٹ سے پہلے اپنی چھت، یقیناً ایک بڑا کارنامہ۔
این ای ڈی سے فارغ التحصیل بیٹا فیضان مزید تعلیم کے لیے فل برائیٹ اسکالرشپ پر ٹیکساس اسٹیٹ یونیورسٹی گیا کہ وہیں کا ہو کر رہ گیا۔ جانے کیسی گرم ہوا چلی کہ پرائے دیس گئے بچے اب واپس وطن لوٹتے ہی نہیں۔ کل ہی تو یہ خبر نظروں سے گزری کہ گزشتہ برس سات لاکھ سے زیادہ پاکستانیوں نے ترکِ وطن کیا۔ ماؤں کی آنکھوں میں انتظار اور لوٹتے قدموں کی کن سوئیاں لیتی دہلیز دونوں ہی دم سادھے منتظر۔ یکے بعد دیگرے دونوں بیٹیاں بھی پردیسن ہوئیں۔ ایک کو آب و دانہ نیویارک کوئنس لے گیا تو دوسری کو دبئی کا صحرا راس آیا۔ نارتھ کراچی 11/C میں ایک سو بیس گز پر بڑی کٹھنائیوں اور چاہ سے بنائی گئی دو منزلہ "شبیر منزل” اب بھائیں بھائیں کرتی ہے۔ صبر کو یہی کافی کہ تینوں بچے اپنی اپنی گھرگرہستی میں خوش و باش ہیں۔ ابھی تو یوں بھی وہ دونوں ایک دوسرے کو راس۔

فیضان کے گھر چار سال بعد خوشیوں نے پھر دستک دی مگر پیچیدگیوں کے باعث ڈاکٹر نے رضنیہ کو شدید احتیاط بتائی تھی۔ فیضان نے ماں باپ کو ڈیلاس بلوانے کی کوششیں تیز کر دیں۔ "اس” کا "کن” تھا سو سارے معاملات بنا کسی رخنے، سہولت سے طے ہوتے چلے گئے۔ ڈیلاس میں لمبا قیام نہیں، فقط چھ ماہ ہی کا بسرام تھا۔ ویسے بھی جہان آرا کو اپنے گھر و وطن سے جدائی شاق تھی۔ چلو اچھا ہے کہ ماحول کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ کچھ دن کراچی کی قہر برساتی گرمی سے بھی جان کو آرام رہے گا۔ شبیر صاحب نے تو ہنستے ہوئے یہ تک کہا کہ "بھئی مجھے تو ڈیلاس پسند آیا تو میں تو وہیں رہ جاؤں گا۔ فیضان نے بتایا ہے کہ اس اپارٹمنٹ کے بالکل قریب ہی لائبریری بھی ہے۔”
"ہاں ہاں آپ وہاں شوق سے لائبریری ہی کو پیارے رہیے گا، مجھے کوئی فرق نہیں پڑے گا کہ میرے پاس میری پوتی اور گڈا جیسا پوتا ہو گا!”
جہان آرا نقوی کا ترکی بہ ترکی جواب تھا۔

یونہی ہنستے ہنساتے، منصوبے بناتے، جانے کی تیاریاں مکمل ہوئیں۔ جہاں آرا نے اپنی چہیتی سیامی بلی "نگین” کو اپنی طویل ترین رفاقت والی دوست و پڑوسن راحت کے حوالے کیا۔ گھر کے پورچ میں رکھے بہار دیتے گملے بھی اُسی کے گلیارے میں منتقل کیے گئے۔ راحت کے گلے لگ کر گھر کی چابی اسے پکڑاتے سمے جانے کیوں جہان آرا کا دل لمحے بھر کو ڈوبا، پر اپنے وہم کو شیطان کا وسوسہ قرار دیتے ہوئے وہ اپنی نمناک آنکھیں پونچھتے ہوئے ٹیکسی میں بیٹھ گئیں۔ جہان آرا بوکھلاہٹ اور ہیجان کا شکار تھیں کہ یہ ان کی زندگی کا پہلا بین الاقوامی سفر تھا۔ شبیر نقوی کا البتہ پاکستان سے باہر دوسرا سفر کہ وہ حجّازِ مقدس سے ہو کر آئے تھے۔ جہاز کا پہلا پڑاؤ دبئی، جہاں تین گھنٹے کا انتظار پھر ڈیلاس کے لیے روانگی۔ آرام دہ ہوائی سفر سے نقوی صاحب نے مقدورِ بھر حظ اٹھایا۔ راستے بھر وہ ڈاکومنٹری دیکھتے اور ہوائی سفر کا راستہ ملاحظہ کرتے رہے، جبکہ جہان آرا کسی الّہڑ لڑکی کی طرح کھڑکی سے ناک چپکائے باہر دھنکی روئی جیسے بادلوں یا پھر نیچے بہت بہت نیچے لکیروں جیسی دریاؤں اور اونچے تودوں جیسی بھوری بھوری زمین کو تکتی، تسبیح کا دانہ گراتی رہیں۔

ڈیلاس کے فورٹ ورتھ ایئرپورٹ پر فیضان اور پوتی رومیسہ نے استقبال کیا۔ اتنے لمبے سفر کی ساری کلفت، فیضان کو سینے سے لگاتے ہی ہوا ہوئی۔ اللہ اللہ! سڑکیں تھیں یا رشم کے تھان؟ کالی چکنی سڑک پر فیضان کی ویگن نما بڑی سی گاڑی گویا بہتی چلی جا رہی تھی۔ گھر پر بہو نے پرتپاک استقبال کیا۔ پورا اپارٹمنٹ اشتہا انگیز کھانوں سے معطر تھا۔ سترھویں منزل پر کشادہ، بڑی بڑی کھڑکیوں سے مزین چمکتا فلیٹ جہان آرا کے لیے عجوبہ روزگار ہی تھا۔ نیچے سڑک پر ماچس کی ڈبیہ جیسی رواں گاڑیاں اور کسی طلسماتی کہانی جیسے بھاگتے دوڑتے بونے کردار۔

چار مہینے سرعت سے گزر گئے۔ اس بیچ ماہ نور بھی ماں باپ سے ملنے اور اپنے بھتیجے کو گود لینے کے لیے کوئنس سے ڈیلاس آئیں۔ ماہ نور فقط ہفتہ بھر ہی رہیں، پر صد شکر کہ آنکھیں تو ٹھنڈی ہو گئیں۔ جہان آرا اس کی کبریائی کے آگے سرنگوں اپنے آشیانے کا شکر ادا کرتے نہ تھکتی اور روزانہ باقاعدگی سے دو نفل شکرانہ ادا کرتی تھیں ۔ بہو چلّہ نہا چکی تھی پر ارمغان بیشتر دادی کے پاس ہی ہوتا۔ شبیر صاحب پوری تندہی سے لائبریری سے استفادہ کرتے ہوئے اپنی رسرچ مکمل کر رہے تھے۔ سب کچھ ہی تو حسبِ دعا و منشاء تھا، پھر لائبریری سے آیا ایک وحشت ناک فون، شبیر نقوی کی مذاق میں کی گئی بات پر مہر ثبت کر گیا۔ انہیں لائبریری میں ہی دل کا دورہ پڑا اور EMS والوں کا سی پی آر، بجلی کا جھٹکا کچھ بھی نتیجہ خیز نہ رہا۔
شبیر نقوی کا ظلم تو دیکھو، پردیس میں پرایا کر دیا گیا. ساری حیات کراچی میں گزری۔ بھلا شبیر نقوی نے بھی کب چاہا ہو گا کہ وہ دیارِ غیر میں اجنبیوں کے بیچ خاکِ ردا اوڑھیں۔ پر اس کی مشیت کے آگے نہ کوئی شکوہ جائز تھا اور نہ ہی سوال کی گنجائش۔ جہان آرا نے بیویگی کے ساتھ ہی بڑھاپا بھی اوڑھ لیا ۔

عدت ہی کے دوران فیضان نے ان سے کچھ کاغذات پر دستخط کروائے اور کراچی کا گھر بیچ ڈالا۔ جب جہان آرا نے عدت کے بعد واپسی کی خواہش ظاہر کی تو فیضان نے کہا،
“امّی، آپ وہاں اکیلی کس کے پاس رہیں گی؟”
بات تو سچ تھی، مگر دل میں ایک ہوک سی اٹھی اور "شبیر منزل” کے بکنے کی خبر حواس پر بجلی بن کر گری. آنکھوں میں جیسے دنیا ہی دھندلا گئی۔ فیضان نے بتایا کہ دونوں بہنوں کو ان کا حصہ دے دیا ہے اور اپنا و آپ کا حصہ وہ سنبھال رہا ہے۔ وہ کچھ دیر خاموش رہی، پھر پھپھک کر رو پڑیں، اتنا کہ سانسیں رکنے لگیں۔

وقت گزرتا گیا۔ مبشر نقوی کی یادیں جیسے پرانی پینٹنگ کے رنگ، آہستہ آہستہ مدھم ہوتے گئے۔ غم نے جہان آرا کو ایسے دبوچا کہ وہ قسم قسم کی بیماریوں میں مبتلا ہوتی چلی گئیں۔ سب سے بڑی بیماری تو تنہائی تھی۔ وہ گویا بولنا ہی بھول چکی تھیں۔ وہ امریکن شہری نہ تھیں، اس لیے علاج مہنگا پڑتا۔ فیضان کو کبھی دوا لانا یاد نہیں رہتا تو کبھی وہ اپائنٹمنٹ کی تاریخ ہی بھول جاتا۔ یہ وہی فیضان تھا جس کے اپینڈکس کے آپریشن کے لیے جہان آرا نے اپنی ماں کی اکلوتی نشانی، اپنا عزیز ترین چندن ہار بیچ دیا تھا۔ وہی ماں جو رات گئے فیضان کی کمبائنڈ اسٹڈی سے واپسی پر اس کے دستک کے لیے اٹھتے ہاتھوں سے پہلے ہی دروازہ کھول دیتی تھی۔ یہ وہی ماں تو تھی جس نے فیضان کے کھانے سے پہلے لقمہ توڑنے کو حرام جانا۔ نثار ہوتی ماں اب گھر کے کسی کونے کھدرے میں رکھے، شاید ایک گرد آلود فرنیچر کی مانند تھی۔ جانے ماں باپ اولاد کو محبت کرنا نہیں سکھاتے یا اولاد ان سے محبت کرنا بھول جاتی ہے؟
جہان آرا کو اکثر اپنی اماں کا کہا ہوا جملہ یاد آتا، کتنا سچ کہتی تھیں اماں!
"آدم کے ماں باپ نہیں تھے نا، اس لیے اولاد کیا جانے ماں باپ کا درد۔”

وقت اپنی مخصوص ردھم پر رواں گزرتا رہا۔ کئی بہاریں خزاں آلود ہوئیں۔ رومیسہ مڈل اسکول اور ارمغان اسکول جانے لگے تھے۔ رومیسہ اب اردو تقریباً بھول ہی چکی تھی اور دادی اس کی خالص امریکن انگریزی کے لہجے میں انگریزی سمجھنے سے قاصر ۔ جہان آرا اپنا بیشتر وقت اپنے بجھے سرد کمرے کی کھڑکی کے پاس رکھے بینچ پر گزارتیں۔ شاید ان کی جامد زندگی کو کھڑکی باہر، بھاگتی دوڑتی زندگی کا آسرا تھا۔ ان کی باتیں سننے یا ان سے باتیں کرنے کا وقت کسی کے پاس نہ تھا، سو وہ بھی چپ رہنا سیکھ گئی تھیں یا شاید بولنا ہی بھول چکی تھیں۔ جب کبھی کراچی شدت سے یاد آتا تو باورچی خانے جا کر کچھ پکا لیتی، پر نوڈلز، چاؤمن اور پیزا والے بچے اسے منہ پر بھی نہ رکھتے۔

فیضان دن رات دفتر اور زندگی کی دوڑ میں سرگرداں تھا، جسے کئی کئی دن بعد رات گئے ماں کی یاد آتی. گُرمیت کور، سکھنی نرس جو مہینے میں ایک آدھ بار جہان آرا کی خیر خبر لینے آتی تھی۔ جب وہ ان کا بلڈ پریشر چیک کرتے ہوئے پوچھتی،
” ماں جی تسی کیسے ہو؟ ”
تو سدا کی متشکرم جہان آرا ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہتیں،
“میں ٹھیک ہوں بٹیا! بس دل کبھی کبھی تھک جاتا ہے۔”

ایک شام جب سورج کی آخری کرنیں کھڑکیوں کو ارغوانی رنگ میں اجال رہی تھیں، فیضان نے دیکھا کہ ماں صوفے کے بازو سے ٹیک لگائے یوں بیٹھی ہیں جیسے نیند میں کوئی دعا پوری ہو گئی ہو۔ جانے کب، مسلسل گردش میں رہتی تسبیح ٹوٹی کہ قالین پر جابجا مشہدی تسبیح کے عقیق دانے بکھرے پڑے تھے۔ جہان آرا کے چہرے پر ابدی سکون تھا کہ بالآخر آبلہ پائی کا سفر تمام ہوا۔

اجنبی خاک میں انہیں سپردِ خاک کر دیا گیا۔ قطار در قطار یکساں سنگِ مرمر کی قبریں، نہ کوئی نشانی، نہ کوئی خوشبو۔ بس نام، تاریخ، اور درمیان میں ایک خالی جگہ۔ یقیناً جہان آرا نے دیارِ غیر کی سرد مٹی میں بڑی اجنبیت محسوس کی ہو گی۔

واپسی پر فیضان نے اپنے بیٹے ارمغان کو گود میں اٹھاتے ہوئے اس گال پر بوسہ دیتے ہوئے کہا،
“دادی اب اللہ میاں کے پاس ہیں۔”
ارمغان نے معصومیت سے پوچھا،
"کیا وہ پاکستان میں ہیں؟”

شہرِ خموشاں کے باہر شہر کی تیز روشنیاں جگمگا رہی تھیں، پر ہر چمکتی چیز سونا کہاں؟

از قلم
شاہین کمال
کیلگری

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x