نیشنل ایکشن پلان پر عمل نہ کرنے سے دہشت گردی بڑھی: ڈی جی آئی ایس پی آر/ اردو ورثہ
پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے جمعے کی سہ پہر کو پشاور میں ایک پریس کانفرنس کو بتایا کہ نیشل ایکشن پلان پر اتفاقِ رائے ہوا تھا مگر عمل درآمد نہ ہو سکا، جس کی وجہ سے دہشت گردی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ’میرے یہاں آنے کا مقصد خیبر پختونخوا کے غیور عوام کے درمیان بیٹھ کر دہشت گردی کے خلاف اس جنگ کا احاطہ کرنا ہے اور اس جنگ میں ان کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کرنا تھا کہ قانون کو دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے مضبوط کرنا ہے، مگر ایسا نہ ہو سکا۔
انہوں نے کہا کہ 2024 میں خیبرپختونخوا میں 1,435 انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز کیے گئے، 769 دہشت گرد مارے گئے جن میں 58 افغان دہشت گرد بھی شامل تھے، اور 272 آرمی و ایف سی اہلکار اور 140 پولیس اہلکار جان سے گئے، جب کہ 165 شہریوں کی بھی اموات ہوئیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ 2025 میں 15 ستمبر تک 10,115 آپریشنز کیے گئے۔ ان آپریشنز میں 970 دہشت گرد مارے گئے جبکہ پاک فوج کے 311 اہلکار جان سے گئے۔
انہوں نے سلائیڈز دکھاتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں دو ہزار سے زیادہ کیس پینڈنگ ہیں مگر اب تک کسی ایک کیس میں بھی مجرموں کو سزا نہ مل سکی۔ انہوں نے سوال کیا کہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف ایک بیانیہ بنایا جائے گا۔ ’کیا آج ہم اس بیانیے پر کھڑے ہیں؟‘
انہوں نے سوال کیا، ’کیا اس نیشنل ایکشن پلان پر عمل ہو رہا ہے؟‘ انہوں نے کہا کہ ہر مسئلے کا حل بات چیت میں نہیں ہوتا۔ انڈیا نے جب پاکستان پر چھ مئی کو میزائل حملہ کیا تو لوگوں نے نہیں کہا کہ ان سے بات چیت کر لیں۔‘
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اگرچہ 2021 سے دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ شروع ہوا تھا، لیکن ’جوابی کارروائیوں میں بھی تیزی آئی۔‘ ’اور بعد کے سالوں میں زیادہ تعداد میں خوارج مارے گئے۔‘
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پشاور میں 2014 میں آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد سکیورٹی فورسز نے ایک جامع حکمت عملی کے تحت دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنا شروع کر دیا تھا۔ ’ہم پرامن خیبر پختونخوا کے خواب کو پورا کرنے کے قریب پہنچ گئے تھے۔ بدقسمتی سے ایک منصوبے کے تحت، دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو یہاں جگہ فراہم کی گئی۔‘
’طرز حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو جان بوجھ کر کمزور کیا گیا اور ایک گمراہ کن بیانیہ بنانے کی کوششیں کی گئیں۔ خیبر پختونخوا کے عوام آج بھی اپنی جانوں اور قربانیوں سے اس کی قیمت چکا رہے ہیں۔‘
(مزید تفصیلات شامل کی جا رہی ہیں)



