کابل میں دھماکہ، تحقیقات جاری ہیں: افغان طالبان/ اردو ورثہ
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں جمعرات کی رات دو زوردار دھماکے سنے گئے تاہم طالبان انتطامیہ نے دعویٰ کیا کہ کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا اور دونوں واقعات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
حکومتی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایکس پر کہا، ’واقعہ کی تحقیقات جاری ہیں، لیکن ابھی تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے اور سب کچھ ٹھیک ہے۔‘
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پہلا زوردار دھماکا مقامی وقت کے مطابق رات 9:50 (پاکستانی وقت کے مطابق رات 10:20) کے قریب ہوا جبکہ اس کے چند منٹ بعد ہی دوسرے دھماکے کی آواز سنی گئی۔
دوسری جانب سماجی رابطوں کے ویب سائٹ پر مختلف صارفین کی جانب سے کہا جا رہا ہیں کہ کابل میں دھماکے کے نتیجے میں کاالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے سربراہ مفتی نور ولی محسود مارے گئے ہے۔
افغانستان کے سینیئر صحافی بلال سروری نے ایکس پر لکھا کہ ’بتایا جا رہا ہے کہ کابل میں بمباری سے ٹی ٹی پی کے اہم رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔‘
Reports from Kabul today point to a targeted strike said to have targeted a senior TTP figure an event that feels both shocking and symbolic. The timing could hardly be more deliberate: it comes as the Taliban’s foreign minister visits New Delhi, a trip seen as part of…
— BILAL SARWARY (@bsarwary) October 9, 2025
بلال سروری کے مطابق یہ بمباری ایسے وقت میں کی گئی ہے جب افغانستان کے عبوری وزیر خارجہ مولانا امیر خان متقی انڈیا کے دورے پر ہیں۔
جمعرات اور جمعے کی درمیانے رات 12 بجے کے بعد سے سوشل میڈیا پر ایک غیر مصدقہ آڈیو پیغام بھی گردش کر رہا ہے، جس میں ایک شخص یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ وہ (مبینہ طور پر) مفتی نور ولی محسود ہیں اور آج 9 اکتوبر کو وہ زندہ ہیں، پاکستان کے قبائلی اضلاع میں موجود ہیں اور ان کے مارے جانے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔
د پاکستاني طالبانو مشر مفتي نورولي محسود: په ميډيا کېدونکي تبليغات ناسم او دروغ دي، زه په خپله قبايلي خاوره (پښتونخوا) کې يم او روغ رمټ يم
هندوکش غږ د پاکستاني طالبانو د مشر مفتي نورولي محسود هغه غږيز کليپ ترلاسه کړی، چې نوموړی پکې په ده د بريد په اړه کېدونکې اوازې ردوي او وايي،… pic.twitter.com/KgsSAwbq4L
— هندوکش غږ (@Hindukush_0) October 9, 2025
ٹی ٹی پی کے سربراہ مفتی نور ولی سے محسود سوشل میڈیا پر گردش کرتے ہوئے آڈیو پیغام ٹی ٹی پی کے افیشل ٹیلی گرام چینل سے جاری نہیں کیا گیا ہے بلکہ افغانستان کے مقامی میڈیا کی جانب سے مختلف سماجی رابطوں کے ویب سائٹ سے جاری کیا گیا ہے۔
آڈیو پیغام کی تصدیق ٹی ٹی پی کی جانب سے بھی ابھی تک نہیں ہوئی ہے اور نہ مفتی نور ولی محسود کے بارے میں ٹی ٹی پی نے کوئی بیان جاری کیا ہے۔
سوشل میڈیا پر کئی لوگوں نے دھماکوں کی آوازیں سننے اور ڈرون دیکھنے کی اطلاعات بھی دیں۔
اے ایف پی کے ایک صحافی نے دیکھا کہ دارالحکومت کی گلیوں میں متعدد سکیورٹی فورسز الرٹ تھیں اور کاروں کی تلاشی لی جا رہی تھی۔ ۔ کئی محلوں میں موبائل فون سروس بھی بند رہی۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے بتایا کہ پہلا دھماکا عبدالحق سکوائر کے علاقے میں کئی وزارتوں اور قومی انٹیلی جنس ایجنسی کے دفاتر کے قریب ہوا، جبکہ کابل کے رہائشیوں نے شہر کے شہر نو محلے میں ایک اور دھماکے کی آواز بھی سنی، جس کی تصدیق نہیں کی جا سکی۔
امریکہ کی افغانستان میں سابق سفیر زلمی خلیل زاد نے بھی اپنے ایکس اکاؤنٹ پر جاری ایک پیغام میں سوالیہ انداز میں بتایا ہے کہ کیا پاکستان نے کابل میں بمباری کی ہے جس میں کہا جا رہا ہے ٹی ٹی پی کے مفتی نور نور علی کو مبینہ طور پر مار دیا ہے۔
پیغام میں مزید لکھا گیا ہے کہ ابتدائی معلومات شاید غلط ہوں لیکن جنگ کی فضاو قائم ہوگئی ہے۔
Did #Pakistan attack Kabul this evening local times? Was the objective to kill Mufti Noor wali( an alleged TTP leader)? Fog of war, initial reports may be inaccurate. #Afghanistan
— Zalmay Khalilzad (@realZalmayMK) October 9, 2025
مفتی نور ولی کی دھماکے میں مارنے کی ابھی تک کابل حکومت یا پاکستان نے تصدیق نہیں کی ہے اور آزاد ذرائع سے بھی ابھی تک اس کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
ٹی ٹی پی کے اہم لیڈر کا جان سے مارا جانا اور کابل پر فضائی حملوں سے متعلق افواہیں حال ہی میں پاکستان میں پے در پے پونے والے سکیورٹی فورسز پر حملوں کے تناظر میں پھیلنے کا امکان ہے۔
بدھ کو پاکستان کے قبائلی ضلع اورکزئی میں عسکریت پسندوں کی فائرنگ سے دو افسران سمیت 11 فوجی اہلکار جان سے گئے، جبکہ جمعرات کو جعفر ایکسپریس پر کچھ ہی عرصے میں تیسرا حملہ ہوا۔
گذشتہ کچھ سالوں سے پاکستان کے صوبوں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سکیورٹی فورسز پر حملوں میں تیزی آئی ہے، جو اسلام آباد کے مطابق کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچ عسکریت پسند تنظیموں (بی ایل اے وغیرہ) کے کام ہیں، جبکہ مذکورہ تنظیمیں کئی واقعات کی ذمہ داری بھی قبول کر چکی ہیں۔
پاکستان الزام لگاتا ہے ان تنظیموں کے رہنما افغانستان میں موجود ہیں اور اس سلسلے میں کابل کو مذکورہ عسکریت پسند گروہوں اور ان کے لیڈروں کے خلاف کارروائیوں کا مطالبہ بھی کیا جا چکا ہے۔
تاہم کابل میں افغان طالبان انتظامیہ اسلام آباد کی جانب سے ان الزامات کی تردید کرتی رہی ہے۔



