
میرے صبر کا پیمانہ بس اب چھلکنے کو ہی ہے، میرا دل اپنوں کی شقاوت سے پارہ پارہ ہونے کو ہے۔کیا کوئی کسی کے ساتھ یوں بھی کرتا ہے؟ ایک ایسا جرم جو مجھ سے سرزد نہیں ہوا اور نہ ہی میں اس میں خود کو کسی بھی طرح کا حصہ دار سمجھتا ہوں، اس کی سزا مجھے کیوں مل رہی ہے یہ سوچ سوچ کر میرا دماغ شل ہو چکا ہے۔ پہلے مجھے محسوس ہوا کہ یہ میرا وہم ہے مگر جلد ہی مجھے یہ باور کرایا گیا کہ یہ ایک تلخ حقیقت ہے۔ مجھ سے سب کھلے بندوں قطع تعلق کر چکے ہیں، کوئی مجھ سے بات تک کرنے کا روادار نہیں ہے۔ ستم بالائے ستم اگر گھر میں دو چار افراد محوِ گفتگو ہوں اور میں غلطی سے وہاں چلا جاوں تو یکدم سناٹا چھا جاتا ہے جیسے میں کوئی بھوت پریت ہوں جس کو دیکھ کر سب کو سانپ سونگھ جاتا ہے۔ میں نے غلطی سے مخل ہونے کی بات اس لیے کی کیونکہ مجھے غیر اعلانیہ طور پر ایک کمرے تک ہی محدود کر دیا گیا ہے جہاں میرے پاس کوئی نہیں پھٹکتا اور میرے اپنے گھر کے اندر میری آمدورفت کو بھی ناگوار سمجھا جاتا ہے۔خاندان بھر میں ہونے والی تقریبات سے مجھے لاعلم رکھا جاتا ہے اور اگر گھر والے کسی تقریب میں جائیں تو مجھے لے جانا تو درکنار مجھ سے پوچھا تک نہیں جاتا۔ ایک پرانے ملازم کے حوالے کر کے سب چلے جاتے ہیں اور مرکزی دروازے کو مقفل کر دیا جاتا ہے جیسے میں موقع ملتے ہی بھاگ نکلوں گا۔ایسے عالم میں تو بھاگ جانے کے علاوہ کوئی اور دوسرا راستہ بھی سجھائی نہیں دیتا مگرمجھے خوف ہے کہ میں بھاگ کر جہاں بھی جاوں گا وہاں مجھ سے ایسا ہی ناروا سلوک روا رکھا جائے گا کیونکہ میں جہاں بھی جاوں گا وہ جرم بھی میرے ساتھ ساتھ چلے گا جو میں نے کیا ہی نہیں۔
سب گھر والوں کے کسی تقریب میں جانے کے بعد وہ ملازم بھی مجھے شکل دکھانے تک کا روادار نہیں ہوتا۔ ایک دفعہ میں نے ملازم کے اس رویے کی شکایت بھی مگر مجھے یہ روکھا سا جواب ملا کہ اُس نے کہاں جانا ہے، ادھر ہی ہوتا ہے۔ گویا میری بات کی سرے سے کوئی اہمیت ہی نہیں۔ میرا جرم ہی ایسا ہے مگر مجھے یہ بات کہنے میں کوئی باک نہیں یہ جرم میں نے دانستہ حتی کہ نادانستہ طورپر بھی نہیں کیا پھر مجھ سے سب کی کنارہ کشی مجھے بے حد چھبتی ہے۔ میں کرونا جیسی کسی وبا میں مبتلا ہوں اور نہ ہی ایڈز جیسے کسی موذی مرض کا شکار ہوں۔ سب مجھ سے ایسے دور بھاگتے ہیں جیسے میں مرض الموت میں مبتلا ہوں اور جیسے ہی کوئی میرے سامنے آیا وہ بھی اس ناگہانی آفت کی لپیٹ میں آجائے گا۔ سب نے مل کر مجھے تنہائی کے ایک عمیق کنویں میں دھکیل دیا ہے۔ اب میں ان کو کیسے یہ سمجھاوں کہ اس جرم سے میرا کوئی لینا دینا نہیں۔ یہ تو میرے خلاف کوئی سازش لگتی ہے لیکن اس میں میں کیا کر سکتا ہوں۔ شکر ہے کہ میری ہڈی پسلی سلامت ہے اور کوئی جسمانی معذوری بھی نہیں ورنہ تو میرا جینا اور بھی دوبھر ہو جاتا لیکن میں نے چل کر جانا بھی کہاں ہے جب میرے اردگرد ایسے حالات ہوں اور اپنے گھر والوں کا ایسا رویہ ہو تو غیروں سے کسی اچھے سلوک کی توقع عبث ہے۔
میری منشا قطع یہ نہیں ہے کہ میں کھانا کسی فرد کے ساتھ ایک پلیٹ میں کھاوں، یہ توکھانے کے آداب اور تہذیب کے خلاف ہے اگر آپ دوسرے شخص سے انسیت اور اس کی رضا کے بغیر ایسا کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو کوئی بھی اس امر کو پسند نہیں کرے گا۔ میں باقی لوگوں کے ساتھ بالکل جڑ کر بیٹھنے کا بھی نہیں سوچتا اگرچہ اپنے ہی گھر کے افراد کے ساتھ ایسی قربت کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے مگر میں گھر میں موجود افراد کو کسی طرح کی تکلیف نہیں دینا چاہتا۔ مجھے دوسروں پر اپنی رائے مسلط کرنے کا بھی کوئی شوق نہیں کہ جس کی وجہ سے میرے اپنے مجھے سے کنی کتراتے ہوں۔ میں تو ہمیشہ اگلے بندے کی بات کو مقدم گردانتے ہوئے حتی الوسع اختلاف سے گریز کرتا ہوں چاہے وہ بات میرے اپنے ہی اصولوں کے خلاف کیوں نہ ہو۔ البتہ اگر کوئی اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہے تو میں نرمی سے اپنی بات اس کے گوش گزار کرنے کی کاوش ضرور کرتا ہوں تاکہ کسی کو ناگوار نہ گزرے یا میں موضوع ہی تبدیل کردیتا ہوں تاکہ نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری۔ ان شخصی اوصاف کے باوصف ایک ایسے جرم کی پاداش میں مجھے اذیت دی جارہی ہے جس کے سرزد ہونے میں میرا بالکل بھی کوئی ہاتھ نہیں بلکہ میں نے تو ہمیشہ اس سے بچنے کی تگ ودو کی۔
مجھے کوئی ایسا راشی سرکاری افسر بھی نہ سمجھا جائے جو ساری زندگی حرام کمانے کے بعد نوکری کے اواخر دنوں میں دھر لیا جائے اور جیل کاٹنے کے بعد سزا کا کلنک ماتھے پر سجائے معاشرے میں دوبارہ معتبر بننے کی جدوجہد میں مصروف ہو۔ اس جیسے شخص کے گھروالے بھی شاید اس سے ایسا سلوک نہ کریں کیونکہ انہی افراد کے آرام و آسائش کی خاطر اس نے یہ بدنامی مول لی۔ میری تو پھر بھی اس جرم میں کوئی حصہ داری نہیں۔ میرے بارے میں اتنا کچھ جاننے کے بعد میری صحیح الدماغی توآپ پر واضح ہو ہی چکی ہو گی کہ کوئی حواس باختہ یا پاگل آدمی نہیں ہوں کہ جس سے سب یوں دور بھاگیں۔ ذہنی صحت کی سند لینے کی مجھے ضرورت اس لیے بھی نہیں کیونکہ میں اپنے اردگرد سے اچھی طرح باخبر ہوں، اپنے تمام ضروری امور سے بخوبی عہدہ براء ہوتا ہوں اور اپنوں کے بدلتے رویوں سے بھی مجھے بالکل ٹھیک شناسائی ہو چکی ہے۔
اب شاید یہ تاثر ابھرے کہ میں کوئی سخت مزاج کا خرانٹ طبع آدمی ہوں جس کی شدید غصیلی طبیعت اور اکڑ پن کی وجہ سے کوئی اس کے پاس نہیں منڈلاتا۔ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔ میں کوئی سنکی طبیعت کا چڑچڑا شخص بھی نہیں ہوں۔ اپنوں کی بے زاری کے باوجود میں لبوں پر مسکراہٹ سجائے، چہرے پر نرمی لیے اور جسم کو ڈھیلا ڈھالا چھوڑ کر ملنے کی کوشش کرتا ہوں مگر حیرت انگیز بات یہ ہے کہ کوئی بھی میری اس شائستگی اور تہذیب کو خاطر میں نہیں لاتا اور میرے پہنچتے ہی سب یوں تتر بتر ہو جاتے ہیں جیسے کبوتروں کے غول میں بلی کو دیکھتے ہی پریشان کن ہلچل مچ جاتی ہے اور وہ سب کے سب دیکھتے ہی دیکھتے اُڑن چھو ہو جاتے ہیں۔ مجھے دیکھ کر کسی کو ضروری فون کرنا یاد آجاتا ہے، کوئی پڑھائی کا بہانہ بنا کر نکل جاتا ہے، کسی کو لگتا ہے کہ دروازے کی اطلاعی گھنٹی بجی ہے اور جس کو کوئی اور بات نہیں سوجھتی اسے حوائج ضروریہ کی احتیاج ہونے لگتی ہے اور یوں چند ہی لمحوں میں وہاں میں اپنی دیرینہ ساتھی تنہائی کے ساتھ کھڑا ہوتا ہوں۔
ایک اور اہم بات بھی بتاتا چلوں کہ اسی جرم میں شراکت کاری کے خاموش الزام کے تحت میری شریکِ حیات دردانہ کو بھی مجھ سے الگ کر دیا گیا۔ہم دونوں چاہنے کے باوجود بھی ایک ساتھ نہیں رہ سکتے۔وہ ایک میری واحد ہمدم و ہمراز ہے جو میری کیفیت سے اچھی طرح آشنا ہے بدقسمتی یہ ہے کہ وہ چاہنے کے باوجود میری مدد کرنے سے قاصر ہے۔ مجھے بھی اس حقیقت کا بخوبی ادراک ہے کہ مجھے فون پر تسلیاں دیتے ہوئے اُس کی آنکھوں سے آنسو گر رہے ہوتے ہیں اگرچہ وہ کبھی بھی اس بات کا اقرار نہیں کرتی۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ فون بند ہوتے ہی وہ زاروقطار روتی ہے مگر دوبارہ جب بھی بات ہوتی ہے تو وہ خوش وخرم رہنے کی اداکاری کرتی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ وہ بالکل بھی اچھی اداکارہ نہیں ہے۔ کچھ عرصہ سے یہ عالم ہے کہ اب تو ہماری خال خال ہی فون پر بات ہوتی ہے۔
چلیے میں آپ کو اُس جرم کی بابت بتا دیتا ہوں، فیصلہ آپ کے ہاتھوں میں ہے۔آپ ہی انصاف کیجیے کہ اگر میری عمر پچھتر برس ہو چکی ہے تو میرے اس ” ناکردہ جرم” کا سزاوار کون ہے؟




