اُردو ادبافسانہ

ایک ذات / کرن نعمان

” ہیلو ، سنو ، ذرا میرا ہاتھ تھامنا”.
ایک انجانی آواز پر میں نے پلٹ کر دیکھا تو وہ گھنگریالے بالوں والی ،پستہ قد، پولیو کی مریضہ میری طرف ہاتھ بڑھائے کھڑی تھی ۔ میں نے جلدی سے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور دوسرا ہاتھ اس کے کاندھے پر رکھا ۔ وہ ایک دم کھل سی گئی ۔ یوں جیسے اسے کسی اپنے کا سہارا مل گیا ہو ۔ اسے میں بازو کے حصار میں لیے کاؤنٹر کے قریب چلی آئی لیکن پھر میں نے سوچا کہ یہ کس طرح اتنی تکلیف میں پرچی بنوائے گی ۔ وہ لگ بھگ پچاس کے قریب کی عورت تھی ۔ میں نے اسے ایک پلر کے ساتھ کھڑا کیا اور خود اس کی پرچی بنوا لائی ۔ اس کے ہونٹوں سے بہت ساری دعائیں ایک ساتھ نکلنے لگیں ۔ میں نے آذر سے پرچی بنوانے کا کہا اور اس عورت کو اپنے ساتھ لگائے اس کے مطلوبہ ڈاکٹر کے کمرے تک آگئی ۔ بیچ راستے میں اس نے مجھے بتایا کہ آج کل اس کے پیروں میں شدید قسم کی ٹیسیں اٹھنے لگی ہیں اسی کے علاج کی خاطر وہ ہسپتال آئی ہے ۔ کمرے میں سوائے ایک ورڈ بوائے کے اور کوئی نہ تھا ۔ ایئر کنڈیشن کی ٹھنڈک سے کمرہ بھرا ہوا تھا ۔ ڈاکٹر کے آنے میں ابھی کچھ دیر تھی ۔ اندر موجود وارڈ بوائے سے میں نے کہا
” ان خاتون کو یہاں بیٹھنے دو”
لیکن وہ نہیں مانا کہنے لگا
” ڈاکٹر صاحب برا مانیں گی۔ آپ باہر چلی جائیں ہم اندر نہیں بٹھا سکتے ”
میں نے اس سے بہت کہا کہ ان کو چلنے میں بہت مشکل ہے ان کی تکلیف کا خیال کرو لیکن اس نے کسی صورت اس عورت کو اندر بیٹھنے نہیں دیا مجبوراً مجھے ڈاکٹر کے دروازے کے باہر رکھی بینچوں پر ہی اس عورت کو بٹھانا پڑا ۔ وہ قدم قدم پر مجھے دعائیں دیتی رہی ۔ واپس پلٹتے اس نے میرا ہاتھ پکڑ کر روکا اور کہنے لگی
میرا نام شاہین ہے ۔میں اس دنیا میں تنہا ہوں میرے لیے دعا کرنا ۔”
میں نے مسکراتے ہوئے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا
"اس دنیا میں سب تنہا آتے ہیں اور تنہا ہی چلے جاتے ہیں حوصلہ کرو ، اللہ تعالیٰ بہتر کریں گے ”
یہ کہہ کر میں اپنے بیٹے آذر کے پاس چلی آئی ۔ وہ پرچی بنوا چکا تھا مگر ڈاکٹر کے آنے کا ٹائم ڈیڑھ گھنٹے بعد کا تھا سو ہم انتظار گاہ میں بیٹھ کر ہلکی پھلکی باتیں کرنے لگے ۔ کچھ دنوں سے اسے سانس لینے میں دشواری محسوس ہورہی تھی اس لیے میں آج اسے اپنے ساتھ ہاسپٹل لے آئی تھی ۔ اپنے آس پاس چلتے پھرتے بیمار اور زخمی لوگوں کو دیکھ کر میں نے آذر سے کہا
” دیکھو بیٹا دنیا کتنی دکھی اور پریشان ہے ”
وہ بھی شاید یہی محسوس کر رہا تھا
” جی امی اگر ہم ہاسپٹل نہ آئیں تو ہمیں اس بات کا احساس ہی نہ ہو ”
انتظار کے دوران میرا دھیان شاہین کی طرف ہی لگا رہا ۔ آدھے گھنٹے بعد وہ مجھے ڈاکٹر کے کمرے سے باہر آتی دکھائی دی میں نے آذر سے کہا
” بیٹا میں ذرا اس عورت کا حال پوچھ کر آتی ہوں ۔”
اس کی بےچین نگاہوں کو شاید میری ہی تلاش تھی اس لیے مجھے دیکھتے ہی وہ کھل کر مسکرائی ۔
” ارے میں سوچ ہی رہی تھی کہ تم تک کیسے پہنچوں گی اور تم آگئیں ، یقین جانو تمھارے قدم بہت مبارک ہیں ڈاکٹر نے میری فیس مجھے واپس لوٹا دی اور ڈھیر ساری دوائیاں بھی مجھے منگوا دیں بہت پیاری ڈاکٹر تھی ۔ اسے دیکھ کر احساس ہوا کہ انسانیت اب بھی زندہ ہے”
میں نے کہا
” یہ تو بہت اچھا ہوگیا ”
وہ کہنے لگی
” ہاں نا اگر وہ میرے پیسے نہ لوٹاتی تو میرے لیے گھر جانا مشکل ہوجاتا ۔”
اس کی اس بات پر میرا ماتھا ٹھنکا کہ کہیں اب یہ مجھے اپنی غربت کے قصے سنا کر پیسے ہی نا مانگنا شروع کر دے ۔ ایک لمحے کو مجھے اپنی اس سوچ پر شرمندگی بھی ہوئی لیکن کیا کریں وقت ہی ایسا آگیا ہے کہ اب ہر شخص صرف دوسرے کی جیب سے مال نکلوانے کی فکر میں دکھائی دیتا ہے ۔ وہ شاید لوگوں کی توجہ کو ترسی ہوئی تھی تبھی میری ذرا سی توجہ پا کر اپنا دل میرے سامنے کھول بیٹھی ۔
"جانتی ہو ، میرے بھائی کا ایک پیر امریکہ میں اور ایک پاکستان میں ہوتا ہے ان کے دو بچے ہیں وہاں پر بس میری ایک بڑی بھتیجی یہاں ہے ۔ لاکھوں کروڑوں میں کھیلتے ہیں بھائی لیکن میرے لیے دو ہزار نہیں دینے دیتی بھابی ۔ ”
مجھے اس کی بات سن کر افسوس ہوا
” کیا کام کرتے ہیں تمھارے بھائی ”
وہ میری بات سن کر ہنس دی
” پیر ٹائپ ہیں ”
اب اس کی بات سن کر میں ہنس دی
” پیر ٹائپ ؟ ۔ یہ پیر ٹائپ کیا ہوتا ہے ”
” ارے اب کیا بتاؤں کیسے پیر ہیں وہ ۔ داڑھی نہیں ہے ان کی پھر بھی سینکڑوں مرید ہیں ان کے ۔ ڈیفینس کے بنگلے میں بڑے بڑے امیر ، اعلیٰ عہدیدار اور بڑے پڑھے لکھے لوگ ان کا درس سننے آتے ہیں ۔ اس سال بارہ ربیع الاول پر بھائی نے قوالی نائٹ کروائی تو روپوں کی بجائے ڈالر نچھاور کیے قوالوں پر ۔ ”
چند لمحوں کو مجھے وہ کوئی کھسکی ہوئی عورت لگی لیکن پھر میں نے سوچا نفسا نفسی کے اس دور میں کچھ بھی بعید از قیاس نہیں ہے آج کل ماڈرن پیر فقیر بہت سننے میں آتے ہیں
وہ کہنے لگی
"دیکھو کتنے امیر ہیں بھائی لیکن بہن تنہا ایک فلیٹ میں جی رہی ہے ۔ بھابی انھیں میرے گھر تک نہیں آنے دیتیں صرف اس لیے کہ میرا فلیٹ ان کے شایان شان نہیں ہے ۔”
مجھے حیرت ہوئی کہ ایک پولیو کی مریضہ بالکل تنہا کیسے رہتی ہوگی ۔
” کیسے آئی ہو یہاں تک”
” وہ مجھے میرے پاس پڑوس والے چھوڑ گئے ہیں. اچھے لوگ ہیں لیکن ظاہر ہے اتنا وقت تو کسی کے پاس نہیں ہے کہ میرے ساتھ ہسپتالوں میں دھکے بھی کھاتا رہے۔میری بھتیجی آتی ہے اکثر یہاں لیکن جب ماں باپ ہی خیال نہیں کرتے تو ان کی اولاد کیوں کرے گی ۔ جنوں کی کمائی سے بھائی کا پورا خاندان فیض اٹھا رہا ہے مگر بس اپاہج بہن کے لیے ہی کچھ نہیں ہے ”
مجھے اس کی دماغی حالت پر شبہ سا ہوا میرے لبوں پر دھیمی سی مسکراہٹ دیکھ کر وہ بولی
” ہاں ہاں میرا یقین کرو ۔۔۔ میں سچ کہہ رہی ہوں ۔ بھائی کے قبضے میں جن ہیں ایسے ہی تو اتنے بڑے بڑے لوگ ان کے مرید نہیں ۔ یہ بات میرے شوہر نے بھی مجھے بتائی تھی ”
اس کی باتوں میں میری دلچسپی بڑھ گئی تھی
” تمھارے شوہر ان کے مرید تھے ”
میری بات سن کر اس کے لبوں سے حسرت بھری آہ نکل گئی
"مرید تھے تبھی تو مجھ جیسی کم صورت اور کم حیثیت عورت کو اپنا لیا ورنہ اتنے مرتبے والا شخص کیسے مجھے قبول کرتا ۔ یقین کرو میرے شوہر بے حد حسین انسان تھے ”
” کیا ہوا تھا انھیں ”
مجھے لگا تھا کہ شاید اس کے شوہر کا انتقال ہو چکا ہے
” کچھ بھی نہیں ، بس وہ چاہتے تھے جیسے انھوں نے میرے سلسلے میں بھائی کی مانی ہے تو اب بھائی اس کی ہر جائز ناجائز مانتے چلے جائیں ”
اس کے چہرے پر ایک دردناک کرب کا سایہ پھیل گیا
” بھلا بھائی کو کیا پڑی تھی کہ وہ ایک مرید کی خاطر دوسرے مالدار اور اعلیٰ عہدوں پر فائز مریدوں کو ناراض کرتے سو بس چھ ماہ بعد ہی انھوں نے مجھے فارغ کردیا ۔ اب بھلا کون اتنا حسین اور امیر مرد مجھ سے شادی کرے گا۔۔ ہیں نا ۔۔۔ نہیں کرے گا نا ”
اس کے اس طرح پوچھنے پر ایک غم کا گولہ میرے حلق میں اٹک گیا ۔ کچھ دیر بعد وہ خود ہی بولی
” ویسے کر بھی سکتا ہے ۔ آخر بھائی اتنے مرتبے والے ہیں وہ چاہیں تو پھر مجھے آباد کرواسکتے ہیں ۔ ” یہ کہہ کر وہ کھسیانی سی ہنسی ہنس دی
” تم۔ بھی سوچو گی کہ یہ اجنبی عورت مجھ سے کیسی کیسی باتیں کر رہی ہے ۔ یقین جانو میں ہر کسی سے یہ باتیں نہیں کرتی لیکن بس نجانے کیوں تمھارے ساتھ میرا دل مل گیا ہے ۔ یہ دل کے ناسور ہوتے ہی ایسے ہیں جہاں ذرا سی بھی چوٹ لگے وہیں بہنا شروع ہو جاتے ہیں ۔ بس میں تو یہ چاہتی ہوں کہ کوئی میرا پرسان حال ہو ۔ میرے اپنے ہی میرا خیال کریں ”
یہ کہہ کر وہ کچھ جھنجھلا سی گئی ۔
” لیکن وہ میرا خیال نہیں کرتے ، تم ہی بتاؤ آخر کیوں نہیں کرتے وہ میرا خیال”
میں اس کی ان باتوں کا کیا جواب دیتی ۔ میں نے اپنا بازو اس کے کاندھے کے گرد پھیلا لیا تو وہ بھی میرے کچھ اور قریب کھسک آئی
” اللہ پر یقین رکھو ، آج جو وہ تمھارے ساتھ کر رہے ہیں ایک دن ضرور اس کا صلہ پا لیں گے”
میری بات سن کر اس نے ایک ٹھنڈی سانس بھری
” کاش ایسا ہی ہوگیا ہوتا ”
میں ابھی اس کی بات پر غور کر ہی رہی تھی کہ وہ بول اٹھی
” ارے وہ دیکھو ، میری بھتیجی آگئی”
میں نے دیکھا تو کچھ دور ہسپتال کی پارکنگ میں ایک چمچماتی لینڈ کروزر سے ایک پچیس چھبیس سالہ لڑکی ڈرائیور کی مدد سے اتر رہی تھی ۔ وہ دو قدم آگے آئی تو مجھے پتہ چلا کہ وہ پولیو کی مریضہ ہے اسی لمحے میرے کانوں میں شاہین کی آواز آئی
” دیکھا ، پھوپھی بھتیجی ایک ذات ہوتی ہیں نا”

Author

1 1 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x