اُردو ادباُردو شاعرینظم
دفن ہونے کے لیے زمین ضروری نہیں / ثبات گل
دفن ہونے کے لیے زمین ضروری نہیں
چار دیواریں،
ایک میز اور چائے کا ٹوٹا کپ
نیلے وجود کی
غم شناسی کا بوجھ سہہ رہے ہیں
اپنے خوابوں کی تدفین کے لیے
دل کا بے حس ہونا ضروری ہے،
سمجھوتوں کی دلدل سے بچ نکلیں
تو
کئی آنکھوں کے تہہ خانوں
اور
دلوں کے سرد خانوں میں
ہماری لاشیں بے گور و کفن پڑی رہ جاتی ہیں
زمین زادوں کے دکھ لکھتے لکھتے،
فرش قلم سے گرے
سیاہی کے چھینٹوں سے بھر رہا ہے
چار دیواری میں پھیلی بے گھری،
رگوں میں بسی وحشت،
،آباد چہرے پہ چھائی مردنی
کب تک زندگی کا بوجھ اٹھا سکتی ہے؟
کسی سینے پہ سر رکھے
میں اپنے دل کی دھڑکن سننے کی کوشش کر رہی ہوں
مگر اے خدا!
کہ جو میرا رب کریم ہے
تُو جانتا ہے
دفن ہونے کے لیے زمین اتنی ضروری نہیں
جتنی زندگی گزارنے کے لیے ایک محبت!




