اُردو ادبافسانچہخبریں

خوشبو / شہناز نقوی

فجر کی اذان کے وقت وہ گھر سے نکل جاتا یہ اس کا معمول تھا. گزشتہ دو تین دن سے گھر میں تقریباٰ فاقے کا سماں دوشالہ اوڑھے بیٹھا تھا. اسکے بچے زیادہ وقت کھیل کود میں گزار دیتے اور تھکے ہارے گھر آ کر مکئ کے بھنے دانے کھاتے اور پانی پی کر سو جایا کرتے.ان چار بچوں میں اس کی بڑی بیٹی اکثر قریب ہی ایک گھر کے کونے میں جا کر بہت دیر کھڑی ہو جایا کرتی. آج وہ جلدی گھر واپس آ گیا آج بھی اسے کوئی کام نہ ملا وہ گھرجہاں وہ اکثر جا کر کھڑی ہوتی وہ گھر محلے کے بدنام لوگوں کے حوالے سے مشہور تھا اس نے وہاں بیٹی کو اکیلے کھڑے دیکھا توطیش میں آ کر اپنے خالی ھاتھ اس معصوم کے رخساروں پر جڑ دئیے
تم یہاں اکیلی کیا کر رہی ہو
وہ غصے سے چنگھاڑا
با با
” میں تو صرف اس گھر سے کھانے کی خوشبو سونگھ ریی ہوں ”
اس نے معصومیت سے جواب دیا
۔۔۔۔۔۔۔
شہناز نقوی

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x