اُردو شاعریغزل
غزل :مرا جام ِ ندامت بھر گیا تھا / ثمینہ ناز طاہر

غزل
ثمینہ ناز طاہر
وہ مجھ کو چھوڑ کر جب گھر گیا تھا
مرے اندر کا شاعر مر گیا تھا
اسے کچھ آگہی ایسی ہوئی تھی
وہ اپنی زندگی سے ڈر گیا تھا
میں جس الزام سے بچتی رہی تھی
وہی الزام میرے سر گیا تھا
ہے میرے چار سو دولت دکھوں کی
وہ میرے نام سب کچھ کر گیا تھا
اسے آسیب ایسا عشق کا تھا
وہ اپنے آپ سے ہی ڈر گیا تھا
کبھی میری طرف آیا نہیں تھا
مگر اس کی گلی اکثر گیا تھا
وہ جب رخصت ہوا تو بار ِِ وحشت
مری دہلیز پر ہی دھر گیا تھا
مری آنکھوں کے دریا خشک تھے پر
مرا جام ِ ندامت بھر گیا تھا




