غزل

غزل /اب یاد نہیں کیسے خدوخال تھے اس کے/ممتاز گورمانی

غزل 

ممتاز گورمانی 

سورج سے فقط ایک ہی جھگڑا ہے ہمارا

ہر شام کو دن ہارنے لگتا ہے ہمارا

.

اب یاد نہیں کیسے خدوخال تھے اس کے

دنیا سے بہت دُور کا رشتہ ہے ہمارا

.

حوران ِ بہشت ہم کو بھلے منہ نہ لگائیں

دو چار حسیناؤں میں چرچا ہے ہمارا

.

کہتے ہو کہ اُس سمت نہیں جانا، مرو گے

تم جس سے ڈراتے ہو وہ رستہ ہے ہمارا

.

وہ شوخ بڑے فخر سے کہنے لگی اک دن

یہ رنگ ِ تغزل بھی تو صدقہ ہے ہمارا

.

تم جان سے جاؤ گے تو احسان کروگے؟ 

اتنا تو شب و روز کا خرچہ ہے ہمارا

.

ہوتی ہے نظر جیسے شکاری کی ہدف پر

اس طرح تو دھیان آپ نے رکھا ہے ہمارا

.

ہم دیکھتے رہتے ہیں کہ اک بار وہ دیکھیں

دل تیر سے خود جا کے گزرتا ہے ہمارا

 

ہم لوگ ہیں متروک صحیفوں کے سپارے 

پڑھتا ہی نہیں کوئی ، یہ نوحہ ہے ہمارا

 

زندہ ہیں کہ مردود ِفنا ہیں، ترے کیا ہیں؟ 

جیتے ہیں مگر، جی نہیں لگتا ہے ہمارا 

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x