اُردو ادبافسانہ

خدا کے ہوتے ہوئے/عشرت معین سیما

“چاروں طرف گھپ اندھیر تھا اور میں دوڑے چلی جارہی تھی۔۔۔ ننگے پاؤں اور ننگے سر ۔۔۔ پھٹے کپڑوں میں ۔۔۔ میرا جسم کانپ رہا تھا لیکن اُس وقت سوائے اندھا دھند بھاگنے کے مجھے کچھ نہیں سُجھائی دے رہا تھا۔۔۔ مجھے اپنی عزت بچانی تھی ۔۔۔ اپنی جان بچانی تھی”
اتنا کہہ کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ میں اس کو کیسے تسلی دوں۔ اس کی حالت دیکھ کرگرچہ میرا دل پسیج گیا تھا لیکن میں اپنے سرکاری ادارے سے وفاداری اور اس کیس سے اپنی غیر جانب داری دکھاتے ہوئے خاموش رہی اور وہاں رکھی شیشے کی بوتل سے کاغذی آب خورے میں پانی انڈیل کی اس کی طرف بڑھایا۔ اس نے میری جانب دیکھے بغیر پانی ہاتھ بڑھا کر لے لیا۔ چند لمحوں بعد میں نے سپاٹ انداز میں میز پر رکھے کاغذی رومال کے ڈبے سے ایک رومال کھینچ کر نکالا اور اسے پیش کیا جو اس نے بغیر کسی حجت کے تھام لیا اور ہلکی آواز میں دوبارہ گویا ہوئی،
“ شکریہ ! دراصل ۔۔۔ میں جب بھی وہ وقت یاد کرتی ہوں تو میرے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔۔۔ مجھے لگتا ہے کہ جیسے وہ ابھی بھی میرے پیچھے کہیں میری تلاش میں آرہے ہیں۔۔۔ بالکل اُس رات کی طرح ۔۔۔
وہ اٹک اٹک کر بول رہی تھی۔ میرا تجسس بڑھ رہا تھا۔ میں نے اس کے خاموش ہوتے ہی بے صبری سے پوچھا۔
“ جی ! بتائیے پھر کیا ہوا؟ آپ اس مکان سے نکل کر کہاں پہنچیں؟
“ شاید وہ کھڑی فصل سے بھرا کھیت تھا۔۔ یا کوئی جنگل تھا ۔۔۔ مجھے اندازہ نہیں کہ میں کہاں پہنچ گئی تھی۔ میرے پاؤں زخمی تھےلیکن پھر بھی میں لڑکھڑاتی ہوئی بھاگ رہی تھی، وہ لوگ اسلحہ بردار تھے۔۔۔ انہوں نے سارا علاقہ گھیرا ہوا تھا سب جگہ آگ کے شعلے بھڑک رہے تھے ۔۔۔سُنا تھا کہ انہوں نے دوسرے شہروں میں ہسپتالوں اور اسکولوں کو پہلے ہی بم دھماکوں سے اُڑا دیا تھا،اب وہاں کوئی جگہ محفوظ نہیں تھی ۔۔۔ انہوں نے ہمارے گھروں کو بھی آگ لگا دی تھی ۔۔۔ وہ لوگ ہمارے علاقے کے ایک ایک شخص کو گولیوں سے بھون کر مار رہے تھے۔۔۔ انہوں نے ہمارے گھر میں بھی گھُس کر میرے باپ اور نوجوان بھائی کو بھی نہ جانے کتنی گولیاں مار کر ہلاک کردیا ۔۔۔ اور میری ماں کی میرے سامنے ۔۔۔۔آہ! میرے ابو۔۔۔ میری امی ۔۔۔ میرا بھائی !!!
وہ پھر رونے لگی، اس کی ہچکیاں بندھ گئی تھیں۔ میں نے خاموشی سے اس کو کچھ دیر رونے دیا پھر ایک اور کاغذی رومال ڈبے سے نکال کر اس کی طرف بڑھایا اور سوالیہ انداز میں اس کی جانب دیکھتے ہوئے کہا
“ پھر ۔۔۔ کیا ہوا ؟ ۔۔۔آپ وہاں سے نکل کر کہاں گئی تھیں۔۔۔ آپ بیان دیتے ہوئے بار بار لوٹ کر اپنے گھر کی جانب چلی جاتی ہیں۔۔۔۔ آپ تیسری مرتبہ یہ باتیں دہرا رہی ہیں ۔۔۔ آپ بتا چکی ہیں کہ اُن لوگوں نے آدھی رات کو آپ کے علاقے اور آپ کے گھر پر حملہ کیا تھا، آپ کے والدین اور بھائی سمیت آپ کو تشدد کا نشانہ بنایا اور آپ کی نظروں کے سامنے آپ کے والد اور بھائی کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔۔۔ آپ کی والدہ کی جسمانی تلاشی لینے کے بہانے جنسی بدسلوکی کی گئی اور آپ یہ منظر دیکھ کر بے ہوش ہوگئی تھیں۔ کچھ دیر بعد جب ہوش آیا تو آپ اپنے گھر میں نہیں تھیں بلکہ ایک ویران کھنڈر نما مکان میں تھیں۔ شاید وہ لوگ آپ کو اپنے ساتھ اٹھا لائے تھے۔ لیکن آپ وہاں قید نہیں تھیں اور نہ ہی کوئی شخص آپ کی پہرہ داری پر تھا ۔۔۔ اسی لیے آپ نے اندھیرے میں موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہاں سے فرار کی راہ تلاش کی اور بھاگ کر جنگل یا کھیتوں میں پہنچ گئیں ۔۔۔ میں جاننا چاہتی ہوں کہ اُس کے بعد کیا ہوا؟ آپ کس طرح اِس ملک تک ۔۔۔ یہاں اِس شہر تک پہنچیں ؟
اُس لڑکی نے خجالت سے میری طرف دیکھا اور گویا ہوئی
“ میڈم ! میں معذرت خواہ ہوں۔۔۔ آپ پوچھئے جو پوچھنا چاہتی ہیں”
مجھے اس کی بات پر غصہ آگیا مسلسل ڈیڑھ گھنٹے سے میں یہی پوچھ رہی تھی کہ وہ کھیت یا جنگل سے نکل کر کہاں گئی اور کیسے یہاں تک پہنچی مگر وہ ہر بار اپنے فرار ہونے کی داستان جنگل یا کھیت تک لاکر خاموش ہوجاتی، رونے لگتی یا اپنے والدین اور بھائی کو یاد کرکے بین کرنا شروع کردیتی اور میں اس کو وہاں روک کر جب بات چیت شروع کرتی تو اطمنان سے آنسو صاف کرکے یہی کہتی کہ میڈم معذرت آپ سوال پوچھیں۔۔۔ اور میرے سوال کرتے ہی وہ دوبارہ جنگل یا کھیت کے ویرانے اور اندھیرے میں گُم ہوکر واپس اپنے گھر پہنچ جاتی اور گھر والوں کو یاد کرکے رونا شروع کردیتی۔ مجھے اس کے اس عمل پر اب جھنجھلاہٹ ہورہی تھی۔ میں نے گھڑی پر نظر ڈالتے ہوئے اس سے کہا
“ بی بی ! میرے پاس صرف دو گھنٹے ہیں آپ کو سُننے کے لیے ۔۔۔ اور آپ مسلسل ڈیڑھ گھنٹے سے یہی بات دہرائے جارہی ہیں۔ آپ ہمارےادارے کا اور اپنا وقت برباد نہ کیجئے اپنی بات آگے بڑھائیے ۔۔۔ مجھے بتائیے کہ جنگلوں یا کھیتوں سے آپ باہر کہاں اور کیسے نکلیں اور یہاں پناہ لینے کیسے اور کس کے ساتھ پہنچیں؟
میرے لہجے کی سختی کو اس نے محسوس کرلیا تھا تب ہی ذرا سہم گئی اور اپنی وحشت زدہ بڑی بڑی آنکھوں سے میری جانب دیکھتے ہوئے بولی
“ میڈم ! اس جنگل میں یا کھیت میں دوڑتے دوڑتے میں کسی چیز سے ٹکرا کر گر گئی تھی اور دوبارہ بے ہوش ہوگئی تھی ۔ شاید وہاں مجھے کچھ مقامی لوگوں نے اگلی صبح دیکھا تو ایک قافلے کے سپرد کردیا جو اپنی جان بچا کر پناہ کی تلاش میں نکلا ہوا تھا۔ میں اُن کے ساتھ ہی یہاں تک پہنچی ہوں۔۔۔ اس سے زیادہ مجھے نہیں معلوم ۔۔۔
وہ اتنا کہہ کر خاموش ہوگئی۔ میرا اضطراب بڑھ گیا تھا میں نے حد آداب سے نکلتے ہوئے آپ جناب کا تکلف دور کیا اور اس کی طرف دیکھتے ہوئے سخت لہجے میں پوچھا،
“ یہ کیا بات ہوئی کہ اس سے زیادہ تمہیں نہیں معلوم ؟ ۔۔۔ ارے تمہیں نہیں معلوم تو کس کو معلوم ہے کہ وہ لوگ کون تھے اور کس راستے سے تمہیں یہاں تک لائے ہیں ؟ کوئی کاغذات ؟ کوئی ثبوت ؟ ۔۔۔ دیکھو سچ سچ بتاؤ اور اپنی شناخت کرواؤ ۔۔۔ ہم کیسے اعتبار کریں کہ تم ایک مظلوم لڑکی ہو اور اتنی دور سے اکیلے یہاں پناہ لینے آئی ہو ؟
اس لڑکی نے اپنی جھکی نظریں اُٹھائیں اور ڈبڈبائی آنکھوں سے میری جانب دیکھتے ہوئے کہا
“مظلوموں کی شناخت اُن کے زخم ہوتے ہیں، پناہ کے لیے مسافت کن کن دشوار گزار راستوں سے گزرتی ہے یہ تو اُن کا خدا ہی جانتا ہے کیونکہ اب تو صرف وہ ہی اُن کے ساتھ ہے ۔۔۔ لیکن میڈم ! افسوس اس بات کا ہے کہ خدا کے ہوتے ہوئے بھی مجھے آپ سے پناہ کی درخواست کرنا پڑ رہی ہے۔۔۔
میں نے گھڑی دیکھی انٹرویو کو ڈھائی گھنٹے گزرنے والے تھے۔ اس لیے میں نے کچھ رسمی اختتامی سوالات کئے اور اس لڑکی کی پناہ کی درخواست پر جواب کے خانے میں “بنا شناخت درخواست گزار اور اہم سوالات کے جذباتی اور غیر منطقی جوابات “ لکھ کر “ رد” کی مہر لگادی۔

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x