
سوقی : چپ کی چادر کو منافقت کے رنگوں سے کاڑھو ، جھوٹ کو نگینوں سے سجاؤ، پاتال میں جانے کی سیڑھی رکھو ، تنگ نظری کا سرمہ بناؤ، اخلاص اور محبت کو جلانے والا پاؤڈر تیار کرو ، ایک دوسرے کو روندنے والے جوتے بناؤاور دنیا کے بازاروں میں بیچو بہت منافع کماؤ گے۔
صادق : لیکن میں یہاں دنیا کمانے نہیں آیا، میرا مال منفرد اور خریدار کم ہیں ۔
سوقی : کیا مال ہے تمھارے پاس !
صادق : میرے پاس اخلاص کی خوشبو ہے ، سچائی کا پرچم ہے ، دیانت داری کی تجوری ہے ، محبت کے پھول ہیں ، ایمان کی شیرینی ہے ، جرآت کی تلوار ہے ، حکمت کے گوہر نایاب ہیں ، اور منافقت کی چادر کو کاٹنے کی قینچی ۔۔۔
بتاؤ کیا خریدو گے ۔۔۔۔ ؟
سوقی : باپ رے باپ یہ سارا مال اب کون خریدتا ہے۔ یہ تو پرانا مال ہے ۔ اور یہاں دنیا کے بازاروں میں بہت رش ہے کھو جاؤ گے ۔ خریدار کی قوت خرید دیکھتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ مارکیٹ کا رجحان بھی ۔
صادق : دیکھو بھیا دیکھنے میں یہ چیزیں پرانی ضرور ہیں مگر انٹیک ہیں ۔ قیمت بھی تمھاری بتائی گئی چیزوں سے کم ہے۔ مگر نایاب ہیں۔
سوقی : ارے پگلے یہ چیزیں انٹیک ضرور ہوں گی مگر اب کون ان چیزوں کو خریدے اور دیکھ بھال کرے۔ ان چیزوں کی سنبھال بہت ہے ۔
صادق :بھیا دنیا کے بازاروں کا مال گو کہ بہت بکتا ہے مگر کسی چیز کا بہت زیادہ بکنا اس بات کی دلیل تو نہیں کہ وہ معیار میں بھی اچھا ہو ، دیر پا ہو اور اس کے نتائج بھی اچھے ہوں۔ میرے مال کی گارنٹی اور وارنٹی دونوں ہیں ۔ اچھے نتائج نہ ہوں مال سود سمیت واپس ۔۔۔ جب کہ دنیا کے بازاروں میں بکنے والے مال کی کوئی گارنٹی نہیں۔
سوقی : گارنٹی والی بات میں میاں دم ہے۔
صادق : تو خریدیے نا بتائیں کیا لیں گے۔ ایمان کی شیرینی لے لیجیے بہت لطف دیتی ہے۔ ایسی لذت کبھی نہ چکھی ہو گی۔
سوقی : نا بابا نا میرا ہاضمہ تھوڑا کمزور ہے۔ میرے سے نا ہضم ہوگی ۔
صادق : پھر محبت کے پھولوں کا گلدستہ بنا دوں۔ صدا مہکتا ہے اور محبت کے پھول کبھی نہیں مرجھاتے۔ یہ خاص پھولوں سے بنا ہے۔
سوقی : نا بابا نا محبت کے پھول کم اور کانٹے زیادہ ہوتے ہیں۔ یونہی زخمی ہونے سے بہتر ہے کہ کوئی اور مال دکھاؤ۔
صادق : تو یہ سچائی کا پرچم دیکھ لیں۔ جس نے اسے بلند کیا ہمیشہ سرخرو ہوا۔ اور اس کی تو دھوم بھی دور تک مچ جاتی ہے۔ دور سے دکھائی دینے لگتا ہے۔
سوقی: ارے بھیا اتنے بھی بھولے نہیں اب ہم ، اسے ہمیشہ سر بلند ہی رکھنا پڑتا ہے۔ بہت محنت کرنی پڑتی ہے۔ مجھ میں کہاں اتنی قوت بچی ہے کہ اسے ہمیشہ سر بلند رکھوں۔
صادق : چلیں تو یہ دیانتداری کی تجوری ہی لے لیجیے ۔
سوقی :بھئی تجوری تو لے لیں اس میں رکھنے کا مال کہاں سے آئے گا۔ رہنے دو بھئی پہ تو بہت ذمہ داری کا کام بن جاتا ہے۔ کچھ اور دکھاؤ۔
صادق : تو جرآت کی تلوار دیکھ لیجیے پھر ؟
سوقی : نہیں نہیں یہ تلوار چلانی بھی سیکھنی پڑے گی۔ اب اس افراتفری کے دور میں اتنی فرصت کہاں۔ اور ہم نے یہ جرآت جسے دکھانی بھیا۔ یہ پیچھے سرخ رنگ میں کیا ہے یہ دکھاؤ ؟
صادق : یہ بھیا منافقت کی چادر کو کاٹنے کی قینچی ہے۔ بہت شاندار ہے خاص رگڑائی کروا کے لایا ہوں۔ اور یہ چند ہی نمونے بچے ہیں۔
سوقی : ارے میاں ہم کیوں کسی کا مال خراب کریں۔ کوئی اتنے چاؤ سے خریدے گا اور ہم کاٹ دیں۔ ہم کیوں کسی کی منافقت کی چادر کو کاٹیں اسے بے نقاب کریں۔ ہم سے نہ ہوگا یہ پاپ
صادق : تو بھیا یہ حکمت کے گوہر نایاب ہی خرید لو۔
سوقی : ارے بھیا ان نگینوں کو کہاں سجائیں گے ۔ کون دیکھے گا اب تو بہت ورائیٹی ہے دنیا کی مارکیٹیوں میں ۔ حکمت کے گوہر نایاب کس کام کے ۔ یہاں چالاکی اور مکاری کا سکہ چلتا ہے۔ حکمت کےگوہر نایاب اٹھا کر باہر پھینک دیے جاتے ہیں۔
میاں خوامخواہ تم نے میرا وقت برباد کیا۔
سوقی: ( دوسرے دکاندار سے ) ہاں بھئی میاں تم بتاؤ یہ پاتال میں اترنے کی سیڑھی کتنے کی ہے۔
دکاندار :بھائی جان منافقت کی چادر، جھوٹ نگینوں والا ، چالاکی اور مکاری کے سکے کے ساتھ بلکل مفت ہے۔
ارے واہ میاں یہ ہوئی نا بات پیک کر دو سارا مال




