ادبی خبریںاُردو ادب

بے لوث محبتوں کے چراغوں سے روشن ۔۔۔اک تقریب پذیرائی کا قصہ/ کنول بہزاد

کل شاہین زیدی صاحبہ کے گھر ایک شاندار تقریب میں شرکت کا موقع ملا۔۔۔جس کی دعوت کئی روز پہلے تاکید کے ساتھ موصول ہو چکی تھی ۔۔۔شاہین زیدی شہر لاہور کا ایک بڑا خوبصورت اور مثبت چہرہ ہیں ۔۔۔آپ گذشتہ پچیس برس سے ادبی پرچہ "سہ ماہی نوادر ” نکال رہی ہیں ۔۔۔ان کے کریڈٹ پر ناول ، افسانے ، شاعری اور سفر نامے ہیں۔۔۔آپ ایک سکہ بند مصنفہ ہیں ۔۔۔ستائش اور صلے کی پروا کیے بغیر آپ یہ کٹھن مگر تخلیقی سفر جاری رکھے ہوئے ہیں ۔۔۔بےشمار ادبی تقریبات کا اہتمام اپنے قلب کی طرح وسیع گھر میں کر چکی ہیں ۔۔۔یہ تقریب بھی اسی سلسلے کی کڑی تھی ۔۔۔اس تقریب میں ادبی تنظیم ” مکتبہ فکر” کی معاونت شامل تھی۔۔۔

یہ تقریب بظاہر تو ایک تقریب پذیرائی تھی۔۔۔ مگر اس میں شرکت کے بعد دل ایسا سرشار ہوا کہ اس منفرد تقریب کو ایک عرصے تک بھلا نہ پائے گا۔۔۔کیوں۔۔۔یہ آپ احوال پڑھ کر جان پائیں گے۔۔۔

یہ جناب افضل محمود صاحب جو کہ پیشے کے لحاظ سے ایک ڈاکٹر ہیں اور آسٹریلیا میں مقیم ہیں۔۔۔ ان کی کتب کی پذیرائی تھی ۔۔۔اس سے پہلے آپ چار کتابیں لکھ چکے ہیں یہ دو کتابیں جن کی تقریب پذیرائی تھی ان میں سے ایک کا نام” مکڑی کا جالا” اور دوسری کا نام” ہم کہ ٹھہرے اجنبی” تھا ۔۔۔”مکڑی کا جالا” ایک ڈراما ہے جو کہ پنجابی میں لکھا گیا ہے اور ساتھ ہی گور مکھی میں بھی۔۔۔ جب کہ "ہم کے ٹھہرے اجنبی” سوانحی خاکے ہیں۔۔۔ مزے کی بات یہ تھی کہ صاحب کتب یعنی افضل محمود صاحب محفل میں موجود ہی نہیں تھے وہ آسٹریلیا میں بیٹھے ویڈیو کال کے ساتھ منسلک تھے۔۔۔ اس تقریب کی سب سے منفرد بات یہ تھی کہ ان کے دوست ان کی محبت میں پاکستان کے مختلف گوشوں سے لاہور تشریف لائے تھے۔۔۔ صدارت محترمہ مسرت کلاچوی صاحبہ کی تھی اور مہمان خصوصی تھیں شاہین زیدی صاحبہ۔۔۔

اس تقریب میں سب دوستوں نے اظہار خیال کیا اور یہ اظہار خیال کوئی رسمی کاروائی نہیں تھی۔۔۔ اس اظہار خیال سے دوستوں کی بے ریا محبت ،بے لوث چاہت اور برسوں پرانے ساتھ کی جھلک دکھائی دیتی تھی ۔۔۔بخدا جس طرح دوستوں نے افضل محمود صاحب سے والہانہ محبت کا اظہار کیا وہ قابل رشک تھا۔۔۔ افضل محمود صاحب شاعر بھی ہیں اور ادیب بھی۔۔ ان کے کلاس فیلو اور دوست نے ان کا خوبصورت کلام ترنم سے بھی گا کر سنایا ۔۔۔اس کے علاوہ افضل محمود صاحب کے حوالے سے دلچسپ باتیں اور چٹکلے بھی محفل کو زعفران زار بناتے رہے ۔۔۔اکثر دوست شعبہ طب سے ہی تعلق رکھتے تھے مگر ادب سے محبت ان کی ہر ادا سے عیاں تھی۔۔۔اس خوشی میں کیک بھی کاٹا گیا اور ایک دوست سب کے لیے برفی بھی لے کر آئے تھے ۔۔۔


مجھے بھی اظہار خیال کا موقع ملا ۔۔۔میں نے بھی اس نفسانفسی کے دور میں اس بے ریا محبت کو سراہا ۔۔۔میرے خیال میں انسان کی اصل کمائی یہی محبتیں ہیں ۔۔۔شاہین زیدی جی نے بھی اظہار خیال کیا اور مصنف کو دلی مبارکباد دی۔۔۔مسرت کلانچوی صاحبہ نے بھی اسی بات کا اعادہ کیا کہ فی زمانہ ایسی محبتیں ناپید ہیں اور افضل محمود صاحب خوش قسمت ہیں کہ ایسی محبتوں کے حقدار ٹھہرے ۔۔۔
غرض وقت گزرنے کا پتہ ہی نہ چلا ۔۔۔آخر میں مہمانوں کی پرتکلف ظہرانے سے تواضع کی گئی ۔۔۔شاہین زیدی ،ان کی بہنیں ، بھانجے ، بھانجیاں سب مہمانوں کی آو بھگت میں مصروف رہے ۔۔۔

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x