اُردو ادبانٹرویوشخصیت و فن

پروفیسر بینا گوئندی کے ساتھ گفتگو / انٹرویور : سیدہ عطرت بتول نقوی

تعارف

پروفیسر بینا گوئندی ایک کہنہ مشق شاعرہ، افسانہ نگار، صحافی اور براڈکاسٹر ہیں جنہوں نے اردو زبان و ادب کو نہ صرف پاکستان بلکہ امریکہ میں بھی فروغ دینے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ وہ "گھروندا انٹرنیشنل یو ایس اے” کی صدر اور "ایجوکیشن ایوارڈز انٹرنیشنل فاؤنڈیشن یو ایس اے” کی بانی ہیں۔ ان کی ادبی خدمات کو پاکستان کی فیڈرل منسٹری آف ایجوکیشن اور اردو سائنس بورڈ نے بھی خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

ان کی شاعری کے مجموعے "سوچتی آنکھیں ، جو تم نے دیکھا ، مٹی کی پیالی اور ساحل لمحے نہ صرف ان کی فکری وسعت کا ثبوت ہیں بلکہ اردو شاعری میں ایک معتبر اضافہ بھی ہیں۔ وہ ہر ماہ "گھروندا” کے تحت ادبی نشستوں کا انعقاد کرتی ہیں اور عالمی سطح پر اردو کے فروغ کے لیے سرگرمِ عمل ہیں۔

بینا گوئندی کا خاندان بھی اردو زبان و تہذیب کا علمبردار ہے۔ ان کے بیٹے علی سینان اور عمر قریشی امریکی معاشرے میں باوقار پاکستانی امریکن کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں اور ادب و ثقافت سے وابستگی رکھتے ہیں۔ بینا گوئندی اپنی تہذیب، زبان اور شناخت کے تحفظ کو نئی نسل تک منتقل کرنے کے لیے ایک روشن پل کی حیثیت رکھتی ہیں۔

انٹرویو

اسلام علیکم، بینا صاحبہ کیسی ہیں؟
الحمدللہ، بالکل ٹھیک
اپنی ابتدائی زندگی کے بارے میں کچھ بتائیے؟

میرا نام بینا گوئندی ہے، یہ میرا قلمی نام ہے، جب کہ اصل نام روبینہ نازلی گوئندی ہے۔ میں سرگودھا میں پیدا ہوئی اور وہیں کے کانوینٹ اسکول میں تعلیم حاصل کی۔ ہم چھ بہن بھائی ہیں، دو بڑے بھائی ہیں اور بہنوں میں میں سب سے بڑی ہوں۔ مجھ سے چھوٹی تینوں بہنیں ڈاکٹر ہیں اور میں نے پی ایچ ڈی کی، تو یوں ہم چاروں ڈاکٹر بن گئے۔

تعلیم کے بعد لاہور کالج اور پھر پنجاب یونیورسٹی سے ماسٹرز کیا۔ سب سے پہلے میں نے کالج کے میگزین میں انگریزی میں لکھنا شروع کیا، اس کے بعد اخبارات میں لکھنا شروع کیا جب میں بی ایس سی کی طالبہ تھی۔ اردو سے میرا تعلق کانوینٹ اسکول کی وجہ سے کمزور تھا، مگر ایف ایس سی میں میری استاد شبنم شکیل کی وجہ سے مجھے اردو پر اعتماد حاصل ہوا۔

میں مباحثوں اور بین الکلیاتی تقریری مقابلوں میں بھی حصہ لیتی تھی۔ اسکول میں انگریزی میں شاعری اور تقاریر کیا کرتی تھی، لیکن اردو سے جو اصل محبت ہوئی وہ کالج کے زمانے میں ہوئی۔ اس میں میرے گھر کے ماحول کا بھی بہت دخل تھا۔ میرے والد کے پاس ایک بڑی ذاتی لائبریری تھی۔ اس زمانے میں نہ گوگل تھا، نہ آن لائن مواد، اور نہ ہی لڑکیوں کے لیے لائبریریوں تک آسان رسائی۔ ہمارے لیے اصل تفریح اور خوشی کا ذریعہ صرف مطالعہ تھا — یا پھر وہ چھوٹے کھیل جو گھر میں کھیلے جاتے تھے۔ پڑھنا میری شخصیت کا حصہ بن گیا۔گھر کی چار دیواری میں رہتے ہوئے ہی ہمیں اپنے آپ کو انٹرٹین کرنا پڑتا تھا۔ میری زندگی میں بچپن سے ہی ریڈنگ ہی میری انٹرٹینمنٹ رہی۔ کتابوں نے مجھے نہ صرف ذہنی سکون دیا بلکہ میری شخصیت کو نکھارنے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔

میرے والدین، خاص طور پر میرے والد صاحب، اس میں بہت مؤثر رہے۔ وہ خود ایک بڑے قاری اور کلیکٹر تھے۔ ہماری زندگی میں کتابیں بس موجود ہوتی تھیں ۔ وہ ہمیں زبردستی نہیں دیتے تھے پڑھنے کو، لیکن ہم خود ہی ان کی موجودگی میں ان کی طرف راغب ہو جاتے تھے۔

خلیل جبران جیسے فلسفیوں کی کتابیں ہوں، یا سائنس کے بین الاقوامی رسائل جیسے "سپورٹنک”—میرے والد صاحب سرگودھا جیسے شہر میں وہ سب کچھ اپنے خرچ پر منگواتے تھے، کبھی امریکہ سے تو کبھی لندن سے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ان شہروں کے نام سننا بھی بڑی بات تھی، اور بیرون ملک جانا محض چند افراد کے بس کی بات تھی۔

ہم خوش قسمت تھے کہ وہ خزانے ہمارے گرد موجود تھے، اور ہم نے بچپن میں ہی ان سے سیکھنا اور لطف لینا شروع کر دیا۔ یہی کتابیں، یہی مطالعہ، میری ذہنی تربیت، تخیل اور لکھنے کی بنیاد بنے۔

ادبی سفر کیسے شروع ہوا ؟

میرا ادب سے تعلق ابتداء ہی سے رہا ہے۔ سرگودھا میں باقاعدگی سے مشاعرے منعقد ہوتے تھے جن میں میرے والد اور ہمارے کچھ عزیز مکمل طور پر شریک رہتے تھے۔ والد صاحب کو شاعری پڑھنے اور سننے کا گہرا شوق تھا، اور یہی ذوق ہم میں بھی منتقل ہوا۔ میری نظر میں اچھی شاعری کو سننے اور سمجھنے کا ذوق بھی ایک بڑی صلاحیت ہے۔

میرے عقیدے کے مطابق "قاری” ادب اور تحریر کو زندگی بخشتا ہے۔ تخلیق، قاری اور لکھاری یہ تینوں مل کر ایک مثلث بناتے ہیں، جو ادب کی اصل روح ہے۔
خیال (تخلیق) اس مقام سے آتا ہے جہاں علم کا منبع ہے، اور جب قاری اسے پڑھتا یا سنتا ہے، تو وہ اس میں جان ڈال دیتا ہے۔ نقاد کا کردار اپنی جگہ، لیکن قاری وہ ہے جو کسی بھی تخلیق کو روح بخشتا ہے۔

اس لیے میں سمجھتی ہوں کہ کسی بھی ادبی کام کو مکمل ہونے کے لیے ایک "باشعور قاری” کا ہونا نہایت ضروری ہے۔ سننے اور سمجھنے والا قاری ہی وہ پُل ہے جو لکھاری اور تخلیق کو زندہ رکھتا ہے۔

عملی زندگی میں کیسے آئیں؟
میں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز وزارتِ تعلیم پاکستان میں کیا، جہاں میں 14 برس بطور ریسرچ اسکالر اور بعد ازاں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دیتی رہی۔ میرے سائنسی مضامین اور بچوں کے لیے لکھی گئی کتابیں اردو سائنس بورڈ اور مقتدرہ قومی زبان جیسے اداروں سے شائع ہوئیں، جن پر مجھے جاپانی حکومت کا باوقار ایوارڈ بھی ملا (1992-93)، جو میرے ادبی و عملی سفر کا اہم موڑ ثابت ہوا۔

اشفاق احمد نے مجھے قلمی نام "بینا” دیا، اور وہ بانو قدسیہ، واصف علی واصف، حبیب جالب، منیر نیازی، پروین شاکر اور امجد اسلام امجد جیسے اکابرین ادب سے میری دوستی اور تخلیقی تعلقات کے گواہ تھے۔ امجد صاحب سے تو آخری وقت تک رابطہ رہا۔ میرے نکاح کے وکیل خود اشفاق احمد صاحب تھے۔

زندگی بھر مجھے ادبی محفلوں، فکری مجالس اور معتبر شخصیات کی قربت نصیب رہی، جسے میں رب کا انعام سمجھتی ہوں۔

میں نے ڈرامے لکھے، ڈائریکٹ اور پروڈیوس بھی کیے۔ 2000 میں امریکہ آ گئی، جہاں میں نے ہائر ایجوکیشن حاصل کی اور ایجوکیشن ایڈوائزر کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔

یہ میرے لیے بڑا اعزاز رہا کہ نون اسٹاپبل وومن سے لے کر مجھے متعدد ایوارڈز ملے، جن میں میری لینڈ کی گورنمنٹ، واشنگٹن ڈی سی، اور ورجینیا کے گورنر کی جانب سے سائٹیشنز اور لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ شامل ہیں، جو میرے ادبی کام کی قدر دانی ہے اور میرے دل کے بہت قریب ہیں۔

میں نے پاکستان سے بھی کئی ایوارڈز حاصل کیے، جن میں پاکستان ایوارڈ، کریشن ایسوسی ایشن ایوارڈ، امریکہ سے بیلفیسٹ پوئیٹری ایوارڈ، جرمنی اور کینیڈا سے ایوارڈز شامل ہیں۔ مختلف ادبی اکیڈمیز اور تنظیموں نے بھی مجھے قدر دانی دی۔

لیکن میرے دل کے سب سے قریب وہ ایوارڈ ہوتا ہے جب میں پاکستان جا کر اپنے مضافاتی علاقوں میں لیکچر سیریز کرتی ہوں۔ پاکستان ٹیلی ویژن اور ریڈیو پاکستان نے 2017 سے 2019 تک مختلف یونیورسٹیوں اور کالجز میں میرے لیکچرز کا سلسلہ شروع کیا تھا، جہاں میں نوجوانوں کو ان کے مسائل اور منزل کے بارے میں بات کرتی تھی۔

میرا ماننا ہے کہ لکھاری تب تک معاشرے میں اپنا مؤثر کردار نہیں ادا کر پاتا جب تک وہ عملی طور پر بھی سماجی مسائل کے حل میں حصہ نہ لے۔ تب ہی اس کے لکھے کی اصل اہمیت اور اثر ظاہر ہوتا ہے۔

آپ کی تخلیقات کس کس زبان میں ترجمہ کی گئیں، اپنی تخلیقات کے بارے میں بتائیے؟

جہاں تک زبانوں کا تعلق ہے، میرے افسانے اور نظمیں انگریزی، ہسپانوی (سپینش)، اور اب عربی میں بھی ترجمہ ہو رہے ہیں۔ جرمن زبان میں میں نے سیلون پال اور بریکت کی تخلیقات کا ترجمہ نائنٹی ٹو سے نائنٹی ایٹ کے درمیان کیا، جو مختلف جگہوں پر شائع ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ میں نے متعدد نامور مسلم سائنسدانوں اور سائنس کی مختلف کتابیں بھی تحریر کی ہیں۔

میری پہلی شعری کتاب "سوچتی آنکھیں” نائنٹی ٹو میں شائع ہوئی، دوسری کتاب نائنٹین نائنٹی ایٹ میں آئی، جسے آپ نے دیکھا ہوگا، پھر دو ہزار گیارہ میں "مٹی کی پیالی” اور حال ہی میں میری تازہ ترین کتاب "ساحل لمحے” شائع ہونے جا رہی ہے۔ یوں یہ تخلیقی سفر وقت کے ساتھ مسلسل جاری ہے

آپ کی کوئی نئی کتاب؟

میری نئی کتاب، ھیروشیما کے آنسو،،
اس مہینے آ رہی ہے۔ یہ ایک ٹریولوگ ہے، جسے لکھنے میں مجھے 34 سال لگے۔ زندگی میں بہت سے کام انسان کرتا ہے، لیکن بعض کاموں کی تکمیل میں وقت لگتا ہے۔ اس کی نو قسطیں 1993 میں قومی ڈائجسٹ میں شائع ہو چکی تھیں، لیکن میں نے اب اسے مکمل کیا۔

ایٹم بم گرائے جانے والے واقعے کی گہرائی تب سمجھ آئی جب دنیا کے حالات بدلے۔ یہ واقعات انسانیت کے لیے المیے بھی ہیں اور ہلاکت خیز بھی۔ ان سے بچنے کے لیے دنیا میں "امن” کا قیام ضروری ہے۔

اسی تناظر میں "واشنگٹن ٹائمز” کی طرف سے مجھے "پیس ایمبیسیڈر”کا ایوارڈ بھی ملا۔ لیکن میرے لیے ایوارڈ سے بڑھ کر یہ بات اہم ہے کہ "اندرونی سکون”, یعنی روحانی سفر کا آغاز ہو۔ کیونکہ جب انسان کے اندر امن ہوگا، تب ہی وہ اپنے معاشرے میں بھی سکون اور محبت بانٹ سکے گا۔

 

کیا صنفی امتیاز کا سامنا کرنا پڑا؟

امتیاز! یہ تو واقعی بہت بڑی بات ہے۔
ایک خاتون ہونے کے ناطے، اُس وقت کے معاشرتی حالات میں  جب کوئی لڑکی تیس چالیس سال پہلےلکھنے کی کوشش کرتی تھی  سب سے پہلی مخالفت گھر سے ہی آتی تھی۔میری والدہ روکنے والی نہیں تھیں، لیکن ان کے دل میں خوف تھا کہ اگر میں صرف لکھنے میں لگ گئی، تو معاشرہ کیا کہے گا۔
خاص طور پر شاعری کرنا، اُسے تو گناہ جیسا سمجھا جاتا تھا۔

پرانے وقتوں میں جیسے قرۃ العین طاہرہ کو ایران میں صرف لکھنے اور بولنے کی وجہ سے پھانسی دی گئی ،تو ایسے چیلنجز ہمیشہ خواتین کے سامنے رہے۔لیکن عورتوں نے ہمیشہ اپنے لفظوں کو قربان گاہ پر رکھا، نمائندہ حیثیت سے لکھا، آواز بلند کی۔
مجھے بھی ایسے چیلنجز کا سامنا رہا، لیکن الحمدللہ، آج جب میں پیچھے دیکھتی ہوں تو بزرگوں کو یاد کر کے شکر ادا کرتی ہوں کہ ہم نے حوصلے سے اپنے سفر کو جاری رکھا، کیونکہ ہمیں یقین تھا کہ رب کی ذات ہمارے ساتھ ہے۔

اس ڈیجیٹل ورلڈ میں اردو زبان کو کیا مشکلات درپیش ہیں؟ اور اس کے لیے کیا کوشش کرنی چاہیے؟

کوشش کرنی چاہیئے کہ عام طور پر جب بھی ہم لکھیں تو اردو رسم الخط میں لکھیں، اور کوشش کریں کہ انگریزی کے بجائے اردو میں بات کی جائے، پنجابی میں بات کی جائے، سندھی میں بات کی جائے۔ کیونکہ جو کچھ ہم لکھتے ہیں، یہ سب ریکارڈ رہتا ہے اس ڈیجیٹل ورلڈ میں، اور وہیں سے ہی گوگل یا چیٹ جی پی ٹی جو ہیں،  یہ ہی ان کے ٹولز ہیں، یہ ہی ان کے سہارے ہیں، انہیں سے وہ لیتے ہیں فائدہ، اور ان سے ہی وہ مددگار ثابت ہوتی ہیں یہ سامان، ٹولز۔ اور پھر وہ ہم تک وہ انفارمیشن… یا جس کسی کو بھی چاہیے ہوتی ہے، وہ انفارمیشن پنجابی میں لکھتے ہیں… اگر ہم نے ڈیجیٹل ورلڈ میں اپنا میٹیریل ہی نہیں بھیجا، اگر موجودگی ہی ہماری نہیں ہوگی زبان کی، تو آگے وہ کیسے ریفر کریں گے؟ تو کوشش کرنی چاہیئے۔ واقعی یہ صرف پاکستان یا امریکہ کی بات نہیں، بلکہ پاکستان کے علاوہ بیرونِ ملک جو ممالک ہیں، اُدھر تو جو مسائل سو ہیں، دراصل سب سے زیادہ مسائل پاکستان میں اردو کو درپیش ہیں، جہاں کی قومی زبان ہے۔

اور یہ بہت  افسوس کی بات ہے کہ ہم پاکستان میں رہتے ہوئے، ہمارے بچے جو اسکولوں میں جاتے ہیں، ان کو اردو سے اتنی مشکل لگتی ہے، ان کو بولنی نہیں آتی، ان کے ساتھ گھروں میں بات ہی نہیں کی جاتی اردو میں، اور میڈیم جو ہے، وہ بھی اردو نہیں ہے۔ اس لیے ان کی سمجھ سے بالاتر ہوتی جا رہی ہے اردو۔

اور اس لیے اردو سے، اور اپنی زبان سے محبت کرنے کا مطلب ہے کہ ہم اپنی شناخت سے محبت کریں۔
اس کی بہت بڑی مثال جاپانی قوم ہے، جنہوں نے آج تک اپنی زبان کے علاوہ کسی دوسری زبان کو ایکسپٹ ہی نہیں کیا۔ تبھی وہاں آپ جائیں، تو آپ دیکھیں گے کہ وہاں پر قومیت کوٹ کوٹ کر ان کے معاشروں میں بھری ہوئی ہے۔

امریکہ میں آپ کی موجودہ مصروفیات؟

امریکہ میں، جہاں میں تعلیم کے شعبے سے منسلک ہوں، نہ صرف اپنی پڑھائی کے ساتھ ساتھ اردو بھی پڑھاتی ہوں بلکہ یہاں ایک تنظیم "گھروندا” بھی بنائی ہے۔ اس تنظیم کا مقصد اردو کے ساتھ ساتھ دیگر زبانوں کو بھی ایک مضبوط پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔

حال ہی میں انگلینڈ سے مہ پارہ صفدر جیسی شخصیت ہمارے یہاں آئیں اور ان کے اعزاز میں ایک بڑا فنکشن "گھروندا” کے تحت منعقد کیا گیا۔ ہمارا مقصد ہے کہ زبان اور قلم کا رشتہ نئی نسل تک پہنچے، تاکہ وہ ہماری گفتگو سنیں اور اس میں حصہ لیں۔

گھروندا ہر ماہ کے آخری اتوار کو ایک سیشن کا اہتمام کرتا ہے جہاں جنوبی ایشیا کے مختلف ٹیلنٹ کو سامنے لایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ سالانہ تین بڑے انٹرنیشنل فنکشنز بھی ہوتے ہیں جنہیں بڑے پیمانے پر منعقد کیا جاتا ہے۔

نوجوانوں میں نئی ڈیجیٹل دنیا میں اپنے کلچر اور زبان سے رغبت کیسے پیدا کی جا سکتی ہے ؟

نوجوانوں میں رغبت اسی وقت پیدا کی جا سکتی ہے جب ہم ان کے مائنڈ سیٹ کو سمجھیں یعنی وہ کیا سوچتے ہیں، کیا چاہتے ہیں، اور ان کے مسائل کیا ہیں۔ آج کا نوجوان بدلتے ہوئے معاشرے کا حصہ ہے، اور معاشرہ ایک نئی کروٹ لے چکا ہے۔ اس تبدیلی کے ساتھ ہم تب ہی ہم آہنگ ہو سکتے ہیں جب ہم نوجوانوں کی ضروریات، ان کے چیلنجز اور ان کے خوابوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بات کریں اور لکھیں۔

یہ جو پلیٹ فارم آج بنا ہے، دراصل اسی تبدیلی کی نمائندگی کرتا ہے۔ جب ہم آج کے دور کے مسائل، ٹیکنالوجی، نظریات اور رویّوں کو بنیاد بنا کر گفتگو کریں گے، تو نوجوان خود بخود متوجہ ہوں گے۔ وہ سنیں گے، پڑھیں گے اور اس پر عمل کی راہ اختیار کریں گے۔ بلکہ ہو سکتا ہے وہ ہماری بات کو ایک مثال بنا کر اپنی عملی زندگی میں اپنائیں۔

لہٰذا ہماری کوشش یہی ہونی چاہیے کہ ہم نوجوانوں کے لیے صرف پرانی کہانیاں نہ دہرائیں، بلکہ اُن کی زبان اور اُن کے میڈیم کو اپناتے ہوئے آج کے دور کی حقیقی بات کریں، تاکہ ہم اُن کے ذہن اور دل  دونوں تک رسائی حاصل کر سکیں، اور ان کے لیے مستقبل کی راہیں ہموار کی جا سکیں۔

آپ کے اپنے پسندیدہ اشعار؟

یہ اشعار میری پہلی کتاب کی نمائندہ غزل سے ہیں، جو مجھے دل سے بہت پسند ہے:

تیرے ایک قہقہے نے جس کو پل بھر میں گرا ڈالا
گھروندا میں نے اپنے اشکوں سے بنایا تھا۔
خوشی سے اڑتے اڑتے آ گئے اس شاخ پر بھنورے
جہاں کانٹوں نے ان کی موت کا ساماں سجایا تھا۔

یہ غزل میرے لیے نہ صرف جذباتی اہمیت رکھتی ہے بلکہ میرے ادبی سفر کی بنیاد بھی ہے۔

کچھ بینا گوئندی ایوارڈ کے بارے میں بتائیے؟

امریکہ میں موجود ہماری ادبی و ثقافتی تنظیم نے اس سال سے "بینا گوئندی ایوارڈ” کے نام سے ایک نئے ادبی ایوارڈ کا اجرا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ ایوارڈ اردو ادب کے فروغ کے لیے ان پاکستانی و پاکستانی نژاد ادیبوں کو دیا جائے گا جنہوں نے ادب میں قابلِ قدر کام کیا ہو۔

یہ ایوارڈ امریکہ اور پاکستان دونوں ممالک میں اجتماعی طور پر دیا جائے گا، اور اس کا باقاعدہ اجرا اس سال 21 ستمبر کو ہونے والے سیشن میں کیا جائے گا۔ اس موقع پر میری نئی کتاب کی اشاعت کے حوالے سے بھی اعلان کیا جائے گا، اور مزید تفصیلات جلد فراہم کر دی جائیں۔

بینا صاحبہ کچھ اپنی شادی اور بچوں کے بارے میں بتائیے؟

میرے شوہر میرے کلاس فیلو تھےان سے میری شادی ہوئی اور میں سمجھتی ہوں کہ یہ ایک خوشگوار اور کامیاب ازدواجی زندگی ہے۔ وہ ایک نہایت نفیس اور باوقار انسان ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے ہمیں دو بیٹے عطا کیے: علی سینان اور عمر قریشی۔ دونوں بچے نہ صرف ادب و لحاظ کے پابند ہیں بلکہ اسلامی تعلیمات اور پاکستانی شناخت کے حوالے سے بھی مضبوطی سے جڑے ہوئے ہیں۔ ان دونوں کو اردو اور انگریزی زبان پر یکساں عبور حاصل ہے۔

میرا چھوٹا بیٹا، عمر قریشی، ایک بہت اچھا لکھاری ہے اور دورانِ تعلیم ہی اُسے متعدد اعزازات مل چکے ہیں، جو اس کی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

بڑے بیٹے، علی سینان، کو بھی لکھنے اور پڑھنے کا شوق رہا ہے۔ وہ مصوری میں بھی مہارت رکھتے ہیں اور انہیں "Noma Concours Award” سمیت امریکہ کے کئی بڑے ایوارڈز مل چکے ہیں۔ اب وہ ایک کامیاب پاکستانی امریکن کے طور پر آئی ٹی کے شعبے میں ماہر کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں، اور اپنی پہچان کو دنیا کے سامنے مؤثر انداز میں پیش کر رہے ہیں

پاکستانی معاشرے سے کوئی گلہ؟

پاکستانی معاشرے سے مجھے کوئی گلہ نہیں۔ پاکستان مجھے بے حد پسند ہے  بلکہ یوں کہوں کہ پاکستان میرے اندر بستا ہے، اور میں سمجھتی ہوں کہ اسے میرے دل سے کوئی طاقت نکال نہیں سکتی۔ پاکستان ہماری مادرِ وطن ہے، جبکہ امریکہ، جہاں میں اس وقت مقیم ہوں، ہماری ‘اڈاپٹڈ لینڈ’ ہے۔ ہم دو مختلف معاشروں میں رہتے ہوئے ایک دوسرے کو سمجھنے اور جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اب چونکہ دنیا ایک ‘گلوبل ولیج’ بن چکی ہے، اس لیے کوئی بھی کام کہیں بھی کیا جائے، اس کی رسائی پوری دنیا تک ممکن ہو گئی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ چاہے ہم کہیں بھی رہیں، اپنی شناخت، اپنی ثقافت اور اپنے اصل کو کبھی نہیں چھوڑنا چاہیے۔

اگر پاکستانی معاشرے سے کوئی شکوہ ہے تو وہ صرف اتنا ہے کہ ہمیں اپنے اندر انصاف، سچائی، اور باکردار ہونے کا جذبہ پیدا کرنا ہوگا۔ ہمارا اصل کردار  ہمارا حقیقی حوالہ  ‘سچ’ ہے۔ اگر ہم سچ بولنا شروع کر دیں، تو معاشرہ خود بخود درست سمت میں چل پڑے گا، برائیاں ختم ہوں گی، اور وہ معاشرہ تشکیل پائے گا جس کا ہم خواب دیکھتے ہیں

بینا صاحبہ آپ کا بہت شکریہ آپ آجکل امریکہ میں بہت مصروف ہیں پھر بھی آپ نے ہماری درخواست پر ہمارے ساتھ بہت عمدہ گفتگو کی۔

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x