ادبی خبریںاُردو ادبرپورٹ

ادبی تنظیم ہراول کا پہلا جشن لندن 2025 / رپورٹ : الماس شبی

ادبی تنظیم ہراول انٹرنیشنل کے زیر اہتمام ۲۴ اگست کو عالمی مشاعرہ کا انعقاد لندن میں ہوا ۔ہراوال کے صدر علی ارمان مبارک کے مستحق ہیں کہ انھوں نے جس بھی ترنگ میں فیصلہ کیا ،پورا کر دکھایا ۔ ان کی سب سے بڑی طاقت ان کے احباب تھے کہ ہر لمحے وہ ان کے ساتھ ان کا ہاتھ بٹاتے نظر آئے ۔اور لندن کی فضاؤں میں دیر تک اور دور تک محسوس ہونے والی تقریب کا انعقاد کیا۔

اعزاز کی بات تو یہ تھی کہ ڈاکٹر خورشید رضوی صاحب جیسی شخصیت وہاں موجود تھی ۔آپ سے ایک یادگار ملاقات سٹار ایشیا ٹی وی کے مشہور پروگرام ” غزل مشاعرہ سعد اللہ شاہ کے ساتھ "میں ہوئی تھی ، آپ اس عہد کے انگلیوں پہ گنے جانے والے ان چند شخصیات میں سے ہیں جو ہماری تہذیب و تمدن کے چراغ ہیں دھیمی سی مسکراہٹ تیکھا کلام اور اس پر کلام کرتی خاموشی نے ساری محفل میں روشنی نچھاور کیے رکھی

ڈاکٹر سعادت کی بات کی جائے تو وہ کیا ہی عمدہ نایاب شخصیت ہیں یہاں بھی وہ مسکرائے بغیر گہری نظر سے منظر نامہ پیش کرتے رہے میری ان سے دوسری ملاقات تھی پہلی” جگنو انٹرنیشنل "میں ہم نے سٹیج شئیر کیا ہوا ہے ۔

ڈاکٹر نثار ترابی استاد قابل احترام ہستی ہیں جو بات مجھے اچھی لگی وہ ان کا منفرد انداز سے داد دینا تھا جس پر ہال میں بیٹھے لوگوں نے بھی ان کو سراہا ۔

نجمہ عثمان صاحبہ سے ملی تو لگا مدتوں سے اک دوجے کوجانتے ہیں ، اک وقار اور متانت کا پیکر اور کلام کے تو کیا ہی کہنے ۔


۔
مدتوں بعد تو ملاقات ہوئی تھی گلناز کوثر سے جو اپنی نظموں کی طرح منفرد ہے ۔ کوئی پچیس سال بعد اور پچیس منٹ بھی نصیب نہیں ہوئے پہلے مشاعرہ میں دور دور جگہ نصیب ہوئی اور پھر کھانے کی ٹیبل پر بھی وہ اک سرے پر تو میں دوجے سرے پر ۔۔۔۔۔۔جب سے پروگرام کے پوسٹر شئیر ہوئے تھے وہ رابطے میں تھی کب پہنچنا ہے کہاں ٹھہرنا ہے کب واپسی ہے مختصر قیام پر اس کی دوستانہ خفگی ، الوداعی لمحوں میں ہوٹل کے باہر کھڑے کھڑے ہی پروگرام بنا لیا کہ میرے ساتھ چلو ڈاکٹر ثاقب ندیم کی ڈرائونگ ہوگی اور ہم دونوں کے قہقہے، سفر اچھا کٹے گا رات باتیں کریں گے صبح ناشتہ کریں گے سارا دن گھومیں گے پھریں گے وقت کی جیب سے پچیس سال چرا کر پھر اسے سود سمیت واپس کر دیں گے ۔ لیکن پھر قلتِ وقت کی وجہ سے ہم نے اگلی بار پر پروگرام کو ڈال دیا

ریحانہ قمر صاحبہ سے بھی پنج ریڈیو پر ہی ملاقات ہوئ تھی ۔ اس بار پاکستان کے قیام کے دوران ڈاکٹر طاہر شہیر کے مشاعرہ میں ملاقات ہوئ ۔وہیں انھوں نے ٹوبہ ٹیک سنگھ کے مشاعرہ میں انوائیٹ کر لیا ہم جب وہاں پہنچے تو کیا ہی شاندار طریقے اور محبت سے انھوں نے اور ان کے لوگوں نے ٹیم نے استقبال کیا ، سنا بھی سراہا بھی اور عزت دی اور پھولوں جیسے لوگوں نے گلاب کی پتیاں بھی کھلے دل سے نچھاور کیں ابھی وہ یاد تازہ تھی کہ "جشن لندن 2025 ” کا سلسلہ بن گیا ۔ یہ مزے کی بات ہے کہ ہم دونوں امریکا میں مقیم ہیں لیکن ملنے کے لیے پاکستان یا برطانیہ جانا پڑتا ہے
ڈاکٹر ثاقب ندیم سے مختصر سی گفتگو ہوئی دل چاھا کہ بیٹھ کر ان سے ان کی نظمیں سنیں جائیں ۔ امین کنجاہی صاحب سے بڑے عرصے بعد ملاقات ہوئی تھی اچھا لگا ۔ ڈاکٹر غافر شہزاد کی تخلیقات اور تعمیرات سے کون نہیں واقف ان سے بھی اک تصویر کی ملاقات رہی

مزمل عباس شجر سے پنج ریڈیو پر تسلسل سے گفتگو ہوتی رہی ہے اب وہ یوکے آچکے ہیں وہ کیمرہ سنبھالے ہراول کے سیکٹری کے فرائض نبھاتے رہے ۔ مجھے لگتا ہے وہ صحیح بندے کے ہاتھ لگ گئے ہیں ۔
سیدہ کوثر صاحبہ سے ملاقات ہوئی بات ہوئی اور دوستی ہوگئ ۔ مشاعرہ کے بعد وہ سیدھی آکر جیسے گلے ملی ، سمجھ آگئی کہ اب باتیں ہوتی ہی رئیں گئیں ۔
بہت راحت ہوئی راحت زاہد صاحبہ سے مل کر ان کی شاعری بھی اچھی لگی اور وہ خود بھی بہت اچھی لگیں ۔ بہت دعائیں

۲۵ اگست کو ارشد لطیف صاحب کے گھر چنیدہ لوگوں کی شاندار اور یادگار تقریب رہی جس میں علی ارمان کی سالگرہ کا کیک کاٹا گیا عظمٰی بھابی کے ہاتھوں کے بنے لزیز کھانوں سے بھری ٹیبل نے پیٹ تو سب کا بھر دیا آنکھیں نہیں بھرنے دیں خاص طور پر گڑ والے چاولوں نے پردیس میں دیس یاد کروا دیا
اور وہ جو شاعری کی نشست ہوئی مجھے مشاعروں سے زیادہ دوستوں کی ایسی نشستیں بہت اچھی لگتی ہیں جس میں سنانے والے اور سننے والے ایک ہی فریکیونسی پر ہوتے ہیں ۔ ہیوسٹن میں عدیل زیدی صاحب کے گھر کی وہ نشست یاد آگئی جو انٹرنیشنل آرٹس سوسائیٹی کے سلسلے میں باسط بھائی نے برپا کی تھی ۔ اس نشست میں بھی یہی ہوا ارشد لطیف صاحب نے بتایا اس طرح کی نشستوں میں بڑے بڑے نام شامل ہیں کہنے لگے ساقی فاروقی ہوتے تو اس صوفے پر بیٹھے ہوتے ۔ میں تو کہتی ہوں انھیں یادوں پر مشتمل ایک کتاب لکھنی چائیے ۔ کتاب سے یاد آیا

منان قدیر خوبصورت شاعر ہی نہیں انسان بھی بہت اچھے ہیں محبتی مروتی بندہ کہ اندازہ لگائیں زیادہ تر تصویریں انھیں کی مرہونِ منت ہیں ہیں ان کا ایک جملہ تو جیسے دل کو چھو جاتا تھا کہ کسی کے ہاتھ میں بھی موبائل آن دیکھتے اور صاحب موبائل کو بے چین دیکھتے فورا کہتے لائیے میں تصویر بنا دوں ۔

ارشد لطیف صاحب کے گھر واپسی پر منان قدیر نے بھی ایک کتاب کا تحفہ عنایت فرمایا ، برطانیہ میں مقیم اردو شعرا کے کلام کا انتخاب “ سخن ورانِ برطانیہ “ جو میں نے ہیتھرو سے جہاز میں سیٹ سنبھالتے ہی پڑھنی شروع کر دی اور جس نے دس میں سے پانچ گھنٹے کا سفر آسان بنا دیا ، مجھے ایسا لگا میں برطانیہ میں مقیم سارے شاعروں سے مل رہی ہوں ۔ اس کتاب کا رویو بہت جلد شئیر کروں گی ۔ اب اجازت ساتھ ہی معزرت اپنے ان احباب سے جن سے بات تو ہوئی ملاقات نہ ہو پائی فاطمہ سلیم کوثر ، نور افروز ، عنبرین ظفر اگلی بار ملیں گے گرین سٹریٹ ساوتھ ہال گھومیں گے انشاء اللہ

 

 

Author

Related Articles

Back to top button