بلقیس / شاعر : نزار قبانی | ترجمہ: اسد اللہ میر الحسنی

بلقیس / شاعر : نزار قبانی | ترجمہ: اسد اللہ میر الحسنی
شکریہ تم سب کا…
شکریہ تم سب کا…
میری محبوبہ قتل کر دی گئی ہے…
اب تمہیں موقع ملا ہے
کہ اس شہیدہ کی قبر پر جام پی سکو…
میری نظم کوقتل کر دیا گیا ہے…
کیا دنیا کی کوئی اور قوم ہے
– ہمارے سوا –
جو اپنی نظموں کو موت کی نیند سلاتی ہو؟
بلقیس…
وہ بابل کی تاریخ کی سب سے حسین ملکہ تھی…
بلقیس…
وہ عراق کی سرزمین کی سب سے بلند و بالا کھجور تھی…
جب وہ چلتی تھی،
مور اس کے ہمراہ رقص کرتے،
اور ہرن اس کے پیچھے پیچھے چلتے تھے…
بلقیس… اے میرے دل کا درد…
اور اے میری نظم کا درد…
جب اس کو انگلیاں چھوتی ہیں
کیا ممکن ہے…
کہ تمہارے بالوں کے بعد خوشے پھر سے اُگ آئیں؟
اے نینویٰ کی سرسبز زمین…
اے میری سنہری خانہ بدوش…
اے دجلہ کا ہلکورا…
جو بہار کی رعنائیوں میں
اپنے پاؤں میں سب سے نازک پازیب سجائے رکھتی ہے…
انہوں نے تمہیں قتل کر دیا، اے بلقیس…
کون سی عرب قوم ہے
جو بلبلوں کی مدھر آوازوں کو خاموش کر دیتی ہے؟
کہاں ہے سمَوْأَل؟
اورمُهَلْهَل؟
اور وہ قدیم سردار؟
قومیں قوموں کو نگل گئیں…
لومڑوں نے لومڑوں کا خون کیا…
اور مکڑیاں مکڑیوں کو قتل کر گئیں…
قسم ہے تیری ان روشن آنکھوں کی،
جن کے نیچے لاکھوں ستارے جھک کر تابانی کرتے ہیں…
کہوں گا، اے میرے چاند،
عربوں کی بقا اور بہادری کی حیرت انگیز کہانیاں!
کیا یہ سچ ہے کہ بہادری عربوں میں ایک فریب ہے؟
یا تاریخ بھی ہماری طرح جھوٹی ہے؟
بلقیس!
میرے سامنے سے کبھی اوجھل نہ ہونا،
کیونکہ تمہارے بعد سورج کی کرنیں
ساحلوں پر روشنی بکھیرنا چھوڑ چکی ہیں…
تحقیقات میں میں کہوں گا:
اب چور مجاہد کا لباس پہن چکا ہے…
اور تحقیقات میں میں یہ بھی کہوں گا:
باصلاحیت قائد، اب ٹھیکیدار بن چکا ہے…
اور کہوں گا:
تابکاری کی کہانی دنیا کی سب سے احمقانہ داستان ہے
جو کبھی بیان کی گئی…
کیونکہ ہم فقط ایک قبیلہ ہیں،
اور یہی ہے ہماری تاریخ، اے بلقیس!
کیا انسان کبھی سمجھ سکے گا
باغوں اور کوڑھ خانوں کے درمیان فرق؟




