صوفی تبسم آرٹ اکیڈمی میں ایک دلنواز شام کا قصہ / کنول بہزاد

ماہ اگست کی آخری بھیگی بھیگی شام تھی اور ہم صوفی تبسم آرٹ اکیڈمی کی جانب رواں دواں تھے ۔۔۔جہاں یوم آزادی کے حوالے سے ایک تقریب تھی ۔۔۔جس کا دعوت نامہ پیاری دوست ڈاکٹر فوزیہ تبسم کی طرف سے موصول ہوا تھا …اس اکیڈمی کو دیکھنے اور یہاں کوئی پروگرام اٹینڈ کرنے
کہ خواہش ایک مدت سے تھی۔۔۔کہ صوفی تبسم صاحب کی نظمیں ہمارا ناسٹلجیا ہیں ۔۔۔ان کے بنا ہمارا بچپن ادھورا ہے ۔۔۔آپ شاعر اور ادیب ہونے کے ساتھ ساتھ بہت بڑے انسان بھی تھے ۔۔۔ان کے بارے میں کئی قصے اور واقعات پڑھ رکھے تھے جن کی بنا پر عقیدت بڑھ گئی تھی ۔۔۔

اکیڈمی پہنچی تو ڈاکٹر فوزیہ تبسم نے کھلی بانہوں سے استقبال کیا ۔۔۔وہ ہی اس آرٹ اکیڈمی کی روح رواں ہیں ۔۔۔محبت ، وضعداری اور قلم سے محبت انہیں وراثت میں ملی ہے ۔۔۔ماحول حسب توقع تھا ۔۔۔مدھم مدھم ٹھنڈی روشنی ، درودیوار خوبصورت پینٹنگز سے آراستہ ، قالین پر کشن اور گول تکیے لگے ہوئے ۔۔۔اور کتابوں کی خوشبو سے معطر فضا ۔۔۔
پروین سجل ، عطیہ سید جی ، پروین طاہر اور نوین روما بھی موجود تھیں۔۔۔سب سے باری باری ملے ۔۔۔

پھر صوفی صاحب کے کمرے کی زیارت کی ۔۔۔سادہ سا کمرا۔۔۔بستر ، بستر کے ساتھ حقہ اور کرسی ۔۔۔الماری میں کتابیں سجی ہوئی ، میز پر ڈھیر سارے ایوارڈز ۔۔۔ترتیب سے رکھے ہوئے تھے ۔۔۔دیوار پر صوفی صاحب کی تصویر ۔۔۔یوں محسوس ہوا جیسے صوفی صاحب ابھی بھی یہیں موجود ہیں ۔

صوفی صاحب کے کمرے سے نکلے تو مزید مہمان بھی آ چکے تھے اور تقریب کا آغاز ہوا چاہتا تھا ۔۔۔آغا مزمل صاحب نے میزبانی کے فرائض سر انجام دیے ۔۔۔فوزیہ تبسم نے آرٹ اکیڈمی کا تعارف پیش کیا ۔۔۔پھر شعرا سے کلام سنا گیا ۔۔۔جن میں نوجوانوں کے ساتھ ساتھ ہماری منجھی ہوئی شاعرہ پروین سجل نے بھی کلام پیش کیا ۔۔۔اس کے بعد پروین طاہر نے اپنا شاندار کلام سنایا ۔۔۔وہ صدر محفل تھیں اور اسلام آباد سے تشریف لائی تھیں۔۔۔پھر عطیہ سید صاحبہ جو مہمان خصوصی تھیں ۔۔۔انہوں نے مختصر سی گفتگو کی۔۔۔معروف آرٹسٹ محسن گیلانی صاحب نے بھی یوم آزادی کے حوالے سے عمدہ گفتگو کی۔۔۔پھر محفل موسیقی شروع ہوئی ۔۔۔نوجوان طالب علموں نے بڑی عمدہ غزلیں گائیں ۔۔۔پھر پروین طاہر صاحبہ کے شوہر نامدار نے سرائیکی گانا ” چٹڑ پدھر تے بہہ کے ” سنا کر سماں باندھ دیا ۔۔۔حاضرین کی فرمائش پر انہوں نے کچھ اور گیت بھی سنائے ۔۔۔ہماری خوش نصیبی کہ ہمارے دور کی مقبول ترین اور خوبرو گلوکارہ زرقا بھی محفل میں موجود تھیں ۔۔۔اگرچہ عرصہ دراز سے گانا چھوڑ چکی ہیں لیکن انہوں سب کی فرمائش پر دو تین گیت سنائے۔۔۔اور ہولے ہولے بھیگتی رات جسے امر ہو گئی ۔۔۔لتا کے گائے حسین اور سدا بہار گیت ۔۔۔
لگ جا گلے ۔۔۔اور یہ کہاں آ گئے ہم ۔۔۔
سب نے انہیں خوب سراہا۔۔۔ طاہر بھائی نے کہا۔۔۔
زرقا جی۔۔۔آپ نے بےشک گانے کو چھوڑ دیا مگر گانے نے آپ کو نہیں چھوڑا ۔۔۔

آخر میں شاندار ڈنر کا اہتمام تھا ۔۔۔ڈاکٹر فوزیہ ، شاہد بھائی ،ان کی بیٹی ۔۔۔سب بڑی محبت سے مہمانوں کی تواضع کرتے رہے ۔۔۔اس دوران سب مہمانوں کی آپس میں مزے کی گپ شپ بھی جاری رہی۔۔۔
سب مہمان رات گئے خوبصورت یادیں اور محبتیں سمیٹے صوفی صاحب کے گھر سے رخصت ہوئے ۔



