اُردو ادبافسانہ

بے کفن چوڑیاں/ روبینہ یوسف

قمر الدین نے جیسے ہی کمرے میں قدم رکھا تو وہاں کی ہر چیز رو پڑی۔ یہ کمرہ ان کی بیٹی "نشا” کا تھا، جس کی آج سے ایک سال پہلے بہت دھوم دھام سے شادی ہوئی تھی اور ٹھیک 365 دنوں کے بعد اس کے مقدر مات کھا گئے تھے۔ انہوں نے لہو رنگ آنکھوں سے جگمگاتے کمرے کو دیکھا۔ قیمتی بیڈروم سیٹ، کرسٹل کے جگمگاتے شو پیسیسز ، روشنیاں بکھیرتا فانوس،کمرےمیں بچھا بیش قیمت قالین۔۔۔۔ اس کی سیج ابھی تک سجی ہوئی تھی۔ وہ ٹوٹے خوابوں کی کرچیوں سے آنکھوں کو لہولہان کرتے ایک ایک چیز کو گھورتے رہے۔ اس جہیز کے لئے انہوں نے نہ جانے اپنے کتنے خوابوں کو گروی رکھا تھا۔ ایک اذیت ناک، ان دیکھے حصار نے ان کے سانسوں پر اپنی گرفت مضبوط کر دی۔ کوئی حساب نہیں ان کے پاس مگر ان کی رگ رگ سراپا میزان بنی ہوئی ہے۔

آج وہ اس کا جہیز واپس لینے آئے ہیں مگر ساری عمر کے خوابوں کو رکھنے کے لئے ان کی دہلیز چھوٹی پڑ گئی ہو جیسے۔ کون سی خوشی تھی جو انھوں نے شادی کے وقت نشا کے ہمراہ نہیں کی تھی! بیٹی کے پیدا ہوتے ہی ان کے دن پھر گئے تھے۔ جانثار بیوی کے بعد بیٹی کی صورت میں کائناتی تحفے نے ان کی زندگی کو ہر زاویے سے مکمل کر دیا۔ ان کی آنکھوں کے سامنے ماضی اپنی خوش اداوں سمیت لہرانے لگا۔ نشا کی پیدائش۔۔۔۔ دونوں کا خوشیاں منانا۔۔ زندگی کا ہر پل گلابی گلابی سی بچی پر نثار ہونے لگا۔ وہ تھی ہی اتنی پیاری اور بلا کی ذہین۔۔۔ انہیں اس کے بچپن کی ایک ایک بات ازبر تھی۔

ہر گزرتا دن نشا کو ایک نیا وجود بخشتا۔ اس کے گلابی گال بھرتے گئے۔ پھولوں کی کی شاخ میں وہ ڈھلنے لگی۔ دونوں اسے دیکھ کر نہال ہوتے۔
ایک دن وہ اس کو آوازیں لگاتے جب ڈرائنگ روم میں آئے تو وہ بڑے انہماک سے لان میں کھلتے دریچے میں کھڑی ڈوبتے سورج کو دیکھ رہی تھی۔ نارنجی شعاعوں کا حسن اس کے چہرے کے نکھار کو دوآتشہ کر رہا تھا۔ اس کی آنکھیں شفق کے رنگ چرا کر سرخی مائل ہو رہی تھیں۔ ان کی نگاہ دریچے کے باہر جا پڑی۔ وہاں بھی شام بادہء نارنج میں ڈوبی ہوئی تھی۔ چند لمحے مبہوت ہو کر وہ دیکھتے رہے۔ پھر ایکا ایکی انہیں ہوش آیا تو لپک کر کھڑی بند کر دی۔نشا چونک کر پلٹی تو ان کے چہرے پر ناپسندیدگی کے رنگ دیکھ کر سہم گئی۔ انھوں نے اس کا ہاتھ پکڑا، "آج سے تم ڈوبتے سورج کو نہیں دیکھو گی”‘ وہ فہمائشی لہجے میں گویا ہوئے۔ "مگر کیوں پاپا؟” اس نے معصومیت سے پوچھا۔ "اس لئے کہ ڈوبتا سورج شکست اورمحرومی کی علامت ہوتا ہے” وہ اسے سمجھانے کی کوشش کرنے لگے۔ "اوہ! آج کل کے دور میں بھی آپ ایسی باتوں پر یقین رکھتے ہیں؟” وہ دھیرے سے ہنس پڑی۔۔۔ "نحوست وغیرہ کچھ نہیں ہوتی”۔
"میں نے کب کہا کہ ڈوبتا سورج منحوس ہوتا ہے؟ مگر تم چڑھتے سورج کو بھی دیکھ سکتی ہو۔ صبح کے وقت اس کی چاندی جیسی کرنوں کی ٹھنڈک نا قابل بیان ہوتی ہے”۔ وہ نہ جانے اسے کیا سمجھانا چاہ رہے تھے۔ ” اوکے۔ اوکے بابا جانی، آج کے بعد ایسا نہیں ہو گا” وہ بات کو ختم کرنے کی غرض سے بولی تو وہ مطمئن ہو گئے کہ اس کی زندگی میں نحوست کا سایہ بھی پر نہیں مار سکتا۔ ۔۔۔ مگر وہ کئی دن تک الجھی الجھی رہی۔ وہ نارنجی شام اس کے حواسوں پر پر چھائی رہی۔

انہوں نے اپنے سر کو زور سے جھٹکا۔ وہ کہاں جا پہنچے تھے! ماضی سے لمحہء حال کے سفر نے انہیں بے حال کر دیا تھا۔ انہیں یاد آیا کہ پاریسا ان کی دیوانگی دیکھ کر ہنسا کرتیں۔ کبھی باپ بیٹی کی محبت پر رشک کرتیں اور کبھی بیٹی کی جدائی کا خوف ان کے دل میں ہزار خدشے ابھارتا۔ وہ شوہر کو آنے والے دنوں کا آئینہ دکھاتیں۔ "ایسا نہ ہو کہ نشا کی شادی کے بعد تنہائی اور ڈپریشن کا شکار ہو جائیں!!”
جدائی کی آکاس بیل ہر بیٹی کی زندگی کو چاٹ جاتی یے۔ وہ ہمیشہ یہی کہتے کہ اپنی بیٹی کی شادی ایسے لڑکے سے کروں گا جو گھر داماد بن کر ان کے ساتھ رہ سکے مگر برا ہو اس محبت کا۔ نشا کو اپنے کلاس فیلو سے محبت ہو گئی۔ یوں وہ مجبور ہو گئے کہ دل پر پتھر رکھ کر بیٹی کو اشعر کے ہمراہ رخصت کر دیں۔ اشعر MBAکرنے کے بعد اپنے والد کے کاروبار کو بڑھانے کا ارادہ رکھتا تھا۔فیملی بھی مختصر ہی تھی۔ دو بہنوں، ایک بھائی اور والدین پر مشتمل یہ سادہ اور سلجھے ہوئے لوگ ان کو بھا گئے۔

انہوں نے گہری سانس لے کر دیوار پر لگی نشا اور اشعر کی شادی والے دن کی تصویر دیکھی تو آنسوؤں سے ان کی آنکھیں دھندلا گئیں۔۔۔ دل کی ایک تیز دھڑکن کے ساتھ میٹھا میٹھا سا درد جاگ اٹھا۔ انہوں نے تصویر اتار کر اپنی نظریں اس پر جما دیں۔ وہ دلہن بن کر پہچانی نہیں جا رہی تھی۔ شہابی رنگت پر مشاطہ کے ماہر ہاتھوں نے ایک ملکوتی سا حسن بکھیر دیا تھا۔ آنکھیں جیسے جگنووں کا بسیرا بنی ہوئی تھیں۔ ان کی نظریں نشا کے عروسی لباس پر سے پھسلتی ہوئی اس کے پیروں پر جا کر رک گئیں۔ ان پیروں نے تو ایک شاہکار راستے پر چلنے کا انتخاب کیا تھا۔۔۔۔وہ منزلیں کہاں رہ گئیں جہاں بیٹی کے نقش پا اسے پکار رہے تھے۔

ان کی آنکھوں سے کئی آنسو نشا کی بلائیں لینے کو لپک پڑے۔۔۔ آج وہ سمجھے کہ شہنائیاں کیوں روتی ہیں۔ وہ دن ان کی آنکھوں کے سامنے گھومنے لگا جب نشا کی شادی کو دو مہینے ہوئے تھے وہ اشعر کے ہمراہ ہنی مون ٹرپ سے واپس آئی تو مہکتی رعنائیوں نے اس کے وجود کو انمول خوبصورتی عطا کی تھی۔

وہ پاریسا کے ساتھ اس کی واپسی کی خبر دن کر ان سے ملنے گئے۔ بے شمار تحائف سے لے پھندے جب وہ گھر میں داخل ہو ئے تو ان کے قدم زمین نے جکڑ لیے۔ نشا کی ساس کی زہر میں بجھی آواز انہوں نے سنی” اب سارے چونچلے ختم، گھر داری سنبھالو میرا ایک ہی بیٹا ہے اس پر اپنی اداوں کا جال پھینکنے کی کوشش کبھی نہ کرنا”۔ان کا چہرہ دھواں دھواں ہونے لگا۔ ظاہر ہے یہ سب نشا کو سنایا جا رہا ہے مگر کیوں؟ وہ تو بہو کی بلائیں لیتی نہیں تھکتی تھیں۔ ایک دم سے اس کے وجود میں کیسے کانٹے آگ آئے؟ پھر بھی انہوں نے اپنی سماعتوں کو جھٹلاتے ہوئے دروازہ کھول کر اندر قدم رکھا تو سامنے کا منظر دیکھ کر ان کے ہاتھوں سے تحائف گر کر زمین بوس ہو گئے۔ نشا سر جھکائےپونچا لگا رہی تھی پانی سے نہیں بلکہ اپنی آنکھوں سے نکلنے والے انمول موتیوں سے۔ انہوں نے پہلی بار جانا کہ اس کی آنکھوں میں آنسو بھی بستے ہیں۔ اسی لمحے نشا کا سر اٹھا اور سامنے ماں باپ کو دیکھ کر وہ پتھر کی بن گئی اس کی ساس کی چلتی زبان کو بریک لگ گئے۔ وہ ایک کاٹ دار نظر دونوں پر ڈال کر نخوت سے منہ کے زاویے بگاڑتی وہاں سے چلی گئی تو قمر الدین اور پاریسا ایک دم ہوش میں آ گئے۔ وہ تڑپ کر آگے بڑھے۔ نشا آٹھ کھڑی ہوئی۔ پاریسا نے اس کے گیلے یخ بستہ ہاتھوں کو اپنی روتی ہوئی آنکھوں سے لگایا۔قمر الدین نے بیتابی سے کچھ پوچھنا چاہا مگر نشا نے لرزتی آواز میں انہیں وہاں سے جانے کو کہا۔ دونوں جیسے پتھر کے بن گئے۔ اتنی بیگانگی تو کوئی غیر بھی نہیں دکھاتا۔یہ ان کے جگر کا ٹکڑا کیا کہہ رہا ہے؟؟ اس لمحے پہلی بار ان کے دل نے بغاوت کی۔ درد کی ٹیسیں جب ان کے بھرم کا پردہ چاک کرنے لگیں تو پاریسا نے انہیں بازووں سے پکڑا اور گھبرا کر باہر چلی آئیں۔ نشا نے اپنے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کر چیخوں کو روکا اور اپنے کمرے کی طرف بھاگ گئی۔

گھر آکر حیران و پریشان قمر الدین کو پاریسا نرم لہجے میں سمجھانے لگیں کہ ہمیں بہت زیادہ صبر و ہمت سے کام لینا ہو گا۔ نئی زندگی کا آغاز آسان بات نہیں ہے۔ پر ان کے سوئی ایک ہی بات پر اٹکی رہی کہ آخر ان کی بیٹی نے کیا۔۔۔کیا ہے؟؟ کیا کمی ہے اس میں؟؟ پاریسا رو پڑی کہ کمی بیٹیوں میں نہیں ان کے نصیبوں میں ہوتی ہے۔ پھر ایک گھنٹے کے بعد ہی نشا کا فون آ گیا اور وہ رو رو کر خود پر بیتنے والے حالات بتانے لگی۔ اس کی ساس کو نشا کے جہیز کے سلسلہ میں بہت مایوسی ہوئی تھی۔ ان کی امیدیں آسمان کو چھو رہی تھیں۔ اپنے اکلوتے بیٹے کی "بدنصیبی” پر طنز کے تیر چلاتی رہتی تھیں۔ انہیں اشعر کے کاروبار کے لئے خطیر سرمائے کی ضرورت تھی۔ یہ شادی انہوں نے "ماں” بن کر نہیں بلکہ "سوداگر” بن کر کی تھی سو خسارہ برداشت نہ کر سکیں۔ قمر الدین کے منہ پر جہیز کا زرودار طمانچہ پڑا۔ وہ لمحہء حال میں آ گئے۔ بیٹی کو خوشیاں دینے کی خاطر انہوں نے اپنی اور پاریسا کی ہر خوشی کو قربان کر دیا۔
انہوں نے خود کو سنبھالتے ہوئے نشا کے وارڈروب کو کھولا۔ دیدہ زیب گوٹے اور زردوزی کے ملبوسات سہمے ہوئے کھڑے تھے۔ انہوں نے کسی طرح گھنٹوں کڑکتی دھوپ میں بازاروں کے چکر لگائے۔ فیس بک پر مشہور بوتیکس کے ڈریسز سرچ کرتے رہے۔ بلاشبہ وارڈروب میں قوس و قزح اتری ہوئی ہے۔ یہ آخری بارش کے بعد کی رنگینی ہے۔ اب برسات کا کوئی امکان نہیں۔ اس کی زندگی کے آخری رنگ ان کے دل کے تاروں کو ادھیڑ رہے تھے۔ پھر ان کی نظر جھلملاتی چوڑیوں پر پڑی وہ لرز کر رہ گئے۔ اپنی بیٹی کی چاندی کی رنگت والی گداز کلائیوں کا تصور کر کے وہ گہری سانس لے کر رہ گئے۔ انہوں نے اپنا سیل فون نکالا۔ نشا ان چوڑیوں کو پہن کر کس قدر خوش تھی۔ ان لمحات کو انہوں نے کیمرے میں قید کر کیا تھا۔ اچانک ہارن کی زوردار آواز سن کر وہ چونک گئے۔ وہ بھول گئے تھے کہ اپنی طلاق شدہ بیٹی کا سامان اٹھانے آئے ہیں۔ ان کے دل میں زوروں کی پکڑ دھکڑ شروع ہو گئی۔ آخر یہ چاہتا کیا ہے؟؟ ٹوٹے ہوئے خوابوں کے بوجھ سےان کے کندھے جھکنے لگے ہیں۔

اس وقت وہ ایک جھوٹی محبت کے دعویدار "قلاش” باپ تھے اور بس۔۔۔ انہوں نے تو جہیز کی صورت میں ایک ہنستی مسکراتی زندگی اپنے پورے رچاو کے ساتھ بیٹی کو سونپ دی تھی۔ خالی خولی محبت کا پھٹا ڈھول ان کے کانوں کو پھاڑنے لگا وہ لڑکھڑانے لگے۔ ان کے ہاتھوں سے چوڑیاں بلبلا کر نکلنے لگیں۔ فرش پر رنگ بکھرتے گئے۔ اچانک ان کی نظر کھلی کھڑکی سے جھانکتے نارنجی سورج پر پڑی چوڑیاں گول گول دائروں کی صورت میں رقص کر رہی تھیں۔ انجانے میں وہ سورج پر تہمت لگا بیٹھے تھے۔ وہ تیورا کر گرے، نحوست زدہ سورج تھا، شام نارنجی تھی اور بے کفن چوڑیاں کانچ بنتی جا رہی تھیں۔

Author

Related Articles

Back to top button