اُردو ادباُردو شاعریغزل
غزل / کوئی آخر رکھے نام و نَسَب کیوں یاد میرے / عابد رضا
غزل
کوئی آخر رکھے نام و نَسَب کیوں یاد میرے
کلوننگ* سے بنیں گے سینکڑوں ہم زاد میرے
لکھی ہے پھر کسی سرسبز سیارے کو ہجرت
زمیں بیمار ، باغ و کِشت ہیں برباد میرے
رَجََز خواں ، جینیاتی مورچوں پر ، تیغ کھینچے
لہو کی گردشوں میں ہیں کئی اجداد میرے
پھیلتی ہے مرے انکار کی سرخی افق پر
گلے کو کاٹتی ہے تیغِ استبداد میرے
نکل کر اے دلِ برباد تیری وحشتوں سے
خلائی بستیوں میں لوگ ہیں آباد میرے
دمشق اور اصفہاں سے داستاں سن کرتمھاری
چلے تھے قافلے کتنے سوئے بغداد میرے
بہت خوش ہے بظاہر یہ مشیں زادوں کی بستی
مگر اس شہر میں سب یار ہیں ناشاد میرے
* Cloning




