چرواہے کا گیت / شاعر: کرسٹوفر مارلو | مترجم: اعجازالحق

چرواہے کا گیت / شاعر: کرسٹوفر مارلو | مترجم: اعجازالحق
اے میری روحِ جاں!
آ، میرے ہمراہ کہ یہ خاکِ دلکش
یہ وادیاں، یہ مرغزار، یہ کوہسار
یہ سیماب رواں دریا، یہ کہساروں کے دامن میں پنہاں جنگل
تجھے وہ راحت بخشیں گے
جو عالمِ خواب میں بھی میسر نہیں
ہم ان پتھریلی چٹانوں پر جا بیٹھیں گے
جہاں چَرواہے اپنے ریوڑ ہانکتے ہیں
جہاں جھرنوں کی راہ گزر میں
عندلیب نغمہ سرا ہوں گے
اور ان کی مدھر راگ سے
تیری چشمِ ناز میں خوابوں کے دریچے وا ہوں گے
میں تیرے واسطے گل ہائے تر کا فرش بچھاؤں گا
خوشبوؤں میں بسے ہوئے ہار
سبز رُخسار پتوں کی زرکار قبا
خالص پشم کی دبیز چادر
جو نوخیز میمنوں کی لطافت میں لپٹی ہوگی
میں تیرے نازک قدموں کے لیے
وہ نعلین لاؤں گا
جو مخملی ہوں، جن پر زرنگار بندھن جڑے ہوں
اور جن میں کندن کی تمازت سمٹی ہو
سبز لعل و مرجان کے دانوں
عنبر کی خوشبو میں بسا
عشق پیچاں کی پتیوں سے
بنا ہوا کمر بند
یہ سب تیرے لیے
اگر تیرے دل کی گواہی ہم آہنگ ہو
دیکھ!
یہ چرواہے، یہ شبابِ رعنا
ہر مئی کی سحر تیرے لیے راگ الاپیں گے
مستِ وجد، تیرے نام کی مالا جپیں گے
خوابوں کی وادی میں تیری ہنسی کی گونج ہوگی
اگر تُو چاہے
تو آ! میرے ہمراہ، اور میری ماہ رخ بن!




