منتخب کالم

شرافت کے پیکر ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان / سید ولی شاہ آفریدی


پاکستان کی سیاسی تاریخ ایسے رہنماؤں سے مزین ہے، جنہوں نے اپنی بصیرت خدمت کے جذبے اور عوامی مسائل کے حل کی خاطر نمایاں کردار ادا کیا، انہی قابل ذکر شخصیات میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان کا نام بھی نمایاں ہے، جو نہ صرف ایک مدبر سیاستدان ہیں بلکہ سماجی رہنما کے طور پر بھی جانے جاتے ہیں۔سیدال خان نے سیاست میں قدم رکھتے ہی عوامی مسائل کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا، ان کی سیاست کا محور جمہوریت کا فروغ، پارلیمنٹ کی بالادستی اور عوام کی خدمت رہا ہے، ایوان بالا میں ان کی موجودگی ہمیشہ عوامی امنگوں کی ترجمانی کرتی ہے، بطور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ ایوان کی کارروائی کو شفاف، منصفانہ اور موثر انداز میں چلانے میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔آئینی اور قانونی معاملات میں ایوان کی رہنمائی بھی کرتے ہیں، ان کی موجودگی میں سینیٹ کے کئی اہم بل اور قراردادیں منظور ہوئیں جو ملک کی سیاسی و معاشی ترقی کیلئے سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔
سیدال خان کی خدمات صرف سیاست تک محدود نہیں بلکہ سماجی میدان میں بھی ان کا کردار مثالی ہے جو ہمیشہ غریب اور پسماندہ طبقے کی آواز بنے، ان کی شخصیت کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ ہمیشہ عام آدمی کے مسائل کو سمجھتے اور حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں،سیدال خان کی شخصیت میں برداشت، تحمل اور رواداری کا عنصر نمایاں ہے ان کا ویژن اورسیاست کا مقصد عوامی خدمت اور ملک و قوم کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان کی سیاسی و سماجی خدمات کسی سے پوشیدہ نہیں وہ عوامی مسائل کے حل، جمہوری اقدار کے فروغ اور سماجی انصاف کے علمبردار ہیں، ان کی جدوجہد اور خدمات نوجوان نسل کیلئے مشعل راہ ہیں۔
یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ وفادار مخلص کارکن ہی کسی بھی جماعت کا قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں، بلوچستان ضلع ژوب کے پشتون قبیلے ناصر سے تعلق رکھنے والے سیدال خان کا شمار بھی مخلص، نظریاتی اور وفادار لیگیوں میں ہوتا ہے کیونکہ 35 سالہ سیاسی سفر میں انہوں نے کبھی بھی وفاداری تبدیل نہیں کی، پرویز مشرف آمریت کے خلاف 8 سال تک آواز بلند کرتے رہے اس دوران اْنہیں دھمکیاں بھی دی گئیں اور اقتدار کا لالچ بھی دیا گیا لیکن وفا کے پیکر سیدال خان ناصر نے اپنے قائد محمد نواز شریف کے ساتھ وفا کی وہ لازوال داستان رقم کی جس کی تاریخ بلوچستان میں نہیں ملتی۔ ایم ایس ایف کے صدر بھی رہ چکے ہیں اور مسلم لیگ کے سینئر رہنما خواجہ سعد رفیق کے زیر سایہ یوتھ ونگ میں بھی فعال کردار ادا کیا ہے اور یوتھ ونگ کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) بلوچستان کے صوبائی نائب صدر، مرکزی جوائنٹ سیکرٹری اور 2016ء  میں وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور بھی رہ چکے ہیں۔ پرویز مشرف کے دور میں جب بلوچ سردار میاں محمد نواز شریف کا ساتھ چھوڑ گئے تو سیدال خان اپنے قائد کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے رہے، یہی وجہ ہے کہ آپ کا شمار پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر و سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا ہے۔آپ نے بلوچستان یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس میں ماسٹر کیا اور زمانہ طالب علمی سے مسلم لیگ کے ساتھ وابستہ ہیں۔ بعض سیاسی شخصیات یا رہنما جب اقتدار میں آتے ہیں اور انہیں وزیر یا مشیر کا عہدہ مل جاتا ہے تو وہ عوام کے ساتھ اپنا رابطہ منقطع کرلیتے ہیں اور پارٹی کارکنوں اور عہدیداروں کے ساتھ ملاقات تک گوارہ نہیں کرتے لیکن سیدال خان ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا عہدہ جو کہ آئینی عہدہ ہے پر فائز ہونے کے باوجود بھی پارٹی کارکنوں اور عہدیداروں کے ساتھ ملتے ہیں اور اپنے دفتر کے دروازے عام لوگوں کیلئے بھی بند نہیں کئے اور کارکن دوردراز علاقوں سے آکر اْن سے ملاقات کرتے ہیں اور موصوف خندہ پیشانی کے ساتھ لوگوں کے ساتھ مل کر خود اْن کے مسائل سنتے ہیں، سائلین اْن کے دفتر سے خوشی کے ساتھ رخصت ہوتے ہیں۔
’’انسانوں کی بے غرض خدمت کرنا ہی انسانیت کی معراج ہے’’





Source link

Author

Related Articles

Back to top button