اُردو ادباُردو شاعرینظم
جال / حسین عابد
جال
او سنہرے بالوں والی بیَری
میری میز پہ تیرے بدن کا بچھڑا ہوا اک حصہ
دیے کی مدھم لَو میں دمک رہا ہے
میری اکیلی شام کو
ایک سنہرے بال نے باندھ لیا ہے
شیشے کی دیوار کے پار
روشنیوں کے جال
اندر کندن رنگ شراب کا
آدھا بھرا گلاس
ایک سنہری ناگن جیسا
کروٹ لیتا
پھن لہراتا بال!
تیری خوش خوش چال میں دیکھوں
گھر جانے کی جلدی
میرے بندھے ٹِکے جذبوں کو
ڈر جانے کی جلدی
نظم مکمل کرلوں
بال تمہیں لوٹا دوں گا




