منتخب کالم

جشن آزادی کی ایک تقریب/ بلقیس ریاض



سارہ نے ہمیشہ کی طرح مجھے انوائٹ کیا…آپ جانتی تو ہیں۔ ہر سال کی طرح جشن آزادی کا فنکشن شام 4.30سے7.30بجے تک ہوتا ہے…امید ہے آپ آئیں گی.
میں نے اسے کہا۔انشااللہ میں ضرور آؤں گی۔
دوسرے دن چار بجے کے قریب گرمی اپنی انتہا پر تھی…ہوا ساکن تھی۔ مگر میں نے وعدہ کیا ہوا تھا کہ آؤں گی۔ 4.30 بجے جانا ممکن تو نہیں تھا۔ خیال یہی تھا کہ تھوڑا سا گرمی کا زور ٹوٹے تو جانے کیلئے تیار ہو جاؤں.
پانچ بجے کے قریب وہاں پہنچی تو سارہ طاہرنے اپنے گھر پر شاندار تقریب کا اہتمام کیا ہوا تھا۔ جو پاکستان کی ثقافتی اور صوبائی سبز رنگ کی جھنڈیوں سے آراستہ تھا۔ یہ تقریب وطن عزیز سے محبت کی نشانی تھی۔ بہت سے مہمان گرامی نظر آئے۔ بیگم بشریٰ اعتزاز، نیلم اسماعیل کریسنٹ ماڈل سکول کی پرنسپل صوفیہ قادر خان، مسز شہزاد ایڈوکیٹ، مسز خدیجہ منیب، ڈاکٹر اصغر مسعود اور دیگر فیملی ممبران شامل تھے…سب کے چہروں سے مسکان ٹپک رہی تھی۔ ان کے دلوں میں محبت اور خالص حب الوطنی کے جذبے موجزن تھے۔
چار سو سبز اور سفیدرنگ کی جھنڈیوں سے آراستہ بڑا سا پورچ جہاں پر پاکستانی کھانوں کا بوفے اورمہانوں کیلئے بیٹھنے کا انتظام بھی تھا.
فیملی ممبرز خوش لباس میں ملبوس ادھر سے ادھر گھوم رہے تھے اور مہمانوں کی تواضع خوشدلی سے کر رہے تھے۔ لان کے بائیں جانب انواح و اقسام کے پکوان پک رہے تھے۔ پوریاں، جلیبیاں تلی جا رہی تھیں۔ سب مہمان گرامی مزے مزے سے تناول کر رہے تھے۔ سارہ کی خوشی اس کے چہرے سے عیاں تھی۔ وہ لوگوں سے مل کر اتنی خوش ہو رہی تھی کہ جیسے وطن عزیز ابھی ابھی تشکیل پایا ہے.
بہرحال یہ جیسا بھی اپنا ملک ہے ہم لوگوں کو بہت عزیز ہے۔
قائد اعظم نے اتنی محنت کر کے اس ملک کا تحفہ ہمیں دیا اور بہت محنت، لگن اور محبت سے اس ملک کو سنوارنے کی کوشش کی تاکہ پاکستانی قوم خوشی کے ساتھ آزادانہ طریقے سے زندگی گزار سکے۔
قائداعظم کی محنت رنگ لائی اور یہ ملک بن گیا۔
آگے قائداعظم کی قوم کو بھی خیال ہونا چاہیے کہ اس ملک کو خون کی ندیاں بہا کر ہمارے لئے بنایا گیا ہے، اس کو بنایا سنوارا جائے…اور خوب ترقی کرنی چاہیے…اپنے آزاد ملک کی قدر کرنی چاہیے… محبت کرنی چاہیے۔
دیکھا جائے تو سارہ کو اپنے ملک سے بے حد محبت ہے جو اتنے بکھرے حالات میں اس نے ٹرسٹ سکول جیسا معیاری و منفرد تعلیمی ادارہ بنایا ہے۔ سکول جدید طریقوں سے بنائے گئے ہیں۔ وسیع و عریض کیمپس۔جہاں سکول کی کارگردگی پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔حالانکہ سیاسی پارٹیاں آپس میں دست و گریباں ہوں تو وہاں تعلیم کا حصول اور اس کا فروغ دشوار نظر آتا ہے۔ آس پاس منظر کو دیکھا جائے تو یہ ٹرسٹ سکول بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔ انگلش میڈیم سکولوں کیلئے جو فیس دینے کی استطاعت نہ رکھتے ہوں ان کیلئے چالیس فیصد رعایت ہے.
یہ بات ایک معجزے سے کم نہیں…بعض پرائیویٹ سکولوں میں اگر پوری فیس نہ دی جائے تو اگرچہ استطاعت نہ بھی رکھتے ہوں تو ان بچوں کو داخلہ نہیں ملتا۔ مگر سارہ کے ٹرسٹ سکولوں میں چالیس فیصد رعایت ہے…یہ بھی بڑی خوبی اور نیکی کی بات ہے۔
ہمارے ملک میں غریب بچوں کی تعلیم پر دھیان نہیں دیا جاتا کیونکہ بڑی وجہ ان کی غربت ہے۔
ایک صحیح معاشرہ تشکیل دینے کیلئے ہر فرد کا تعلیم یافتہ ہونا بہت ضروری ہے۔ مگر بد قسمتی سے وہ ان کو روٹی ہی کھلا سکیں تو بڑی بات ہے اور ہمارے سفید پوش کسی کی مدد لینا نہیں چاہتے۔
اس ملک کی ترقی کیلئے تعلیم جیسے زیور کی بے انتہا ضرورت ہے۔ تعلیم انسان کو انسان بناتی ہے۔ ذہن کو روشن کرتی ہے…اور مہذب کرتی ہے۔ اس کی روشنی میں ہر گھر میں اجالا ہو جاتا ہے۔ اس اجالے کو روشن کرنے کیلئے پھر سے لکھنا پڑتا ہے کہ سارہ نے چالیس فیصداپنے سکولوں میں فیس مفت کی ہے۔ وہ غریب اور نادار لوگوں کیلئے میرے خیال سے یہ بہت بڑی نیکی ہے۔
اللہ کرے لوگ آزادی کی نعمت کو محسوس کریں اور بحیثیت قوم مل کر متحد ہو کر راہ راست پر چلیں اور پاکستان کو خوشحال بنائیں…تاکہ دوسرے ملکوں میں ہمارا سر بھی فخر سے بلند ہو اور بہترین ملکوں میں ہمارا بھی نام آجائے۔آمین۔





Source link

Author

Related Articles

Back to top button