شیریں ، نیلی بلی اور چوہوں کی دوستی/ تحریر : عطرت بتول

شیریں بہت پیاری لڑکی تھی وہ تیسری کلاس میں پڑھتی تھی ۔اس سال اسے اپنی سالگرہ پر بہت اچھا تحفہ ملا ، اصل میں اس کے چاچو کو پتہ تھا کہ شیریں کو بلیاں بہت پسند ہیں اس لیے وہ بیرون ملک سے اس کے لیے بہت اچھی نسل کی سفید بلی لے کر آئے۔
یہ تحفہ پا کر شیریں بہت خوش ہوئی بلی بہت خوبصورت تھی بالکل سفید اور اس کی نیلی آ نکھیں تھیں وہ بہت سمجھ دار تھی شیریں کی ہر بات سمجھتی تھی ، شیریں نے اس کی نیلی آنکھوں کی وجہ سے اس کا نام نیلی رکھ لیا تھا
شیریں اسے بہت پیار کرتی تھی اسے گود میں اٹھائے پھرتی تھی اسے اپنے ساتھ ڈائیٹنگ ٹیبل پر بٹھاتی تھی اور اپنے کمرے میں اس کا چھوٹا سا گلابی جھالروں والا بیڈ لگا دیا تھا ، اتنی توجہ اور پیار پا کر نیلی زرا سا مغرور ہوگئی تھی جب وہ لان میں گیند سے کھیل رہی ہوتی تو دیوار پر سے گزرنے والی کوئی بلی اسے آواز دیتی تو اسے بہت برا لگتا وہ غصے سے کہتی جاؤ یہاں سے تم مجھے بالکل پسند نہیں ہو۔
لان میں ایک بل میں چوہے رہتے تھے پہلے پہلے تو وہ بہت ڈرتے تھے اور نیلی کو دیکھ کر بھاگ کر اپنے بل میں چھپ جاتے تھے لیکن پھر انہیں اندازہ ہوگیا کہ یہ ہمیں نہیں کھاے گی کیونکہ انہوں نے سن لیا تھا وہ کسی سے کہہ رہی تھی کہ میں یہ گندے چوہے کھانے والی بلی نہیں ہوں میں تو بلیوں کی ملکہ ہوں میرا تو خاص کھانا ہوتا ہے ، اس لیے اب یہ چوہے اس سے ڈرتے نہیں تھے بلکہ نیلی جب بھی لان میں ہوتی ادھر ادھر ہو جاتے تھے لیکن وکی مکی دو چوہے بہت شرارتی تھے وہ نیلی کو تنگ کرکے بہت ہنستے تھے کبھی اس کی گیند اٹھا کر بھاگ جاتے تھے کبھی جب وہ اپنے خوبصورت سے برتن میں مزے سے کھانا کھا رہی ہوتی اس کے پاس آ جاتے وہ غصے سے کہتی بھاگ جاؤ یہاں سے تم میں سے بو آ رہی ہے گندے چوہو۔۔
ایک دن تو غضب ہوگیا وہ اپنے گولڈن کپ میں دودھ پی رہی تھی اتنے میں اس نے شیریں کو اسکول سے واپس آ تے دیکھا وہ بھاگ کر اس کی گود میں چڑھ گئی شیریں نے اسے پیار کیا اور کہا جاؤ پہلے اپنا دودھ پی لو میں یونیفارم بدل کر آ تی ہوں پھر لان میں کھیلتے ہیں
جب شیریں اندر چلی گئی اور نیلی اپنے دودھ کے برتن کے پاس آئی تو کیا دیکھا وکی اور مکی مزے سے دودھ پی رہے تھے۔ اب تو نیلی کا غصے سے برا حال ہوگیا اس نے پنجہ مار کر سارا دودھ گرا دیا وکی مکی بھاگ کر بل میں چھپ گئے۔
نیلی نے پہلے تو شیریں سے ان چوہوں کی شکایت لگائی پھر ان سے بدلہ لینے کی ترکیب سوچنے لگی اسے یاد آ یا کہ ایک دن شیریں کچھ خریدنے اسٹور گئی تھی وہ بھی اس کے ساتھ تھی اس نے دیکھا تھا کہ ایک جگہ لکھا تھا چوہے مار چاکلیٹ دستیاب ہے دوکاندار نے شیریں کو بتایا کہ جس گھر میں بہت زیادہ چوہے ہوجاتے ہیں وہ یہ خرید کر لے جاتے ہیں جب چوہے اسے کھانے کی چیز سمجھ کر کھا لیتے ہیں تو مر جاتے ہیں یا پھر پاگل ہو کر باہر بھاگ جاتے ہیں
شیریں نے بتایا ہمیں تو اس کی ضرورت نہیں ہمارے گھر میں تو نہیں ہیں بس باہر لان میں ہوتے ہیں تھوڑی دیر کھیل کر بل میں چلے جاتے ہیں
نیلی کو یہ ساری بات یاد آ رہی تھی وہ سوچ رہی تھی کہ اگر اس دن شیریں یہ چاکلیٹ خرید لاتی تو کتنا اچھا ہوتا وہ چپکے سے جا کر وکی مکی کے بل میں رکھ دیتی اور ان کا صفایا ہو جاتا
آ خر ایک دن نیلی کو پھر شیریں کے ساتھ مارکیٹ جانے کا موقع مل گیا شیریں اسٹور میں چیزیں خرید رہی تھی اور نیلی نے سب کی نظر بچا کر وہ چاکلیٹ پنجوں میں دبائی اور شیریں کے شاپنگ بیگ میں سامان کے نیچے رکھ دی کسی کو پتہ نہیں چلا
گھر آ کر شیریں شاپنگ بیگ کچن میں رکھ کر کمرے میں گئی تو نیلی نے جلدی سے اس میں سے چاکلیٹ نکالی اور بھاگ کر چوہوں کی بل کے پاس رکھ دی اور خود درخت کے پیچھے چھپ گئی اسے چھپے تھوڑی دیر ہی ہوئی تھی کہ مکی بل سے باہر آ یا چاکلیٹ دیکھ کر بہت خوش ہوا مزے سے کھانے لگا پھر اس نے وکی کو زور سے آ واز دی وکی ایک پودے کے پیچھے سے باہر آ یا مکی کو چاکلیٹ کھاتے دیکھ کر بولا کیسی ہے ؟
بہت مزے کی ہے ، مکی نے جواب دیا
سنو مکی ، وکی بولا یہ چاکلیٹ نیلی رکھ کر گئی ہے میں نے پودے کے پیچھے سے خود دیکھا ہے
اچھا مکی بولا ، شاید وہ ہم سے دوستی کرنا چاہتی ہے تبھی اتنے مزے کی چاکلیٹ ہمارے لیے لے کر آئی
بالکل ٹھیک ، مکی بولا
چلو جاکر اس سے سوری کرتے ہیں اب اسے کبھی تنگ نہیں کریں گے
نیلی درخت سے اتر آئی تھی ان دونوں کو اپنی طرف آ تے دیکھ کر دل ہی دل میں مسکرا رہی تھی کہ بچو جی اب تم مرو گے
وکی مکی اس کے پاس پہنچ کر بولے پلیز ہمیں معاف کر دو اب ہم تمہیں کبھی تنگ نہیں کریں گے کبھی تمہارے راستے میں بھی نہیں آ ئیں گے پیاری نیلی سوری
ٹھیک ہے معاف کیا وہ شان سے بولی اور اندر بھاگ گئی دل میں یہی سوچ رہی تھی کہ تم زندہ رہو گے تو تنگ کرو گے نا
لیکن کتنے دن ہوگئے وکی مکی کو کچھ بھی نہیں ہوا بلکہ جب بھی ان کی نظر نیلی پر پڑتی وہ بڑے احترام سے اسے سلام کرتے اور رستہ چھوڑ جاتے
اصل میں نیلی نے جو چاکلیٹ چھپائی تھی اسٹور میں وہ چوہے مار والی نہیں تھی بلکہ اصلی والی مہنگی چاکلیٹ تھی نیلی کو پڑھنا تو آ تا نہیں تھا چوہے مار چاکلیٹ پر تو واضح لکھا ہوتا ہے کہ یہ کس لیے ہے
اب وہ روز انتظار کرتی کہ شاید وکی مکی مر جائیں یا پاگل ہو کر بھاگ جائیں لیکن وہ تو روز اسے سلام کرتے تنگ تو بالکل نہیں کرتے اس کی گیند اگر دور چلی جاتی تو اسے پکڑ کر نیلی کو دے دیتے
اب نیلی نے سوچا میں غلطی سے ایسی چاکلیٹ لے آ ئی تھی جو چوہوں کو اچھا بنانے والی تھی مارنے والی نہیں
چلو اب تو اچھا بن ہی گئے ہیں تو پھر میں ان سے دوستی کر لیتی ہوں نیلی نے ایک دن سوچا
اب جناب نیلی وکی مکی پکے دوست بن گئے مل کر کھیلتے تھے کوئی کسی کو تنگ نہیں کرتا تھا
تو بچو کیسی لگی بلی چوہوں کی دوستی ؟
شیریں بہت پیاری لڑکی تھی۔ وہ کلاس تھری میں پڑھتی۔ اس سال اسے اپنی سالگرہ پر بہت اچھا تحفہ ملا۔ اصل میں اس کے چاچو کو پتہ تھا کہ شیریں کو بلیاں بہت پسند ہیں، اس لیے وہ بیرونِ ملک سے اس کے لیے بہت اچھی نسل کی سفید بلی لے کر آئے۔
یہ تحفہ پا کر شیریں بہت خوش ہوئی۔ بلی بہت خوبصورت تھی، بالکل سفید اور اس کی نیلی آنکھیں تھیں۔ وہ بہت سمجھ دار تھی، شیریں کی ہر بات سمجھتی تھی۔ شیریں نے اس کی نیلی آنکھوں کی وجہ سے اس کا نام نیلی رکھ لیا تھا۔
شیریں اسے بہت پیار کرتی تھی۔ اسے گود میں اٹھائے پھرتی تھی۔ اسے اپنے ساتھ ڈائننگ ٹیبل پر بٹھاتی تھی اور اپنے کمرے میں اس کا چھوٹا سا گلابی جھالروں والا بیڈ لگا دیا تھا۔ اتنی توجہ اور پیار پا کر نیلی ذرا سا مغرور ہوگئی تھی۔ جب وہ لان میں گیند سے کھیل رہی ہوتی تو دیوار پر سے گزرنے والی کوئی بلی اسے آواز دیتی تو اسے بہت برا لگتا۔ وہ غصے سے کہتی: "جاؤ یہاں سے! تم مجھے بالکل پسند نہیں ہو۔”
لان میں ایک بل میں چوہے رہتے تھے۔ پہلے تو وہ بہت ڈرتے تھے اور نیلی کو دیکھ کر بھاگ کر اپنے بل میں چھپ جاتے تھے۔ لیکن پھر انہیں اندازہ ہوگیا کہ یہ ہمیں نہیں کھائے گی۔ کیونکہ انہوں نے سن لیا تھا کہ وہ کسی سے کہہ رہی تھی: "میں یہ گندے چوہے کھانے والی بلی نہیں ہوں۔ میں تو بلیوں کی ملکہ ہوں۔ میرا تو خاص کھانا ہوتا ہے۔” اس لیے اب یہ چوہے اس سے ڈرتے نہیں تھے، بلکہ نیلی جب بھی لان میں ہوتی ادھر اُدھر ہو جاتے تھے۔
لیکن وکی اور مکی دو چوہے بہت شرارتی تھے۔ وہ نیلی کو تنگ کرکے بہت ہنستے تھے۔ کبھی اس کی گیند اٹھا کر بھاگ جاتے تھے، کبھی جب وہ اپنے خوبصورت سے برتن میں مزے سے کھانا کھا رہی ہوتی تو اس کے پاس آ جاتے۔ وہ غصے سے کہتی: "بھاگ جاؤ یہاں سے! تم میں سے بو آ رہی ہے، گندے چوہو۔”
ایک دن تو غضب ہوگیا۔ وہ اپنے گولڈن کپ میں دودھ پی رہی تھی، اتنے میں اس نے شیریں کو اسکول سے واپس آتے دیکھا۔ وہ بھاگ کر اس کی گود میں چڑھ گئی۔ شیریں نے اسے پیار کیا اور کہا: "جاؤ، پہلے اپنا دودھ پی لو۔ میں یونیفارم بدل کر آتی ہوں، پھر لان میں کھیلتے ہیں۔”
جب شیریں اندر چلی گئی اور نیلی اپنے دودھ کے برتن کے پاس آئی تو کیا دیکھا؟ وکی اور مکی مزے سے دودھ پی رہے تھے۔ اب تو نیلی کا غصے سے برا حال ہوگیا۔ اس نے پنجہ مار کر سارا دودھ گرا دیا۔ وکی اور مکی بھاگ کر بل میں چھپ گئے۔
نیلی نے پہلے تو شیریں سے ان چوہوں کی شکایت لگائی، پھر ان سے بدلہ لینے کی ترکیب سوچنے لگی۔ اسے یاد آیا کہ ایک دن شیریں کچھ خریدنے اسٹور گئی تھی۔ وہ بھی اس کے ساتھ تھی۔ اس نے دیکھا تھا کہ ایک جگہ لکھا تھا "چوہے مار چاکلیٹ دستیاب ہے۔” دوکاندار نے شیریں کو بتایا کہ جس گھر میں بہت زیادہ چوہے ہوجاتے ہیں وہ یہ خرید کر لے جاتے ہیں۔ جب چوہے اسے کھانے کی چیز سمجھ کر کھا لیتے ہیں تو مر جاتے ہیں یا پھر پاگل ہو کر باہر بھاگ جاتے ہیں۔
شیریں نے بتایا: "ہمیں تو اس کی ضرورت نہیں۔ ہمارے گھر میں تو نہیں ہیں، بس باہر لان میں ہوتے ہیں، تھوڑی دیر کھیل کر بل میں چلے جاتے ہیں۔”
نیلی کو یہ ساری بات یاد آ رہی تھی۔ وہ سوچ رہی تھی کہ اگر اس دن شیریں یہ چاکلیٹ خرید لاتی تو کتنا اچھا ہوتا۔ وہ چپکے سے جا کر وکی مکی کے بل میں رکھ دیتی اور ان کا صفایا ہو جاتا۔
آخر ایک دن نیلی کو پھر شیریں کے ساتھ مارکیٹ جانے کا موقع مل گیا۔ شیریں اسٹور میں چیزیں خرید رہی تھی اور نیلی نے سب کی نظر بچا کر وہ چاکلیٹ پنجوں میں دبائی اور شیریں کے شاپنگ بیگ میں سامان کے نیچے رکھ دی۔ کسی کو پتہ نہیں چلا۔
گھر آ کر شیریں شاپنگ بیگ کچن میں رکھ کر کمرے میں گئی تو نیلی نے جلدی سے اس میں سے چاکلیٹ نکالی اور بھاگ کر چوہوں کے بل کے پاس رکھ دی اور خود درخت کے پیچھے چھپ گئی۔ اسے چھپے تھوڑی دیر ہی ہوئی تھی کہ مکی بل سے باہر آیا۔ چاکلیٹ دیکھ کر بہت خوش ہوا اور مزے سے کھانے لگا۔ پھر اس نے وکی کو زور سے آواز دی۔ وکی ایک پودے کے پیچھے سے باہر آیا۔ مکی کو چاکلیٹ کھاتے دیکھ کر بولا:
"کیسی ہے؟”
"بہت مزے کی ہے!” مکی نے جواب دیا۔
"سنو مکی!” وکی بولا۔ "یہ چاکلیٹ نیلی رکھ کر گئی ہے۔ میں نے پودے کے پیچھے سے خود دیکھا ہے۔”
"اچھا؟” مکی بولا۔ "شاید وہ ہم سے دوستی کرنا چاہتی ہے۔ تبھی اتنے مزے کی چاکلیٹ ہمارے لیے لے کر آئی ہے۔”
"بالکل ٹھیک!” وکی بولا۔ "چلو جا کر اس سے سوری کرتے ہیں۔ اب اسے کبھی تنگ نہیں کریں گے۔”
نیلی درخت سے اتر آئی تھی۔ ان دونوں کو اپنی طرف آتے دیکھ کر دل ہی دل میں مسکرا رہی تھی کہ: "بچو جی! اب تم مرو گے۔”
وکی اور مکی اس کے پاس پہنچ کر بولے:
"پلیز ہمیں معاف کر دو۔ اب ہم تمہیں کبھی تنگ نہیں کریں گے۔ کبھی تمہارے راستے میں بھی نہیں آئیں گے۔ پیاری نیلی! سوری۔”
"ٹھیک ہے، معاف کیا!” وہ شان سے بولی اور اندر بھاگ گئی۔ دل میں یہی سوچ رہی تھی کہ: "تم زندہ رہو گے تو تنگ کرو گے نا!”
لیکن کتنے دن ہوگئے، وکی مکی کو کچھ بھی نہیں ہوا۔ بلکہ جب بھی ان کی نظر نیلی پر پڑتی وہ بڑے احترام سے اسے سلام کرتے اور رستہ چھوڑ دیتے۔ اصل میں نیلی نے جو چاکلیٹ چھپائی تھی، اسٹور میں وہ "چوہے مار والی” نہیں تھی بلکہ اصلی والی مہنگی چاکلیٹ تھی۔ نیلی کو پڑھنا تو آتا نہیں تھا۔ "چوہے مار چاکلیٹ” پر تو واضح لکھا ہوتا ہے کہ یہ کس لیے ہے۔
اب وہ روز انتظار کرتی کہ شاید وکی مکی مر جائیں یا پاگل ہو کر بھاگ جائیں، لیکن وہ تو روز اسے سلام کرتے۔ تنگ تو بالکل نہیں کرتے۔ اس کی گیند اگر دور چلی جاتی تو اسے پکڑ کر نیلی کو دے دیتے۔
اب نیلی نے سوچا: "میں غلطی سے ایسی چاکلیٹ لے آئی تھی جو چوہوں کو اچھا بنانے والی تھی، مارنے والی نہیں۔ چلو، اب تو اچھے بن ہی گئے ہیں تو پھر میں ان سے دوستی کر لیتی ہوں نیلی نے ایک دن سوچا۔
اب جناب! نیلی، وکی اور مکی پکے دوست بن گئے۔ مل کر کھیلتے تھے۔ کوئی کسی کو تنگ نہیں کرتا تھا۔
تو بچو! کیسی لگی بلی چوہوں کی دوستی؟




