کھڑکیاں کھول دو / مہرو ندا احمد

کھڑکیاں کھول دو
کہ ہوا روشنی اور نم
کا جو فقدان ہے
دور ہو
اور اندر کا بڑھتا ہوا
خوف اور بے کلی
صرف مرنے کی خاطر نہ زندہ رہو
اپنی کھڑکی سے لگ کر کبھی
چاندنی رات کا
حسن دیکھو ، ستاروں کی باتیں سنو
صبحِ نورِ ازل کی نفاست سے موتی چنو
گل دوپہری کے نغمے سنو
اور دیکھو کہ چیری کے بوٹے پہ رونق یونہی تو نہیں آگئی
اس نے کی ہے ریاضت
ریاضت ، عبادت سنو
!
ٹھیک ہے تم گنہگار تھے
یہ بھی اچھا ہوا
اک گنہگار کی آنکھ سے
ذہن و دل عام حالت سے ہٹ کر سوا دیکھتا ہے
خدائے محبت کی جاگیر کو
حوصلہ کر کے دیکھو کہیں
شہر بارش میں دھل کر نکھر جاتے ہیں
تم بھی بند کھڑکیوں کے عذابوں سے خود کو نکالو کبھی
اور بارش کو آواز دو
کھڑکیاں جو دروں ذات کھلتی ہیں
بارش کا منبع و مرکز وہیں ہے کہیں
آنکھ کھولو تو معلوم ہو
حبس کی انتہا نے دروں
ربِّ واحد کا ہونا بھی موہوم سا کردیا ہے
وگرنہ وہیں بارشوں کے فرشتے کھڑے ہیں
جو منظر بدل دیتے ہیں
اور وہیں پر خدا یعنی مسند نشیں
یعنی نگراں ، محافظ ، معاون ، مددگار ہے
دوست لیکن یہ اجڑا بیاباں سا منظر بدلنے کی خاطر
بدلنا پڑے گا نظارہ
ستارہ جگانا پڑے گا جسے تم ” گناہ اور ثوابوں ” کی تکرار میں نیند کی گولیاں دے چکے
اور اب یہ سمجھتے ہو سب کچھ اکارت ہوا
کچھ اکارت نہیں
زندگی موت سے ہی عبارت نہیں
ہے بجھارت کوئی
بوجھ لو
خوش رہو
کھڑکیاں کھول دو




