اُردو ادباُردو شاعریغزل
غزل / دعائے خیر نہ وہ شخص دسترس سے ملا / گل جہان
غزل
دعائے خیر نہ وہ شخص دسترس سے ملا
ہلال عشق کا رستہ مجھے ہوس سے ملا
اسی لیے تو وسیلوں کو مانتا ہوں بہت
میں تم سے ملنے سے پہلے تمھاری بس سے ملا
حسیں خمیر کے سارے خلل منافق ہیں
تمھارے بعد میں تم جیسے آٹھ دس سے ملا
اب اس کے غم کے منانے کا کیا حوالہ دوں
مری اداسی کو وقفہ بھی پیش و پس سے ملا
مبالغے کی کوئی اپنی حس نہیں ہوتی
ہمیشہ کام مجھے کلیہ ء عبث سے ملا
تو کیا یہ شرک کی جانب کوئی اشارہ نہیں
کسی کا ذائقہ مجھ کو تمھارے رس سے ملا
نہ ڈال آتش و گِل کے مجھے تلکف میں
خدایا مجھ کو مرے پہلے خار و خس سے ملا
جو ہم کو مل کے اداسی پیٹ بھرنا ہے
تو اپنے غم کے حصص کو مرے حصص سے ملا
کسی خدا کے تعاقب میں جھول کھاتے ہوئے
مجھے خود اپنا پتہ مرکزی کلس سے ملا




