اُردو ادباُردو شاعرینظم
انسومنیا / عائزہ علی خان
انسومنیا
شام ڈھلے منڈیروں پر
سفید کبوتر ہانپے ہوئے بیٹھ جاتے ہیں
سورج کہیں دور سمندر کی اوٹ میں
اپنے رنگ چھوڑتا ہے
تخیل کے تراشے کرداروں میں پناہ تلاش کرتے ہم
حقیقت سے فرار ڈھونڈتے ہیں
اور یوں زندگی کی آدھی روٹی
بھوکے خوابوں کا پیٹ بھرنے میں
خرچ ہوجاتی ہے
برقی دنیا کی رنگیلی گیند پر سوار ہو کر
اِدھر اُدھر لڑھکتے ہوئے
ہم کسی ایسی جگہ اٹک جاتے ہیں
جو ہمارے بچپن کے کمپلیکس کو
بڑھا دیتی ہے
یا ہماری خواہشات کی تیز انیاں
آنکھوں میں چھبوتی ہے
اور ہم رونے لگتے ہیں
لیکن آنسوؤں کی ڈیجیٹل منتقلی ممکن نہیں
جب تمہیں نیند نہ آئے
تو تم روشن سکرین پر
کئی طرح کی گیمز کھیل سکتے ہو
اور اپنی بے خوابی کا انتقام لینے کے لیے
تم کھیل سکتے ہو
کسی کے دل کے ساتھ بھی




