اُردو ادباُردو شاعریغزل

غزل / اب وہی لوگ بناتے ہیں تماشے تیرے / اسراء سحر

غزل

 

اب وہی لوگ بناتے ہیں تماشے تیرے

سر جھکائے جو کھڑے رہتے تھے آگے تیرے

 

میری خواہش ہے کہ رفتار بڑھاؤں تیری

لیکن اس بات پہ کھل جائیں نہ تسمے تیرے

 

کون چاہے ترے ٹھکرائے ہوئے لوگوں کو

کون گائے تری آواز میں نغمے تیرے

 

کون اس حبس کے ماحول میں دیکھے گا تجھے 

کون کھولے گا مرے بعد دریچے تیرے

 

تو نے کچھ طنز کیے اور میں وہیں ہار گئی 

وقت سے تیز لگے مجھ کو طمانچے تیرے

 

ٹھیک اس وقت تجھے ہم سے بغاوت سوجھی 

ہم نے جب سیکھ لیے طور طریقے تیرے

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

Related Articles

Back to top button