
اردو ورثہ اور تخیل فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام احسن بودلہ کی کتاب کی تقریبِ پذیرائی بروز اتوار، پلاک ( پنجاب انسٹیٹیوٹ آف لینگویجز آرٹ اینڈ کلچر) کے چائنیز ہال، قذافی اسٹیڈیم لاہور میں شاندار انداز میں منعقد ہوئی۔ صدارت کا شرف محترمہ مسرت کلانچوی کو حاصل ہوا جبکہ نظامت کے فرائض محترمہ کنول بہزاد نے نہایت مہارت، اعتماد اور خوش اسلوبی سے انجام دی، جس سے پروگرام میں ربط اور دلکشی برقرار رہی۔
تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد کنول بہزاد نے قرۃالعین شعیب( بانی اردو ورثہ ) کو اسٹیج پر مدعو کیا تاکہ وہ اردو ورثہ کا تعارف پیش کریں۔ قرۃالعین شعیب نے بتایا کہ اردو ورثہ کا آغاز 2019 میں ایک ویب سائٹ کے طور پر ہوا، جس کا بنیادی مقصد نوجوان نسل کو اردو زبان و ادب سے دوبارہ جوڑنا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اس تصور کی بنیاد محترم شعیب طاہر کے مشاہدات پر رکھی گئی، جو بطور ایجوکیشنسٹ طلبہ کے رویوں میں آتی تبدیلیوں کو دیکھتے رہے اور اس نتیجے پر پہنچے کہ نئی نسل تیزی سے اردو سے دور ہو رہی ہے۔ یہی احساس ان کے لیے ایک تحریک بنا کہ وہ اپنے حصے کی شمع جلائیں اور زبان کی بقا کے لیے عملی قدم اٹھائیں۔ اس لیے دونوں نے مل کر اردو ورثہ ویب سائیٹ کا کام شروع کیا جو اب ایک ادارے کی شکل اختیار کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اب وہ تخیل فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھ رہی ہیں، جو اسکولوں میں اردو ادب کی ترویج کے لیے بھرپور انداز میں کام کرے گی۔ اس فاؤنڈیشن کا مقصد بچوں میں کہانی لکھنے، اردو بولنے، سننے اور تخلیقی اظہار کی صلاحیت کو اپنی زبان میں پروان چڑھانا ہے۔ ساتھ ہی بچوں کے ادب پر کام کرنے والے تخلیق کاروں کو براہِ راست بچوں تک پہنچانے کا انتظام بھی کیا جائے گا تاکہ معیاری اور بامقصد ادب نوجوان قارئین تک پہنچ سکے۔ اس موقع پر انہوں نے ایک اہم اعلان کیا کہ تخیل فاؤنڈیشن کی ڈائریکٹر محترمہ کنول بہزاد ہوں گی، جو بچوں کے ادب میں نمایاں مقام رکھتی ہیں۔ ان کی الف لیلیٰ سیریز میں سو کہانیوں پر مشتمل کتب شائع ہو چکی ہیں جبکہ ان کی کہانیاں پاکستان ایسوسی ایشن آف رائٹرز دبئی میں بھی پیش کی جائیں گی۔
تقریب کے مقررین میں تنویر جہاں، رقیہ اکبر، دعا عظیمی، نوین روما، سعدیہ صلاح الدین، ثانیہ شیخ اور صبا ممتاز بانو شامل تھیں، جنہوں نے کتاب پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ نوین روما نے صاحبِ کتاب کو مبارکباد دیتے ہوئے فیمنزم کے موضوع پر گفتگو کی۔ ان کا کہنا تھا کہ فیمنزم کا مطلب مرد سے برتری یا نفرت نہیں بلکہ عورت کو اس کے بنیادی حقوق فراہم کرنا ہے، جن میں سب سے اہم تعلیم اور معاشی خودمختاری ہیں۔ انہوں نے کہا:
"جب میں اپنے والد، بھائی اور بیٹے کے بارے میں سوچتی ہوں تو میرا دل خوشی اور سکون سے بھر جاتا ہے، کیونکہ یہ رشتے نہایت قیمتی اور خوبصورت ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ کہا جاتا ہے عورت عورت کی دشمن ہے۔ اگر ساس معاشی طور پر مستحکم ہوگی تو وہ بہو کی آزادی پر قدغن نہیں لگائے گی۔ ایسا تب ہوتا ہے جب وہ معاشی طور پر بیٹے کی محتاج ہو۔ وہ اپنے سروایول کی جنگ لڑتی ہے۔ اس کی لڑائی عورت سے نہیں ہوتی۔ یہ ایک نفسیاتی معاملہ ہے۔
رقیہ اکبر کا کہنا تھا کہ عورت کے حقوق کی بات کو ایک جنگ بنا دیا گیا ہے اور اسے ٹرول کیا جاتا ہے۔ اور عمومی مغالطہ یہ پایا جاتا ہے کہ فیمنسٹ ہونے کا مطلب ہے کہ مادر پدر آزادی عورت چاہتی ہے۔ جب کہ اپنے حق کی بات کرنے کا مطلب دوسرے کے حقوق کو سلب کرنا نہیں ہوتا نہ ہی اس سے زیادہ حقوقِ کی بات ہے۔ جب کہ ہمارا مطالبہ بحیثیت انسان برابر کے حقوق ہیں۔ جب عبادت کے فرائض میں اللہ نے عورت اور مرد کو برابر رکھا ہے تو انسانی حقوق میں بھی برابری ہونی چاہیے۔ اور اسلامی تعلیمات کے بھی غلط معنی نکالے جاتے ہیں۔ جب کہ اسلام نے عورت کو تحفظ اور مکمل حقوق دیے ہیں۔
دعا عظیمی نے کہا کہ احسن بودلہ نے بھڑ کے چھتے میں ہاتھ ڈال دیا ہے۔ کیونکہ یہ موضوع ایسا ہے۔ اور انھیں اس پر کافی مخالفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ انہوں نے کہا احسن بودلہ نے ایک ممتا کے جذبے کے تحت اس کتاب کو لکھا ہے۔ اور بہت سی غلط فہمیوں کے ازالہ کی بھی کوشش کی ہے۔
تنویر جہاں نے کتاب پر تفصیلی اور تنقیدی گفتگو کرتے ہوئے بطور سینئر لکھاری ہر باب کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ انہوں نے ان نکات کی نشاندہی کی جہاں بہتری کی گنجائش موجود تھی، اور کہا کہ فیمنزم کے نام پر لگائے جانے والے کچھ نعرے عورت کے حقیقی مسائل کی نمائندگی نہیں کرتے۔ ان کے مطابق کھانا گرم کرنا یا نہ کرنا عورت کا اصل مسئلہ نہیں، بلکہ اصل چیلنج عورت کا معاشی استحکام اور بنیادی حقوق تک رسائی ہے۔ ان کا انداز ایک استاد کی مانند تھا، جو اصلاح اور رہنمائی کے ساتھ نئی نسل کو سیکھنے کا موقع دیتا ہے۔
ثانیہ شیخ نے بھی احسن بودلہ کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ انہوں نے بطور ہاؤس وائف یہ کوشش کی ہے کہ جو آزادی اور حقوق انہیں میسر نہ آ سکے، ان کی بیٹیاں اس سے کبھی محروم نہ رہیں۔ اسی مقصد کے تحت انہوں نے اپنی بیٹیوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائی۔ ان کے مطابق، اگر ایک عورت دوسری عورت کے لیے سہولتیں اور مواقع پیدا کر کے اسے کامیاب بنائے تو یہ بھی فیمنزم ہے۔”
سعدیہ صلاح الدین نے اپنے صحافتی دور میں پیش آنے والے واقعات کا ذکر کیا جہاں عورت کے ساتھ بے شمار مظالم کی کہانیوں کو انہوں نے رپورٹ کیا اور بہت سی خواتین کے انٹرویوز کیے۔ انہوں نے بھی عورت کی معاشی خود مختاری کے حق میں بات کی۔
ڈاکٹر امجد طفیل نے بطور ماہرِ نفسیات کتاب کا تجزیہ پیش کیا اور اس میں نفسیاتی پہلوؤں کی کمی کو اجاگر کیا، جس سے گفتگو کا دائرہ مزید وسیع ہوا۔
صبا ممتاز بانو نے کہا کہ پاکستانی معاشرے میں فیمنزم پر بات کرنا مشکل ہے اور وہاں پر احسن بودلہ نے پوری کتاب لکھ دی ہے۔ انھوں نے کہا فیمنزم مردوں سے نفرت کا نام نہیں ہے۔ یہ ایک غلط فہمی پائی جاتی ہے۔ فیمنزم خالصتاً عورت کے انسانی حقوق کی بات ہے۔
پروگرام کے اختتامی لمحات میں مسرت کلانچوی نے سرائیکی اور اردو میں اپنی گفتگو سے محفل کو مسحور کر دیا۔ انہوں نے اپنے بچپن اور جوانی کے ماحول کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ایک زمانے میں عورتوں کے لیے تعلیم کا کوئی تصور نہیں تھا، اور ٹانگے میں سفر کے دوران بھی پردہ لٹکایا جاتا تھا۔ لیکن ان کے والد نے نہ صرف انہیں تعلیم دلوائی بلکہ مکمل آزادی بھی فراہم کی، جس نے ان کی شخصیت کو سنوارا۔
صاحبِ کتاب احسن بودلہ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ وہ فیمنسٹ کیوں ہوئے اور کن عوامل نے ان کی سوچ کو بدلا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی بڑے انقلاب کے دعوے دار نہیں بلکہ اپنے حصے کی شمع جلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ بھرپور تنقید کے باوجود اپنے عزم پر قائم رہیں گے اور بطور طالب علم ہمیشہ سیکھنے کے عمل میں مصروف رہیں گے۔
پروگرام کے اختتام پر شعیب طاہر ( بانی اردو ورثہ ) نے اردو زبان کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر اردو کو جنریشن زی اور جنریشن الفا تک پہنچانے کے اقدامات نہ کیے گئے تو یہ زبان آہستہ آہستہ دم توڑ سکتی ہے، اور اس کے ساتھ اردو ادب کو سمجھنے والے لوگ بھی کم ہو جائیں گے۔ انہوں نے تخیل فاؤنڈیشن کو اس مشن کی ایک مضبوط کڑی قرار دیا جو بچوں کے ادب کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
تقریب میں اردو ورثہ کی ٹیم نے بھی بھرپور شرکت کی۔ خصوصی شرکت نواز کھرل ، عطرت بتول، بنتِ قمر مفتی، وفا آزر، ثمینہ حسین،زرقا فاطمہ، فرح خان، شاہ مراد اور دیگر اراکین، جن کے تعاون سے یہ تقریب ایک یادگار اور کامیاب ادبی دن میں ڈھل گئی۔





بہت خوبصورت پروگرام اور سب مہمانوں کی تشریف آوری کا بے حد شکریہ