خبریں

ٹرمپ، پوتن ملاقات الاسکا میں: جسے روس نے چار ڈالر فی مربع کلومیٹر میں بیچا/ اردو ورثہ


15 اگست، 2025 کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادی میر پوتن کی الاسکا میں ایک غیر معمولی ملاقات ہونے جا رہی ہے۔ جس سے یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ الاسکا ہی کیوں؟ دبئی، استنبول یا اس جیسا کوئی اور غیر جانب دار مقام کیوں نہیں؟

الاسکا کی تاریخ بڑی دلچسپ ہے۔ 1867 تک الاسکا روس کا حصہ تھا۔ پھر روسی زار الیگزینڈر دوم نے اسے 72 لاکھ ڈالر یعنی تقریباً چار ڈالر فی مربع کلومیٹر لے کر امریکہ کو بیچ دیا۔ 

الاسکا اور روس کا فاصلہ صرف 88 کلومیٹر ہے جبکہ مین لینڈ امریکہ اس سے 800 کلومیٹر دور ہے۔

الاسکا بڑی ریاست ہے، اس کا رقبہ 17 لاکھ مربع کلومیٹر ہے، یعنی پاکستان سے دوگنا سے بھی زیادہ۔ البتہ زیادہ علاقہ سخت برفانی ہے جس کی وجہ سے آبادی صرف سات لاکھ 40 ہزار ہے۔

الاسکا کے سودے کے 158 سال بعد ایک اور روسی سربراہ یعنی ولادی میر پوتن امریکہ کے ساتھ لین دین کا ایک اور سودا کرنے جا رہے ہیں۔ 

اس بار یہ سودا یوکرین پر ہو گا اور اس کے لیے قیمت ڈالروں میں نہیں بلکہ جنگ بندی کی صورت میں چکائی جائے گی۔

روس کے ساتھ تاریخی تعلق کے علاوہ الاسکا کے انتخاب کی ایک وجہ اور بھی ہے۔ 

عالمی عدالت انصاف نے جنگی جرائم کے تحت صدر پوتن کے وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھے ہیں۔ امریکہ عالمی عدالت کو تسلیم نہیں کرتا اس لیے پوتن کو وہاں گرفتاری کا خطرہ نہیں۔ 

مزید یہ کہ الاسکا کی جانب پرواز کرتے ہوئے صدر پوتن کے جہاز کو کسی مخالف ملک کی فضا سے بھی نہیں گزرنا پڑے گا۔

یوکرینی صدر ولودی میر زیلنسکی نے یوکرین کی سرزمین کے حصے بخرے کے کسی بھی منصوبے کو مسترد کر دیا ہے۔ فی الحال یہ واضح نہیں کہ زیلنسکی اس ملاقات میں شریک ہوں گے یا نہیں۔

صدر ٹرمپ اقتدار میں آنے سے پہلے ہی یوکرین جنگ بند کروانے کے سلسلے میں بیانات دیتے رہے ہیں۔ 

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا تھا کہ وہ صدر بننے کے 24 گھنٹے کے اندر جنگ بند کروا دیں گے۔ اس کے بعد وہ پوتن کو آٹھ اگست تک جنگ بند کرنے کی ڈیڈ لائن بھی دے چکے ہیں، مگر جنگ ہے کہ دہکے جا رہی ہے۔

دونوں رہنما اس سے قبل 2018 میں بھی مل چکے ہیں۔صدر ٹرمپ کو ویسے بھی جنگیں بند کروانے کا بڑا شوق ہے۔ 

وہ بار بار کہہ رہے ہیں کہ انڈیا پاکستان جنگ انہوں نے بند کروائی تھی۔ حالانکہ انڈیا اس کی تصدیق کرنے سے انکار کرتا ہے۔ 

اس کے علاوہ گذشتہ ہفتے انہوں نے آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان وائٹ ہاؤس میں جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کروائے۔

لیکن یوکرین – روس جنگ کا خاتمہ اتنا آسان نہیں۔ پوتن بہت بےلچک مذاکرات کار ہیں اور ان کا کوئی بڑی رعایت لیے بغیر جنگ سے ہاتھ کھینچنا بہت مشکل ہے۔ 

دوسری طرف اگر ٹرمپ رعایت دے دیتے ہیں تو امکان ہے کہ اسے یوکرین اور یورپی یونین نہیں مانیں گے۔

اس لیے اگر اس ملاقات میں کوئی بریک تھرو ہوتا ہے تو یہ ٹرمپ کی اب تک کی سب سے بڑی سفارتی کامیابی ہو گی اور امن کا نوبیل انعام حاصل کرنے کے ان کے امکانات روشن ہو جائیں گے۔

Author

Related Articles

Back to top button