
غزل
ثمینہ سید
سرِ راہ نظریں چراتے ہیں اکثر
وہ اب بھی مرا دل دکھاتے ہیں اکثر
کبھی یاد کیجے گا میری گلی کو
مرے شہر میں آپ آتے ہیں اکثر
جنہیں قدر اپنوں کی ہوتی نہیں ہے
پرائے بہت ان کو بھاتے ہیں اکثر
اُنہیں یاد رہتے نہیں ان کے وعدے
محبت کی قسمیں تو کھاتے ہیں اکثر
ہم ہی نے سکھایا ہنر دیکھنے کا
ہم ہی کو وہ آنکھیں دکھاتے ہیں اکثر
ہمیشہ سے ہیں جن کی تعبیریں الٹی
دلوں کو وہی خواب بھاتے ہیں اکثر
بندھی تو ثمینہ ہوں رسماً میں ان سے
مگر اب وہ رشتے رلاتے ہیں اکثر




