بشری باجوہ مزاح نگار اور مصورہ / انٹرویو: عطرت بتول

تعارف
بشریٰ باجوہ اردو ادب کی ایک مزاح نگار، کہانی نویس اور کالم نگار ہیں۔ بچوں کے لیے کہانیاں لکھنے سے اپنے ادبی سفر کا آغاز کیا، جن میں مزاح اور معاشرتی مشاہدات کا خوبصورت امتزاج پایا جاتا ہے وہ اپنے کالج میگزین میں انگلش میں لکھتی تھیں ، اُن کی تحریریں معروف رسائل اور اخبارات جیسے *نوائے وقت، ہفت روزہ صدائے عام* اور *روزنامہ صدائے عام* میں شائع ہو چکی ہیں۔
انہوں نے "گنجی مکھی” کے عنوان سے اپنی پہلی کتاب شائع کی، جو ان کی معاشرتی کہانیوں کا مجموعہ ہے۔ بشریٰ باجوہ کی تحریریں زندگی کی تلخیوں کو ہنسی میں ڈھالنے کا فن رکھتی ہیں، جس سے قارئین کو نہ صرف مسکراہٹ ملتی ہے بلکہ معاشرتی پہلوؤں پر سوچنے کا موقع بھی۔
اردو زبان سے گہرا لگاؤ اور مشاہدے کی باریک نگاہ نے ان کی تحریروں کو انفرادیت عطا کی ہے۔ وہ ادب میں مزاح کو صرف تفریح نہیں بلکہ اصلاح کا ذریعہ بھی سمجھتی ہیں۔
بشریٰ باجوہ صاحبہ ، کیسی ہیں؟
الحمدللہ، بالکل ٹھیک
اپنی ابتدائی زندگی، تعلیمی پس منظر اور بچپن کے ماحول کے بارے میں کچھ بتائیے۔
میری ابتدائی زندگی ؛
اپنی ابتدائی زندگی کے متعلق بتانے سے پہلے بتانا چاہتی ہوں کہ میرے خاندان نے خاص طور پر میرے بھائی نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے میں نمایاں کردار اور عظیم قربانیاں دیں ، بھائی کے ساتھ میری جدوجہد اور تعاون شامل تھا ۔
میرا آبائی وطن قصبہ چونڈہ ضلع سیالکوٹ ہے ۔ جاٹ قوم سے تعلق ہے ۔میرے والدین اخلاق کے اعلیٰ معیار پر اترتے تھے ۔ ہماری بھی تربیت قرآن احکامات کے مطابق کی ۔ گھرانا بہت سادگی پسند تھا
تعلیمی پس منظر ؛
میں پانچویں بیٹی تھی ۔ مجھ سے چھوٹا میرا اکلوتا بھائی ہے ۔ میں چار سال کی تھی ، بہنوں کے اسکول جانے کے بعد میں بھی بستہ پکڑے دو سالہ بھائی کی انگلی پکڑے اسکول چل پڑی تو امی مجھے اسکول میں داخل کروا آئیں ۔ اس طرح مجھے پہلی کلاس میں شامل کروا دیا ۔ پولیٹیکل سائینس اور سوشل ورک میں گریجوایشن کی ۔
بچپن کا ماحول ؛
بچپن بہت خوبصورت تھا ۔ والدین سب بیٹیوں سے بہت پیار کرتے تھے ، ہر بیٹی ہی لاڈلی تھی مگر لاڈ پیار نے تربیت کو خراب نہیں کیا ۔ قرآن ، نماز والدہ نے ہی سکھایا ۔ گھر سے باہر جا کر کھیلنے کی اجازت نہیں تھی ۔ گھر کے صحن میں ہمسایوں کی بچیاں آ جاتیں اور پھر ہم بہنیں خوب کھیلتیں ۔ شرارتیں کرنے کی اجازت تھی ، آپس میں جھگڑنے کی اجازت نہیں تھی ۔ میری امی کو روٹھنا اور ضد کرنا ، لڑنا جھگڑنا ، چالاکیاں مکاریاں پسند نہیں تھا اس لیے ہم میں ایسی کوئی عادت شامل ہی نہیں ہوئی ۔
گھر پر مہمان بہت آتے تھے ۔ مہمان نوازی بہت تھی ۔ رشتہ داروں کا آنا اور رہنا ہوتا تھا اس لیے سب ہی رشتہ داروں کا بہت پیار ملا ۔ رشتہ داروں کے ساتھ اکثر دریا اور نہروں پر پکنک منائی جاتی ۔بچپن بہت پر لطف تھا ۔
ادب اور تخلیق کی طرف رجحان کب اور کیسے پیدا ہوا؟
ہمارا گھرانہ ادبی نہیں تھا ۔ گھر پر اخباریں آتی تھیں ۔ اردو کی اخبار نوائے وقت اور انگریزی کی پاکستان ٹائمز ۔ والد صاحب روز اخبار پڑھنے کے لیے کہتے اور خبروں کا پوچھتے ۔ اداریہ اور کالم بھی پڑھواتے ۔ بچوں کے رسالے تعلیم و تربیت اور بچوں کی دنیا بھی آتے تھے ۔ تعلیم و تربیت میں بچوں کی مصوری کے مقابلے ہوتے ۔ کالی سیاہی اور قلم سے تصویریں بنا کر بھیج دیتی اور انعام تو نہیں ملا مگر چھپ جاتی تھیں ۔ ریڈیو پر بچوں کے پروگرام سنتی اور خط لکھ کر ان میں بھی حصہ لیتی ۔ تعلیم و تربیت ، بچوں کی دنیا ، اخبارات کے علاوہ صرف کورس کی کتابیں پڑھی تھیں ۔
مصوری کی طرف قدرت کی طرف سے ہی لگاؤ تھا ۔ پہلی جماعت میں تھی ، ٹاٹ والا اسکول تھا ۔ کلاس میں سب سے چھوٹی تھی ۔ استانی کے میز کے نیچے بیٹھ جاتی تھی اور زمین پر مٹی میں ہاتھ سے انسانی شکلیں بناتی رہتی تھی پھر سلیٹ پر ، تختی پر بھی مصوری کرتی رہتی ۔ جب اخبار میں پکاسو کی پینٹنگ دیکھتی تو دل میں خواہش ابھرتی کہ کہ مجھے پکاسو ہی بننا ہے ۔ کالج میں فائن آرٹس کا شعبہ نہیں تھا اس لیے فائن آرٹس کی باقاعدہ تعلیم نہ پا سکی ۔اپنی خواہش پوری کرنے کے لیے کچھ نہ کچھ پینٹ کرتی رہتی ۔
صحافت سے باضابطہ وابستگی نہیں تھی، تو تحریری سفر کیسے شروع ہوا؟
صحافت سے اتنی ہی وابستگی تھی کہ اخباریں پڑھتی تھی ، اداریہ اور تمام کالم پڑھ کر اشتہار بھی سب پڑھ لیتی تھی اور ریڈیو پر دنیا جہان کی خبریں سنی جاتی تھیں ۔ کبھی سوچا نہیں تھا کہ لکھوں ۔ شرارتیں بہت سوجھتی تھیں ۔ گفتگو میں مز اح اچھا لگتا تھا ۔اردو کی کتاب میں بیگم کی بلی اور چچا چھکن کے کیل لگانے کا مز اح پڑھا تھا ۔ انیس سو پیینسٹھ کی جنگ کے بعد رات کو پڑھتے ہوئے مچھروں نے بہت تنگ کیا تو مزاح کی حس پھڑک اُٹھی ، اسی وقت ایک تحریر لکھی اور صبح کالج جاتے ہوئے پوسٹ بکس میں ڈال کر نوائے وقت کو بھیج دی ۔ اس تحریر نے نوائے وقت کے بچوں کے صفحہ پر اپنا مقام بنا لیا تو مجھے حوصلہ ہوا مذید لکھنے کا ۔ میری کالج کی پروفیسر نے کالج کے رسالے کے لیے انگریزی میں لکھنے کی فرمائش کی تو میں نے سپیر پارٹس کے عنوان سے مزاح لکھ کر دیا جو بہت پسند کیا گیا اور پرنسپل نے بہت شاندا ر الفاظ میں تعریف کی ۔ اسی کہانی کے خیال کو میں نے اپنی کہانی گجرا میں پیش کیا ۔
ربوہ سے ہم انتہائی مخدوش حالات میں اپنی جانیں بچا کر نکلے تھے ۔ اس کے بعد سے بہت دیر تک ہم قادیانیوں کی دشمنی میں گھرے رہے ۔ انہیں کافر قرار دلوانے میں ہمارا کلیدی کردار تھا ۔ قادیانی جماعت ہماری دشمن بن چکی تھی ۔ ہمارے لیے ہر روز ہی ایک نئی مصیبت تھی ، ان حالات میں ہم اپنی معمول کی زندگی نہیں گزار رہے تھے ۔ اس لیے لکھنا یا اپنے شوق پورے کرنا ممکن نہیں تھا ۔ پھر میری شادی ہو گئی اور میں کویت چلی گئی ۔ وہاں اردو اخبار ، رسالے میسر نہیں تھے ۔ رنگ اور برش ڈھونڈنے کی کوشش کی مگر کچھ نہیں ملا ۔ اس دور میں کویت تعلیمی لحاظ سے بہت پسماندہ تھا ۔ بچوں اور گھریلو زمہ داریوں نے خود کے لیے وقت نکالنے ہی نہیں دیا ۔ بچوں کی تعلیم کے بعد لکھنے اور پینٹنگ کی طرف توجہ دی اور بہت کچھ لکھا ۔
گنجی مکھی کی کہانیوں کا خیال کہاں سے آیا؟
گنجی مکھی کی کہانیوں کا خیال پاکستان کی سیاست اور طرز حکمرانی اور ملکی حالات سے آیا ۔ گنجی مکھی مکمل کر کے سنہ دو ہزار میں اردو بازار رابطہ کیا تو جواب ملا ،” اگر آپ بانو قدسیہ یا فاطمہ ثریا بجیا ہوتیں تو ہم نے بنا پڑھے ہی شائع کر دینی تھی کتاب ۔
انٹر نیٹ عام ہوا اور ایمازون پر کتابیں ای بک کی صورت میں آئیں تو میں نے گنجی مکھی کی کہانیاں ایمازون پر لگا دیں ۔ پہلے ایک پھر دوسری اور اس طرح پانچ کہانیاں ایمازون پر پڑھی جانے لگیں ۔ ایک کہانی کے تین ڈالر ۔ ایمازون پر میری کہانیاں بہت پسند کی گئیں ۔ اپنی کہانیوں کو لے کر میں نے “کتاب سرائے” کے پبلشر سے رابطہ کیا اور یوں میری کتاب گنجی مکھی شائع ہو گئی ۔
آپ کے نزدیک مزاح لکھنا کتنا مشکل یا آسان فن ہے؟
مزاح لکھنا میری فطرت میں ہے ۔ مجھے مشکل نہیں لگتا لیکن کم لکھا جاتا ہے ۔ مجھے سنجیدہ تحریر لکھنا مشکل لگتا ہے ۔ دل چاہتا ہے کہ لوگ ہنستے مسکراتے رہیں ۔
ہفت روزہ "صدائے عام” میں سیاسی مزاح لکھنے کا تجربہ کیسا رہا؟
میں نوائے وقت حمید نظامی ، مجید نظامی کے دور سے پڑھ رہی تھی ۔ اس دور میں نوائے وقت میں حکومت پر کھل کر تنقید ہوتی تھی ۔ حکمرانوں اور سیاستدانوں پر گہری نظر ہوتی تھی ۔ اخبار کے شروع میں لکھا ہوتا تھا ،” جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنا بہترین جہاد ہے “، تو ہمیں بھی عادت پڑ گئی تھی جھوٹ سچ کو پرکھنے کی اور بنا کسی ڈر ، خوف کے تنقید کرنے کی تو صدائے عام بھی کھل کر تنقید کرتا تھا یعنی بہترین جہاد تھا ، میں نے بھی اس جہاد میں حصہ لیا اور میری ہر تحریر کو قارئئین کی طرف سے سراہا گیا ۔
ایمازون اور گڈریڈز پر قارئین کا ردعمل کیسا رہا؟ کیا یہ توقع کے مطابق تھا؟
ایمازون والوں نے ہی میری کہانیاں گڈ ریڈز پر ڈال دی تھیں اور اب تک وہ پڑھی جا رہی ہیں ۔ قارئین کا رد عمل بہت اچھا رہا ۔قارئین امریکا اور مغربی ممالک سے اردو سے محبت کرنے والے ہیں ۔
ایما زون پر تین سال تک میری ای بک موجود رہیں بعد میں ایمازون نے اعتراض کیا کہ اردو ان کی فہرست میں نہیں ہے ، اس کی اجازت نہیں ہے تو میں نے اپنی کتابیں ایمازون سے ہٹا دیں جب کہ گڈ ریڈز پر اب تک ہیں اور وہاں اب بھی پڑھی جا رہی ہیں ۔ بلا معاوضہ پڑھی جاتی ہیں ۔ ایمازون کی ایمانداری ، دیانتداری مثالی ہے ۔ میری سب کہانیوں کا معاوضہ بزریعہ چیک وصول ہوا ۔
آپ کے خیال میں آن لائن اشاعت کا مستقبل کیسا ہے؟
آن لائن اشاعت ہی ضرورت بن چکی ہے ۔ کاغذ مہنگا ہے ، پریس کے اخراجات بھی ہیں ، اس کے مقابلے میں آن لائن اشاعت آسان اور سستی ہے ۔ کتابت مہنگی ہے ۔ ہارڈ کاپی کی صورت میں کتاب خرید کر پڑھنا مشکل ہو گیا ہے اس لیے قاری کی کوشش ہوتی ہے کہ آن لائن کتاب لے کر پڑھ لی جائے ۔ اکثر کتابیں مفت میں ہی مل جاتی ہیں یا معمولی معاوضے پر آن لائن لائبریری سے مطالعہ کیا جا سکتا ہے ۔
اپنی آئندہ کتابوں کے موضوعات اور نوعیت کے بارے میں کچھ بتائیے۔
آئیندہ آنے والی کتابیں بھی مزاحیہ ہی ہوں گی ایک کتاب میں گنجی مکھی کی طرح کہانیاں ہوں گی ۔ دوسری کتاب میں مزاحیہ مختصر تحریریں ہوں گی ۔ تیسری کتاب میں اپنے بچپن کی لکھی گئی تحریریں ہوں گی ۔ چوتھی کتاب میں ایک سفرنامہ ( مزاح) ہو گا ۔
کیا آپ اپنی تحریروں میں خواتین کے مسائل کو شامل کرنے کی کوشش کرتی ہیں؟
ایک خاتون ہوتے ہوئے خواتین کے مسائل کو شامل تحریر نہ کیا جائے ، یہ نا ممکن ہے ۔ اپنی کہانی گنجی مکھی میں خواتین اساتذہ کے مسائل کو ہنسی ہی ہنسی میں اجاگر کیا ۔اپنی کہانی گجرا میں ایک بیوی کے حالات اور مسائل پر بھی لکھا ۔
کیا آپ کے بچے بھی تخلیق یا ادب میں دلچسپی رکھتے ہیں؟
میں نے اپنے بچوں کو پہلی بار پنسل کاغذ پکڑایا تو ڈرائنگ کرنا سکھائی ۔ بڑا بیٹا اپنے اسکول میں مصوری میں اول انعام لیتا رہا ۔ چھوٹا بیٹا سکلپچر بہت شاندار بناتا ہے پینٹنگ اچھی کرتا ہے، لکھتا بھی اچھا ہے مگر انگریزی میں ۔ آرٹ کو صرف مشغلہ رکھا ہے ۔ بیٹی پینٹنگ کرتی ہے فائن آرٹس میں ماسٹر کیا ہے ۔
پینٹنگ کی طرف رجحان کیسے پیدا ہوا؟
قدرت کی طرف سے تحفہ ہے ۔ اس تحفے کو نکھارنے کے مواقع نہیں ملے تھے ۔ بیٹی نے فائن آرٹس پڑھا تو اس کے ساتھ مجھے بھی اپنے علم میں اضافے کا موقع ملا ۔ اب یو ٹیوب سے سیکھتی ہوں ۔
ایٹ سی اور ساچی آرٹ پر فن پارے رکھنا کیسا تجربہ رہا؟
بیٹی کی پینٹنگ ایٹ سی اور ساچی پر بکتی ہیں ۔ میری بھی نمائش کے لیے دونوں جگہ لگی ہیں ۔ ساچی نے میری دو پینٹنگ کو اپنی کولیکشن میں جگہ دے کر خاص بیج دیا ہے جو میرے لیے اعزاز ہے ۔
فیس بک کو اردو ادب کی ترویج کے لیے کیسا پلیٹ فارم سمجھتی ہیں؟
فیس بک اردو ادب کی ترویج کے لیے بہت اچھا پلیٹ فارم ہے ۔ آپ اپنی صلاحیت اپنے فن کو لوگوں کے سامنے پیش کریں ۔ فیس بک ایک سنہری پلیٹ فارم ہے بنا کسی رکاوٹ کے آزادی کے ساتھ لوگوں تک ادب پہنچانے کا زریعہ ہے ۔
آپ کے خیال میں مزاح نگاری اور سنجیدہ ادب میں کیا فرق ہے؟
مزاح نگاری سے قاری کے چہرے پر مسکراہٹ آتی ہے ۔ تھوڑی دیر کے لیے ہی سہی وہ اپنی دنیاوی پریشانیاں اور محرومیاں بھول جاتا ہے ۔ایک مزاح نگار بڑی سے بڑی بات ہنسی ہی ہنسی میں کہہ جاتا ہے جیسے انور مقصود چند لفظوں میں حکمرانوں کو آئینہ دکھا دیتے ہیں ۔ سنجیدہ ادب سے اسے معاشرے کے دکھوں کا اندازہ ہوتا ہے ۔ اگر قاری حساس ہے تو اور بھی دکھی اور سنجیدہ ہو جاتا ہے ۔ مثلاً منشی پریم چند کا کفن پڑھ کر انسان خوش رہ ہی نہیں سکتا ۔
وہ کون سے ادیب یا مزاح نگار ہیں جنہوں نے آپ پر اثر ڈالا؟
جب میں نے لکھنا شروع کیا تب تک میں نے تعلیمی سلیبس کے علاوہ کسی ادیب یا مزاح نگار کو نہیں پڑھا تھا مگر بعد میں بہت سوں کو پڑھا ۔ مجھے شفیق الرحمن اور انور مقصود کا مزاح اچھا لگتا ہے ۔ میرے خیال میں وہ بہت بلند پائے کا مزاح لکھتے ہیں ۔ مجھ پر کسی کے مزاح کا اثر نہیں پڑا کیونکہ میرا اپنا انداز ہے جو قدرت کی طرف سے ہے ۔
اردو ادب میں خواتین کی نمائندگی کے حوالے سے آپ کی رائے کیا ہے؟
خواتین کی نمائندگی بہت ضروری ہے ۔ معاشرے کے مسائل اور خاص طور پر خواتین اور بچوں کے مسائل خواتین ہی بہتر سمجھتی ہیں اور بہتر انداز میں اردو ادب کو ہیش کر سکتی ہیں ۔ خواتین ادیبوں کو چاہئے کہ معاشرے کی اصلاح کرنے کے لیے اپنی کہانیوں اور ڈراموں میں مثبت کردار سازی کے لیے کوشش کریں نہ کہ معاشرے کو چالاکیاں اور خودغرضی سکھائیں ۔گھریلو کہانیوں میں ہر وقت ایک دوسرے کے خلاف حرکتیں دکھانا معاشرے میں اچھا اثر نہیں چھوڑتیں ۔جب مسلسل چالاکیاں اور جھگڑے ، مکر و فریب دکھائے جائیں گے تو نہ چاہتے ہوئے بھی ان کہانیوں کا برا اثر انسانی عادات میں شامل ہو جاتا ہے ۔ایسی کہانیوں سے معاشرہ خود غرض ہوتا جا رہا ہے ، انسانی ہمدردی اور جزبہ ایثار ختم ہوتا جا رہا ہے ۔ ادیبوں کو چاہئے کہ معاشرے کو سدھارنے کے لیے لکھیں ۔ انسان کی کردار سازی میں کردار ادا کریں ۔ خواتین کے مسائل پر لکھیں اور خواتین کو با کردار بنانے کی کوشش کریں ۔ با کردار خواتین ہی اپنے بچوں کی بہترین تربیت کر سکتی ہیں ۔




