اللہ کی لاٹھی…بے آواز/ بلقیس ریاض

پس ماندگی،جہالت،غربت اور بیماری ہمارے ملک کا مقدر بن چکی ہے. ایک یا دو فیصد کو زندگی کی تمام سہولیات میسر ہیں. لیکن تعلیم کا حال بتدریج زوال پذیر ہو گیا ہے. بلکہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے.
میں ایک ٹی پارٹی پر مدعو تھی. ایک عورت نے دکھ بھری داستان سنائی کہ بچی کوکسی پرائیویٹ انگریزی سکول میں داخل کروانا چاہتی ہوں مگر وہ کہتے ہیں کہ دس ہزار داخلہ کی رقم لے کر آؤ۔ تب بچی کو داخلہ ملے گا….لیکن میں نے کمیٹی ڈالی ہوئی ہے اگر وہ نکل آئے تو داخلہ آسانی سے ہو سکتا ہے. اس کی داستان سن کر رہ رہ کر یہ خیال آتا ہے کہ اگر آپ کی جان پہچان نہیں تو زندگی کے ہر شعبے میں آپ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے.
ملک کا بیشتر حصہ دیہی علاقوں میں رہتا ہے. جو فیوڈل نظام کا شکار ہے. ہمارا نظام تبدیلی چاہتا ہے. معاشرے میں تعلیم کی سہولت ہے اور نہ ہی اچھا روزگار۔ اب تو مہنگائی کی انتہا ہو گئی ہے. ایک غریب تو کیا بلکہ متوسط لوگوں کا جینا حرام ہو گیا ہے۔ اتنے ان کے وسائل نہیں کہ بچوں کو اچھے سکولوں میں داخل کرواسکیں۔
اس ملک میں مردوں کے مقابلے میں عورتوں کی تعداد زیادہ ہے. بدقسمتی سے نہ صرف عورتوں کی بلکہ مردوں کی تعلیم کی طرف توجہ نہیں دی گئی ہے. جو ادارے موجود تھے وہ سیاست کی نذر ہو گئے ہیں. ایک تعلیم یافتہ عورت معاشرے میں آنے والی نسلوں کی تعلیم و تربیت کی ضامن ہو سکتی ہے…اگر تعلیم نہ ہو گی تو بچوں کوکیسے پروان چڑھائیں گی. خصوصاََ دیہی علاقے میں تقریباََ دو کروڑ بچے سکولوں میں نہیں جاتے…اور بچے تعلیم سے محروم ہیں. دیکھا جائے تو جو پرائیویٹ سکول ہیں وہ سرمایہ داروں کی ضرورت سے بنائے گئے ہیں. وہاں غریب لوگوں کی پہنچ نہیں ہے…وہاں متوسط لوگ بھی بڑی مشکل سے بچوں کو داخل کرواتے ہیں…اور آجکل سرمایہ دار یا
تو انگلش میڈیم سکول بناتے ہیں اور یا ہسپتال…پرائیویٹ سکول بنانا کونسا مشکل کام ہے. ایک گھر کرائے پر لیں…اور چند استانیاں رکھ کر مشہور کر دیں کہ یورپین سٹائل کی بہترین درس گاہ ہے۔
پھر جن لوگوں کو اچھے سکولوں میں داخلہ نہیں ملتا وہ کسی نہ کسی طرح اپنے بچوں کو وہاں داخل کروانے کیلئے منت سماجت کرتے ہیں.
سب لوگ گفتگو میں مصروف تھے آج کا موضوع انگریزی سکول پر مبنی تھا میں سوچ رہی تھی کہ جن کے پاس سرمایہ ہے چلو وہ تو بچوں کی فیسیں آسانی سے دے سکتے ہیں مگر سفید پوش لوگ جو کہ اپنا پیٹ بھی پوری طرح سے نہیں بھرسکتے وہ مجبور اور بے بس لوگ کہاں سے اتنی فیسیں بھریں۔۔۔اگر ایسے پرائیویٹ سکول بنا لئے ہیں تو ان کو چاہیے کہ ایسے لوگوں کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں خاص رعایت دیں۔ مگر جنہوں نے روپیہ اکٹھا کرنے کے لئے انگریزی سکول بنائے ہیں وہ رعائت کے بارے میں کیوں سوچیں۔انسان بھی بڑا بے حس ہے۔ جب پیسے کا مسئلہ آتا ہے وہ انسانیت کے سارے تقاضے بھول جاتے ہیں۔
یہی حال پرائیویٹ ہسپتالوں کا ہے…جہاں صرف سرمایہ دار ہی علاج معالجہ کروا سکتے ہیں۔
اس ملک میں انتہا درجے کی غربت اور انتہا درجے کے رئیس بستے ہیں. ضروری نہیں کہ فلاحی ادارہ ہی اس کی مدد کرے. ہر شہری کا فرض بنتا ہے کہ ایسے غریب لوگوں کی مدد کریں. تاکہ اللہ اور اس کے رسول? کی خوشنودی حاصل کر کے کوئی ثواب حاصل کریں.
ایسے حالات دیکھ کر مجھے مجبوراََ لکھنا پڑتا ہے کہ یہ کسی ایک ہسپتال کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہر سرکاری ہسپتال کی ایک جیسی کہانی ہے. جب بھی کوئی غریب بے آسرا اچانک بیمار ہوتا ہے یا اس کا کوئی ایکسیڈنٹ سے سانحہ ہوجاتا
ہے اور خون بہہ رہا ہوتا ہے تو اس کی شنوائی نہیں ہوتی….. چھوٹے ڈاکٹروں اور نرسوں کی منت سماجت کرتے ہیں تو ان کو کئی کئی گھنٹے مسلسل بٹھا دیا جاتا ہے…جان پہچان کے لوگوں کو پروفیسر ڈاکٹر کے پاس اندر بھیج دیا جاتا ہے.
یہ غریبوں کے اوپر بہت بڑا ظلم ہے.
کیا ایسے لوگوں کی بخشش ہو جائے گی؟ وہ اللہ جو انسان سے ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے. کیا ایسا ظلم برداشت کر سکے گا….نہیں۔۔؟ اس کا نتیجہ کیا ہوتا ہے. لوگوں کو پتہ ہونا چاہیے کہ اللہ نے ہم سے پائی پائی کا حساب لینا ہے. یہ تو حساب کتاب والے دن پتہ چلے گا…جب ایسے لوگوں کو دینے کیلئے ان کے پاس کچھ نہیں ہو گا تو وہ ان سے اچھے اعمال لئے جائیں گے. وہ اپنے اچھے اعمال سے خالی ہو جائیں گے. بے شک اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے۔ اس بات کو ہر وقت انسان کو مد نظر رکھنا چاہیے۔




