اُردو ادباُردو شاعریغزل

غزل /جب تک ہے مرے سینے میں ہلکا سا ردھم بھی / اجمل فرید

غزل

 

جب تک ہے مرے سینے میں ہلکا سا ردھم بھی 

پیچھے تو ہٹوں گا نہیں میں ایک قدم بھی 

 

ہم دشت نوردوں سے تھکن معرکہ آرا 

اور اس پہ اٹھانے ہیں ترے ہجر کے غم بھی 

 

دھتکارے ہوئے پھر نہ کبھی آئے پلٹ کر 

آواز لگاتے رہے پتھر کے صنم بھی 

 

وہ رات تھی سمٹی ہوئی اک شک کے بدن میں 

اس زلف میں الجھے ہوئے اس زلف کے خم بھی 

 

اس بے سرو سامانی کا تھوڑا بھی نہیں غم 

بربادی میں شامل ہے اب اللہ کا کرم بھی 

 

کیسے کوئی بڑھتے ہوئے طوفان کو روکے 

ٹوٹے ہوئے پتوار ہیں اکھڑے ہوئے دم بھی 

 

برداشت تو کر سکتا ہوں پر مر نہیں سکتا 

میں کام چلا لوں گا تو ملتا رہے کم بھی 

 

ائے شعبدہ گر تجھ کو محبت کی خبر کیا 

تجھ سے تو نہ رکھے گئے وعدوں کے بھرم بھی 

 

اجمل مجھے اس بات کا اندیشہ کہاں تھا 

اک روز مرے جسم میں آ جائے گا خم بھی

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

Related Articles

Back to top button