بچوں کا ادب

ایک گیند / تحریر: شاہ مراد

بچوں کا ادب

عالیان نے فیضان سے کہا، "جاگو جاگو، کب تک سوتے رہو گے ۔۔۔کرکٹ میچ کے لیے نہیں جانا کیا ؟”

فیضان یہ سن کر ایک کینگرو کی طرح بستر سے کود ا۔۔۔ اس کا دل جوش و خروش سے بھر گیا۔ دونوں بھائیوں
نے جلدی جلدی اپنی کرکٹ کٹس پہنیں۔۔۔اور نکلنے کے لیے تیار ہو گئے ۔۔۔جیسے ہی ان کی ماں نے انہیں سینڈوچز دیے ۔۔۔انہوں فوراً کھا لیے۔۔۔ پھر وہ اپنے بیٹ لینے کے لیے بھاگے، لیکن بیٹ وہاں نہیں تھے ۔۔۔جہاں انہوں نے چھوڑے تھے۔ ان کے والد نے شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ کہا، "میں نے وہ کار کے ڈگی میں رکھ دیے ہیں۔ چلو!”

فیضان نے اور عالیان نے اپنی اپنی سیٹ سنبھال لی ۔۔۔

وہ جلد ہی کھیل کے میدان پہنچ گئے اور فوراً اپنے دوستوں کے ساتھ پریکٹس کرنے لگے۔ ان کے والد کچھ دیر مسکرا کر سب کو دیکھتے رہے ۔۔۔پھرگاڑی چلا کر آگے بڑھ گئے۔۔۔

تھوڑا آگے گئے ہوں گے تو انہوں نے ایک بچے کو سڑک کے کنارے اپنا بیٹ گھسیٹتے ہوئے، پھٹی ہوئی کرکٹ ٹی شرٹ میں ملبوس اداس سا سڑک کے کنارے کنارے چلتے دیکھا ۔۔

وہ بہت تنہا اور پریشان لگ رہا تھا۔ ہارون یعنی عالیان فیضان کے والد یہ برداشت نہیں کر سکے ۔۔۔اور گاڑی روک دی۔ وہ گاڑی سے باہر نکلےاور بچے کو آواز دی۔ بچہ چلتے چلتے رک گیا ۔۔۔چند سیکنڈ انتظار کرنے کے بعد، اس نے رخ موڑا۔ اس کی بڑی بڑی اداس اور نیلی آنکھیں تھیں، سنہری بال الجھے ہوئے تھے، لیکن پھر بھی وہ فرشتہ سا لگ رہا تھا۔ ہارون صاحب نے بچے کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرا اور پوچھا، "تمہارے والدین کہاں ہیں؟” بچے نے دور ایک اکیلے سے گھر کی طرف اشارہ کیا۔ انہیں عجیب لگا کہ ایک بچہ اپنے گھر اور والدین سے اتنا دور اکیلا کیوں گھوم رہا ہے۔ وہ ان کے چھوٹے بیٹے فیضان سے زیادہ بڑا نہیں تھا۔

لیکن پھر بھی، ہارون صاحب نے پوچھا، "تم یہاں اکیلے کیوں ہو؟ تم دوسرے بچوں کے ساتھ کیوں نہیں کھیلتے؟” بچہ کچھ دیر کے لیے اداس رہا، لیکن پھر اس کا چہرہ اچانک روشن ہو گیا۔ اس نے کہا، "کیا آپ میرے ساتھ تھوڑی دیر کھیلنے کی مہربانی کریں گے؟” ہارون اس کی بڑی بڑی اداس آنکھوں سے مسحور ہو گئے اور مان گئے۔ وہ قریب کے ایک میدان میں کھلی جگہ پر چلے گئے۔۔۔اور جانے کتنی دیر تک دونوں خوش اور مطمئن ہو کر کھیلتے رہے۔ اچانک فون کی گھنٹی بجی اور ہارون صاحب نے اٹھایا، یہ ان کی بیوی تھی۔ اس نے کہا، "بچوں کو لینے کا وقت ہو گیا ہے، اور کچھ سبزیاں اور گوشت بھی رات کے کھانے کے لیے لے آئیں۔” جیسے ہی ہارون صاحب نے فون رکھا، انہوں نے دیکھا کہ بچے کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں ۔ انہوں نے بچے کو یقین دلایا کہ وہ پھر آئیں گے۔ لیکن بچے نے اصرار کیا کہ وہ کھیلتے رہیں۔ ناخوشی اور ساتھ بھاری دل کے ساتھ ہارون اس کا سر تھپک کر آگے بڑھے۔۔۔ اچانک انہیں ایک خیال آیا! بچے کو رات کے کھانے پر کیوں نہ بلایا جائے؟ جیسے ہی وہ پرجوش ہو کر واپس مڑے، وہاں کوئی نہ تھا۔۔۔ ہارون صاحب کو کسی انہونی کا احساس ہوا۔۔۔ریڑھ کی ہڈی میں ایک سرد لہر دوڑ گئی ۔۔۔اندھیرا ہوتا جا رہا تھا، اس لیے وہ جلدی سے گاڑی میں بیٹھ گئے۔ وہ گھر جا کر بھی بچے کے بارے میں سوچتے رہے ۔۔۔اور رات کو نیند بھی نہیں آئی۔۔۔ وہ کون تھا؟ وہ وہاں کیوں تھا؟ اور وہ کہاں چلا گیا…

اگلے دن انہوں نے اپنے بیٹوں کو کرکٹ کھیلنے کے لیے چھوڑا اور آگے جا کر اسی جگہ رک گئے جہاں گزشتہ روز وہ بچہ ملا تھا، لیکن وہاں کوئی نہ تھا۔ اس لیے انہوں نے اس سمت کو یاد کیا جس طرف بچے نے اشارہ کیا تھا اور اس جانب گاڑی موڑ دی۔ کچھ دیر بعد وہ ایک ٹوٹی ہوئی دیوار کے قریب پہنچ گئے ۔ یہ اندازہ لگاتے ہوئے کہ یہی وہ جگہ ہے جہاں بچہ رہتا ہے۔ انہوں نے ایک کھلی جگہ دیکھی اور دیوار پار کی۔ یہ یقینی طور پر ایک گھر تھا، لیکن کوئی عام گھر نہیں… یہ ایک قبرستان تھا۔ وہ بہت الجھ گئے۔ اچانک ہارون ٹھٹک گئے، جیسے ہی پیچھے سے کسی عورت کی آواز آئی۔ ” تو ۔۔۔صاحب آپ آگئے ۔۔۔ہمیں آپ کا ہی انتظار تھا ۔۔۔انہیں پسینہ آگیا ۔۔۔ لیکن اس نے اس کا سامنا کرنے کی ہمت کی۔ خون آلود کپڑوں میں مسکراتا ہوا آدمی… دھول سے لپٹی ہوئی اوڑھنی میں سادگی سے ملبوس عورت اور وہی بچہ اس کا ہاتھ تھامے ہوئے۔ بالکل وہی بچہ!

اس عورت نے کہا، "فکر نہ کریں، ہم آپ کو ئی نقصان نہیں پہنچائیں گے۔ بس ہم آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتے تھے کہ آپ ہمارے بیٹے کے ساتھ کھیلے ۔۔۔اسے پیار کیا۔۔۔اپنا وقت دیا۔۔۔ہم آپ کے احسان مند ہیں ۔۔۔
” ہارون صاحب صرف سر ہلا سکے۔

بچہ ان کے پاس آیا، مسکراتا ہوا اور انہیں ایک گیند دی۔ ہارون گیند پکڑ نے میں ہچکچاہٹ محسوس کی۔

بچے کے باپ نے کہا، ” صاحب لے لو۔ یہ کاٹے گی نہیں۔۔۔ میرا بچہ صرف اپنے طریقے سے شکریہ کہہ رہا ہے آپ کو۔۔۔ اور فکر نہ کریں، اسے ایک اور گیند مل جائے گی۔ بہت سے بچے قریب میں کرکٹ کھیلتے ہیں اور کبھی کبھی گیند یہاں آ جاتی ہے، لیکن کوئی بھی اسے واپس لینے آنے کی ہمت نہیں کرتا۔”

انہوں نے گیند لے لی اور واپس مڑ گئے ۔۔۔اور تیزی سے گاڑی کی جانب چل دیے کہ کہیں پیچھا نہ کیا جا رہا ہو۔۔۔۔

جب تک وہ اپنی گاڑی کے قریب نہ پہنچ گئے، وہ نہیں رکے۔ پھر انہوں نے گیند سڑک پر گرا دی اور جلدی سے گاڑی میں بیٹھ کر چل دیے۔۔۔

اس رات ان کے بیٹے آپس میں کیچ کیچ کھیل رہے تھے۔ اچانک فیضان نے کہا، ” بابا! آپ بھی کیچ کریں!” اور گیند پھینکی۔ ہارون صاحب نے گیند پکڑ لی، لیکن جیسے ہی وہ واپس پھینکنے لگے۔۔۔ چونک گئے… یہ وہی گیند تھی، وہی گیند جو اس بچے نے انہیں دی تھی۔ انہوں نے کانپتی آواز میں پوچھا، "تمہیں یہ گیند کہاں سے ملی؟” فیضان نے کہا، ” بابا! آج ہم نے ایک نیا دوست بنایا۔ ہم اس کے ساتھ کافی دیر کھیلے کیونکہ کوئی بھی اس کے ساتھ نہیں کھیل رہا تھا۔ وہ اداس اور تنہا تھا۔ کھیلنے کے بعد اس نے ہمیں یہ گیند تحفے میں دی۔ لیکن آپ اتنے پریشان کیوں ہو رہے ہیں، بابا؟ یہ تو بس ایک گیند ہے۔”

ہارون صاحب بڑی تگ و دو کے بعد اپنی کیفیت سے باہر آئے اور مسکرا کر بولے۔۔. ہاں، یہ تو بس ایک گیند ہی ہے، اور اپنی بانہیں کھول کر، اپنے بیٹوں کو گلے سے لگا لیا ۔۔۔ پریشان ہونے کی کوئی بات نہیں تھی۔ یہ آخر کار، بس ایک گیند ہی تو تھی۔ آپ کیا کہتے ہیں…؟

Author

Related Articles

Check Also
Close
Back to top button