کتاب : رموز مصوری/ تبصرہ : مسرت کلانچوی

کتاب: رموزِ مصوّری
تحقیقی مضامین
مصنف: محمد جاوید
تبصرہ: پروفیسر مسرت کلانچوی
پاکستان میں مصوری کے فن کو سراہنے کا موجودہ رجحان تقریباً صرف جمالیات کے پہلو تک ہی محدود ہوتا نظر آ رہا ہے، جبکہ یہ معاشرے کو مفید معلومات اور زندگی کے اتار چڑھاؤ کے متعلق آگاہی فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ مصوری بالآخر تاریخ کا حصہ بن جاتی ہے، جس کو دیکھ کر ہم اپنے ماضی اور حال کی سماجی، ثقافتی، مذہبی اور معاشی اقدار کو نہ صرف جان سکتے ہیں بلکہ مستقبل کے راستے کو تلاش کرنے کے لیے بھی سبق سیکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے پاکستان بلکہ دنیا کے عجائب گھر اس فن سے بھرے ہوئے ہیں۔
یہ پیراگراف میں نے مقبول و معروف مصور محمد جاوید (صدارتی ایوارڈ برائے حسنِ کارکردگی) کی تحقیقی مضامین پر مبنی کتاب رموزِ مصوری سے لیا ہے، جو محمد جاوید صاحب نے مجھے بطورِ تحفہ بھیجی ہے۔ یہ کتاب فنِ مصوری کے بارے میں گراں قدر معلومات فراہم کرتی ہے۔ مصوری کی تحریکیں اور ارتقاء، ڈرائنگ، ایک جائزہ، مصوری کے رنگ، آئل کلر، ایکریلک کلر، واٹر کلر اور پیسٹل کلر کی کہانی بیان کرتے ہوئے ان کی تاریخ، جائزہ اور اسالیب کے ہر پہلو پر دلچسپ اور آسان انداز میں وضاحت کی گئی ہے۔ دنیا کے نامور مصوروں — عبد الرحمن چغتائی، استاد اللہ بخش، پروفیسر شاکر علی، اینا مولکا، صادقین، حاجی محمد شریف، ڈاکٹر احمد مصطفیٰ اور افتخار احمد عدنی — کی فن و شخصیت کے ہر پہلو پر خوبصورت انداز میں روشنی ڈالی گئی ہے۔
یہ کتاب فائن آرٹس کے طالب علموں اور استادوں کے لیے علم و فن کا خزانہ تو ہے ہی، لیکن اس کے ساتھ فنون سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے بھی ایک قیمتی تحفہ ہے۔ محمد جاوید صاحب نے اتنے سادہ اور خوبصورت انداز میں یہ کتاب تحریر کی ہے کہ اسے سمجھنا اور استفادہ کرنا عام قاری کے لیے بھی مشکل نہیں۔ جناب محمد جاوید نے ایک مصور ہونے کے حوالے سے اپنی زندگی کے واقعات بھی بیان کیے ہیں، جو اس کتاب کو مزید دلچسپ اور معلومات افزا بناتے ہیں۔ انہوں نے بابا بلھے شاہ، علامہ محمد اقبال، حضرت باںا ذہین شاہ تاجی، صادقین، ناصر کاظمی، غالب اور میر محمد کے اشعار اپنی کتاب میں شامل کر کے اپنی تحریر کو مزید حسن بخشا ہے۔ جیسا کہ علامہ محمد اقبال کا یہ شعر ہے:
رنگ ہو یا خشت و سنگ، جنگ ہو یا حرف و صوت
معجزہ فن کی ہے خونِ جگر سے نمود




