نظم

نظم : ادھوری عورت / ثمرین خان

ادھوری عورت

ثمرین خان

وہ 

ازل کی بیٹی!

جو فجرِ اول کی گواہی لیے

کسی بےنام معبد میں

ایک خاموش دعا کی مانند

پجاریوں کے قدموں میں گری رہی…

وقت 

ایک سفاک دیوتا!

جو ہر ساعت پر

ایک قربانی مانگتا ہے 

اور اُس کی چھاتی پر

ہزار برسوں سے

بس عورت ہی رکھی گئی!

عورت؟

نہیں،

ایک نئی پیش گوئی 

جسے ہر نسل نے سُنا،

اور ہر نسل نے کاٹا۔

اے وقت!

تُو نے ہی تو اُس کے جسم میں

کرب کی ہڈی رکھی،

اُس کی رَگوں میں

بےنام نااُمیدی کا زہر بھرا،

اور پھر

اُسے کہا:

"جا! اب مقدّس بن جا!”

وہ 

جو لیلٰی بنی

تو قیس نے چھوڑ دیا،

جو ہاجرہ بنی

تو صحرا نے پکارا،

جو سیتا بنی

تو اگنی کو دی گئی،

اور جو زلیخا کہلائی

تو محض ہوس کی تشریح ٹھہری!

ہر دَور میں

وہی صلیب 

بس زمانہ بدلتا رہا،

میخیں نئی تھیں

پر زخم… وہی زخم!

قربانی؟

یہ قربانی نہیں،

یہ ایک آہِ ازل ہے

جو وقت کی دیوار پر

ایک نظم کی صورت

چُپکے سے چُھو دی گئی ہے!

اب وہ عورت

صرف عورت نہیں،

ایک طویل آسمانی سانحہ ہے 

جسے ہم نے

تاریخ کی خاک میں دفن کر کے

اُس پر شریعت کے پھول رکھ دیے!

اے وقت!

تُو جو ہر قربانی کو

تاریخ کا تاج پہنانا چاہتا ہے 

کب تسلیم کرے گا

کہ کبھی کبھی 

قربانی…

ظلم کی مقدّس شکل ہوتی ہے

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

Related Articles

Check Also
Close
Back to top button