اُردو ادبتبصرہ کتب

کتاب :ایک تھی ستارہ / تبصرہ : کنول بہزاد

کتاب :ایک تھی ستارہ
صنف: افسانوی مجموعہ
مصنفہ: ڈاکٹر سیمیں رخ
تبصرہ: کنول بہزاد

میں نے سوچا بھی نہ تھا کہ "آواری لاہور’ میں آئر لینڈ سے آئی ۔۔۔ڈاکٹر سیمیں رخ سے پہلی ہی ملاقات دائمی دوستی میں بدل جائے گی…اس کے لیے منزہ سہام مرزا کی شکر گزار ہوں جو اس ملاقات کا وسیلہ بنیں۔۔۔

روشن چہرے اور دل نشیں لب و لہجے والی سیمیں رخ دلوں کو فتح کرنے کے ہنر سے واقف ہیں۔۔۔ وہ محض پیشے کے لحاظ سے ہی مسیحا نہیں بلکہ یہ ہنر ان کے دل اور روح میں اتر آیا ہے۔۔۔بےحد نرم خو ، مہربان اور باوقار شخصیت کی مالک ہیں ۔۔۔ان کی ذات پر لکھنے بیٹھوں تو شاید صفحات کم پڑ جائیں۔۔۔وہ بھی ان شاءاللہ کبھی لکھوں گی۔۔۔مگر آج مجھے ان کے افسانوں پر بات کرنی ہے۔۔۔

اس افسانوی مجموعے کا نام ہے۔۔۔ "ایک تھی ستارہ” جس کا دل کش سر ورق ان کی پیاری بیٹی آمنہ نور نے بنایا ہے… جس کہانی” ایک تھی ستارہ” پر کتاب کا عنوان رکھا گیا ہے…
وہ سیمیں رخ کے دل کے بہت قریب ہے۔۔۔ کیونکہ اس کا مرکزی خیال انہوں نے اپنی ماں سے سنی ایک کہانی سے مستعار لیا ہے۔۔۔ یہ کہانی بڑی دل پذیر ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ بڑی آپا جو محض محبتوں سے گندھی ایک حساس عورت تھیں کیسے نام نہاد سٹیٹس کے ہاتھوں اپنے دل کا ٹکڑا گنوا بیٹھیں ۔۔۔وہ اپنوں کے ہاتھوں ایک اپنے کو ہار گئیں ۔۔۔زندگی نے انہیں ایک دوراہے پر لا کھڑا کیا تھا۔۔۔جہاں فیصلہ کرنا بہت مشکل تھا۔۔۔ہر کہانی میں لکھنے والا کہیں نہ کہیں موجود ہوتا ہے۔۔۔ بڑی آپا کے کردار میں مجھے سیمیں رخ کی شخصیت کے اپنے کئی رخ جھلکتے نظر آئے ۔۔۔

"درد مشترک” نے حالیہ سیلاب کی تباہ کاریوں کا درد دو چند کر دیا… کبھی کبھی انسان بےحسی کا چولا پہن کر انسانیت کے مرتبے سے ہی نیچے گر جاتا ہے ۔۔۔جب اس کہانی کا مرکزی کردار ایک مرتی ہوئی عورت کے زیورات اتارتا ہے تو۔۔۔سیمیں لکھتی ہیں:

” عورت کی آنکھوں میں حزن اور حیرت تھی۔۔۔ موت دھیرے دھیرے اسے اپنی لپیٹ میں لے رہی تھی۔۔۔ سانسیں جسم کا ساتھ چھوڑ رہی تھیں ۔۔۔آنکھوں کی پتلیاں دھیرے دھیرے پھیل رہی تھیں ۔۔۔سلیم کے ہاتھ یک لخت رک گئے۔ ۔ وہ چند ثانیے بیٹھا اسے دیکھتا رہا اور پھر حرص کا ایک اور ریلا اس کے دل میں امڈ آ یا جو چند لمحوں کے بعد سیلاب کی مانند اس کے تمام جذبوں کو بہا لے گیا ۔۔۔”

مصفی اور پاکیزہ زبان، روانی اور برجستگی ڈاکٹر سیمیں رخ کی تحریروں کا خاصہ ہے۔۔۔ اور سب سے بڑھ کر منظر نگاری اور جزئیات نگاری میں آپ کا جواب نہیں۔۔۔

آپ کا افسانہ "دھواں” بھی اپنے آپ میں ایک شاہکار ہے… دو عورتوں کی سلگتی کہانی… دونوں ہی اپنے آپ میں مظلوم اور قابل رحم… اور مردانہ کردار فضل داد جو اپنی بزدلی کے باعث کسی ایک عورت کے لیے بھی اپنے نام کی طرح مہربان نہ بن سکا۔۔۔ بلکہ اپنے نام کے برعکس ایک بزدل اور ظالم انسان بن کر ابھرا۔۔۔

” آبلہ پا” اگرچہ ایک روایتی کہانی ہے۔۔۔ مگر سیمیں رخ کے قلم نے اسے نیا رنگ بخش دیا ہے۔۔۔ اس میں اپنی ہم نام لڑکی کنول کا کردار مجھے بہت اپنا اپنا سا لگا۔۔۔رائیگانی کے احساس پر ختم ہونے والی یہ کہانی ۔۔۔شاید ہر دوسری لڑکی کی کتھا ہے۔۔۔پھر چاہے ماہین ہو یا کنول ۔۔۔

افسانہ ‘سنگسار” ہمارے معاشرے کا ایک رستا ہوا ناسور ہے ۔۔۔جہاں فطری تمناؤں اور آرزؤوں کا بھی بے دردی سے خون کر دیا جاتا ہے۔۔۔ اس افسانے میں بھی سیمیں بطور لکھاری ایک بلند مقام پر نظر آتی ہیں۔۔۔ ایک اقتباس ملاحظہ کیجئے :

"شام کو آپا برقعہ اوڑ ھ کر پڑوس میں گئیں تو وہ اندر آ گئی ۔۔۔اور سنگھار میز سے لپسٹک نکال کر اپنے لبوں کے پاس لے آئی ۔۔۔نارنگی رنگ شام کی تمازت میں جیسے تپتا ہوا لگ رہا تھا۔۔۔ اس کی مہک میں عجیب سی تازگی تھی۔۔۔ ہونٹوں پر کیسا کھلتا ہوگا اور مخاطب کو کیسا اچھا لگتا ہوگا ۔۔۔
اس نے اس کا سرا گھما کر اپنے لبوں سے مس کیا اور انگلیوں میں تھامے دیکھتے چلی گئی۔۔۔ ننھی سی ڈبیا تھی اور کتنی پرکشش۔۔۔ جیسے اس میں فقط رنگ نہیں۔۔۔ زندگی بستی ہو۔۔۔ زندگی۔۔۔ جلترنگ بجاتی زندگی۔۔۔ گنگناتی زندگی ۔۔۔۔مسکراتی زندگی۔۔۔ ”

اس طرح ان کا افسانہ” آخری گلاب” پڑھ کر منیر نیازی کی مشہور زمانہ نظم یاد آگئی …

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
افسانہ” آخری ساعت کی آخری بات "میں زندگی کا بڑا گہرا فلسفہ پوشیدہ ہے… سیمیں کا مشاہدہ بڑا عمیق ہے ۔۔۔اور باطن کی نگاہ بہت گہری۔۔۔اقتباس دیکھیے ۔۔۔

"اب نہ کچھ نظر آتا تھا نہ سمجھ آتا تھا۔۔۔ زندگی کے راستے شروع سے اتنے سیدھے نہ تھے کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی مقام پر کچھ غلط ضرور تھا ۔۔۔ضرور ایسا غلط جس سے ہر راہ گزر بند گلی میں جا نکلتی تھی کہ جائے پناہ نظر آتی تھی نہ ہی منزل ۔۔۔”

اس کتاب میں کل دس افسانے ہیں اور ایک سے بڑھ کر ایک ۔۔۔آپ کتاب شروع کرتے ہیں تو پھر ختم کیے بنا نہیں رکھتے۔۔۔کتاب بڑی عمدہ شائع ہوئی ہے ۔۔۔ یہ طباعت” مشہور آرٹ پریس کراچی ” نے کی ہے۔۔۔کاغذ کی کوالٹی بھی شاندار ہے۔۔۔ڈاکٹر سیمیں رخ کا یہ یہ افسانوی مجموعہ ہر صاحب ذوق قاری کے پاس ہونا چاہیے ۔۔۔
میں شکر گزار ہوں کہ ڈاکٹر سیمیں رخ نے اپنی خوبصورت کتابیں مجھے تحفتاً دیں۔۔۔امید ہے وہ اسی محبت ، اسی مسیحائی اور خیرخواہی کے ساتھ ادب کی دنیا میں جگمگاتی رہیں گی۔۔۔

Author

Related Articles

Back to top button