افسانہ : نضال / افسانہ نگار :عظمت اقبال

اس کی چیخ، اس کے وجود کی مانند، ویرانے میں گم ہو گئی۔
وہ کمر تک ملبے تلے دبا ہوا تھا۔ دایاں ہاتھ کسی پتھر کے نیچے دب چکا تھا۔ وہ اپنے بائیں ہاتھ سے اسے کھینچ کر نکالنے کی کوشش کرنے لگا۔
"اللہ اکبر!”
اس کی آواز میں کرب نمایاں تھا۔
اسے یاد آیا، ماں کہا کرتی تھی کہ درد بھری صدا ساتوں آسمان چیر کر اللہ تک پہنچتی ہے۔
"میں کہاں ہوں؟
ماں، بابا، اور فاطمہ کہاں ہیں؟”
اندھیرے میں اس نے کئی بار پلکیں جھپکائیں، مگر کچھ دکھائی نہ دیا۔
"میں کس مصیبت کا شکار ہو گیا ہوں؟”
اسے اپنی استانی یاد آئیں، جو روزانہ صبح اسکول میں دعا پڑھایا کرتی تھیں۔ وہ اپنے جسم میں بچی کچی توانائی سمیٹ کر دعا دہرانے لگا:
مصیبت میں کسے پکارا جائے؟
اللہ، اللہ، اللہ
طوفاں میں کون سہارا دے؟
اللہ، اللہ، اللہ
زخمی، لاچار، کمزور الفاظ اندھیرے میں کھو رہے تھے۔
اس کے لب کپکپا رہے تھے، اور وہ نحیف آواز میں اپنے مسیحا کو پکار رہا تھا:
"یا اللہ، یا اللہ!”
"اللہ اکبر، اللہ اکبر!”
وہ ہاتھ سے چہرے پر لگی مٹی ہٹانے کی کوشش کرنے لگا۔ مٹی کی ایک پرت اس کے چہرے پر جمی ہوئی تھی، اور زخم سے رستا ہوا خون اس مٹی کو اپنے اندر جذب کر چکا تھا۔
اس کا نصف جسم ملبے تلے دبا تھا، اور باقی بری طرح زخمی، مگر اسے درد کا احساس نہیں ہو رہا تھا۔ شاید درد اپنی حد پار کر چکا تھا۔
کچھ دیر پہلے ہی اسے ہوش آیا تھا۔ اندھیرے میں کچھ بھی نظر نہیں آ رہا تھا۔
چند شناسا چہرے ، ماں، باپ، اور فاطمہ ، اس کے ذہن میں فلمی مناظر کی طرح گردش کر رہے تھے۔
ماں اکثر کہا کرتی تھیں کہ نیک لوگوں کو دوسری دنیا میں جنت ملتی ہے، اور وہاں تمام خواہشات پلک جھپکتے ہی پوری ہو جاتی ہیں۔
اس نے ماں سے کہا تھا کہ جب وہ جنت میں جائے گا تو ڈھیر ساری چاکلیٹ، مٹھائیاں اور کمپیوٹر گیمز مانگے گا، اور پرندوں کی طرح آسمان میں اُڑے گا۔
اسے یاد آیا کہ ایک بار مکتب میں قبر کے عذاب کے بارے میں بتایا گیا تھا۔
قبر، جہاں انسان کی روح آسمانوں کی طرف پرواز کر جاتی ہے اور جسم کو مٹی میں دفن کر دیا جاتا ہے۔
اسے اپنے دادا کی تدفین یاد آئی۔ جب اسپتال سے میت گھر لائی گئی، اور پھر جبالہ شہر کے قبرستان میں دفن کیا گیا ، وہ اپنے بابا کی انگلی تھامے یہ سب دیکھتا رہا۔
یکلخت ایک خیال اس کے زخمی وجود کو جھنجھوڑ گیا:
"کیا میں بھی قبر میں دفن کر دیا گیا ہوں؟
مگر میری موت کب ہوئی؟
میں تو نہ بیمار تھا، نہ ہی بوڑھا!”
چند دن پہلے اس کی چھٹی سالگرہ تھی، جس میں اماں نے محلے کے بچوں کو بلا کر الخبیزہ پکایا تھا۔
اس نے ذہن پر زور دیا۔ آخر وہ اس حالت میں کیسے پہنچا؟
یاد آیا کہ پچھلے ایک دو روز سے وہ اسکول نہیں گیا تھا۔
ابا نے بتایا تھا کہ کچھ دنوں کی چھٹیاں ہیں۔ وہ خود بھی دفتر نہیں جا رہے تھے۔
گھر پر بیٹھ کر مسلسل خبریں دیکھتے رہے۔ اماں بھی کام کرتے کرتے بار بار ٹی وی کے سامنے آ بیٹھتیں۔
وہ دونوں کچھ بات پر بہت پریشان دکھائی دے رہے تھے۔
جبالہ چھوڑ کر کسی دوسرے شہر جانے کی بات بھی ہو رہی تھی، لیکن دونوں میں سے کوئی اس کی مخالفت کر رہا تھا۔
فاطمہ کے ساتھ کھیلتے ہوئے کبھی کبھار اس کا دھیان ماں باپ کی باتوں کی طرف چلا جاتا تھا۔
پھر ایک رات…
زور دار دھماکوں کی آواز سے اس کی آنکھ کھلی۔
پہلے دو تین دھماکے دور سے سنائی دیے، پھر ایک قریب ہی زور کا دھماکہ ہوا — وہ بستر سے اٹھ بیٹھا۔
دھماکوں کی شدت نے اس کی سماعت سلب کر دی۔
بس اسے اتنا یاد ہے کہ اماں، فاطمہ کو گود میں اٹھائے، دروازے پر کھڑی ہاتھ کے اشارے سے اسے اپنی طرف بلا رہی تھیں۔
…پھر ایک اور دھماکہ ۔۔۔ اور اس کے بعد کیا ہوا؟
اسے کچھ یاد نہیں۔
تو کیا وہ واقعی مر چکا ہے؟
اور اسے قبر میں دفنایا جا چکا ہے؟
ماں نے کہا تھا کہ نیک لوگ قبر کی کھڑکی سے جنت کا نظارہ کرتے ہیں، اور قیامت کے بعد جنت ان کا ٹھکانہ ہوتی ہے۔
لیکن یہاں تو کچھ بھی نہیں ۔۔۔ صرف گھپ اندھیرا!
"تو کیا میں گناہگار ہوں؟
مگر میں نے تو کبھی جھوٹ نہیں بولا!
ابا کے ساتھ مسجد جاتا تھا، نماز پڑھتا تھا، اماں، ابا اور استاد کی ہر بات مانتا تھا۔
جب قبر اور جہنم کے عذاب کے بارے میں سنا تو اسی وقت توبہ کر لی تھی۔”
اسے یاد آیا
ایک بار فریج سے جوس نکالتے ہوئے گلاس گر گیا تھا۔
ماں نے پوچھا:
"نضال! جوس کیسے گرا؟”
تو اس نے فاطمہ کی طرف اشارہ کر دیا تھا۔
امی نے فاطمہ کو خوب ڈانٹا تھا۔
اور ایک بار برآمدے میں کھیلتے ہوئے اس نے پڑوسی کی بلی پر پتھر اچھال دیا تھا۔
"کیا اللہ نے میری توبہ قبول نہیں کی؟”
"الٓام!”
اب کی بار اس کی درد بھری چیخ صرف ایک سرگوشی بن کر رہ گئی۔
اس کا گلا اور زبان خشک ہو چکے تھے۔
جہنم کا خوف اس پر طاری ہونے لگا۔
کسی بھی لمحے عذاب کا آغاز ہو سکتا تھا۔
وہ ان گناہگاروں کے ساتھ ہو گا جن پر اللہ کا عذاب نازل ہو گا۔
وہ سب چیخ رہے ہوں گے، اللہ سے پناہ مانگ رہے ہوں گے۔
امام صاحب نے کہا تھا کہ اللہ کے گناہگار بندے حساب ہونے تک عذاب میں مبتلا رہیں گے۔
اس اندھیری قبر میں سانپ، بچھو، اور اژدھے اس کا انتظار کر رہے ہوں گے۔
اس کی سانسیں بے ترتیب ہو گئیں، آنکھیں بند ہونے لگیں، اور وہ ایک بار پھر بے ہوش ہو گیا
روتے، چیختے، اور آہ و زاری کرتے مرد، عورتوں اور بچوں کی آوازیں اس کے کانوں میں پڑیں۔
اس نے آہستہ سے آنکھیں کھولنے کی کوشش کی۔
وہ ایک سرخ، نم، اور گرم فرش پر پڑا ہوا تھا۔
ادھ کھلی آنکھوں سے اس نے دیکھا کہ اس کے اردگرد کئی انسانی جسم ۔۔ کچھ تڑپتے، کچھ کراہتے، کچھ ساکت۔
اس کے دائیں جانب ایک بچہ، جس کا بایاں بازو موجود نہیں تھا ، صرف گوشت کا ایک لوتھڑا نظر آ رہا تھا۔
بائیں جانب ایک شخص بے جان پڑا تھا، جو اس کے ابا جیسا دکھائی دیتا تھا۔
اس کے سر کے پچھلے حصے سے خون بہہ کر فرش پر پھیلتا جا رہا تھا۔
آنکھیں کھلی تھیں، مگر پلکیں جھپکنا بند ہو چکی تھیں۔
اس نے دیکھا کچھ لوگ ادھر اُدھر بھاگ رہے ہیں۔
عجیب سی آوازیں اور عجیب سی بدبو ہر طرف پھیلی ہوئی تھی۔
اس کی آنکھوں میں سرخی چھا گئی ۔۔۔
ہر منظر سرخ ہو گیا۔
اسے یقین ہو گیا:
اسے جہنم رسید کر دیا گیا ہے۔
وہ پوری شدت سے چیخا:
"اللہ اکبر! اللہ اکبر! اللہم اغفرلی!”
نرس اس کی جانب دوڑی۔
اس کے رخسار، پھر گردن پر ہاتھ رکھا۔ نبض ٹٹولی۔
نضال، اپنے سفر پر روانہ ہو چکا تھا۔
(نضال: اسم مذکر – معنی: جنت کے گھوڑے پر سوار)




