بلاگ

ڈپریشن کا واحد دیر پا حل/ اسد اللہ اعجاز

 

اگر آپ کسی وجہ سے خود کو مسلسل مایوسی ،ذہنی و جسمانی تھکاوٹ اور گراوٹ کا شکار پاتے ہیں تو سمجھ لیجیے کہ آپ ڈپریشن کا شکار ہو رہے ہیں۔
ڈپریشن ایک ذہنی حالت کا نام ہے اور ہر ذہنی حالت سوچنے کے منفرد طریقہ کار یعنی تھاٹ پراسس سے جنم لیتی ہے۔
چناں چہ ڈپریشن جیسی ذہنی حالت سے نکلنے کا واحد اور دیر پا حل اپنی سوچ میں تبدیلی پیدا کرنا ہے۔
سوچ میں تبدیلی سے کیا مراد ہے؟
مثال کے طور پر, فرض کیجیے کہ ایک فرد میں ڈپریشن کی وجہ کمزور مالی حالات ہیں۔ اور اس کے موجودہ تھاٹ پراسس یعنی سوچنے کے عمل نے اسے مالی حالات کی کمزوری کی ایسی وجوہات دکھا رکھی ہیں جن کا اس کے پاس کوئی حل نہیں ہے۔ یعنی اگر وہ بے روزگار ایک نوجوان شخص ہے تو ہو سکتا ہے اس کی بیروزگاری کی وجہ اسے بیرونی ماحول یعنی کرپشن، رشوت ستانی یا میرٹ کی عدم موجودگی کی صورت میں نظر آتی ہو۔ اب یہ تمام امور ایسے ہیں کہ کوئی فردِ واحد ان کو اپنے لیے تبدیل نہیں کر سکتا۔ چناں چہ اس صورت حال میں اپنے مسئلے کے حل ہونے کو ناممکن خیال کرتے ہوئے ایسا فرد بہت جلد مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے۔
اور یہ طے شدہ حقیقت ہے کہ مایوسی کا شکار ہونے والا انسان عملی لحاظ سے مکمل طور پر مفلوج ہو چکا ہوتا ہے۔
اب یہ دیکھتے ہیں کہ اس صورت حال میں تھاٹ پراسس یعنی سوچنے کے عمل میں تبدیلی کیا کردار ادا کر سکتی ہے؟
اب فرض کیجیے کہ اس بے روزگار انسان کو کسی طرح سے یہ سمجھایا اور باور کروایا جائے کہ روزگار کے حصول کا صرف ایک ہی طریقہ دنیا میں موجود نہیں اور یہ کہ دنیا میں ایسے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں انسان موجود ہیں جو روزگار کے ایسے ذرائع سے وابستہ ہیں جن کے متعلق انہوں نے کبھی گمان بھی نہیں کیا تھا کہ وہ ان ذرائع سے منسلک ہو کر کسبِ معاش کریں گے۔
جب مذکورہ فرد اپنے مسئلے کو اس نئے زاویہ سے دیکھے گا تو یقینی طور پر وہ ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے رہنے اور پریشان ہونے کی بجائے اپنے سوچے ہوئے منصوبے سے ہٹ کر روزگار کے دیگر ذرائع سے اپنے لیے حصولِ معاش کی تگ و دو کرے گا ۔
اور یہی کوشش آخرِ کار اسے مایوسی اور ڈپریشن سے نجات دلائے گی کیوں کہ ڈپریشن اور مایوسی بے عملی کی کوکھ سے جنم لینے والی بیماریاں ہیں۔
درج بالا تمام بحث کے بعد ایک آخری اور اہم ترین سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تھاٹ پراسس یا سوچنے کے عمل میں تبدیلی کیسے پیدا کی جا سکتی ہے؟
تو جنابِ من ، اس کا جواب سادہ اور نہایت آسان ہےکہ سوچنے کے عمل میں تبدیلی پیدا کرنے والے درج ذیل تین محرکات ہیں
اول؛ مشاہدہ، دوم؛ تجربہ اور سوم؛ مطالعہ۔
جی ہاں یہ تینوں ہی وہ عوامل ہیں جن سے مل کر انسانی فکر یا سوچ بنتی بدلتی اور پھلتی پھولتی ہے۔
لہذا اگر آپ کسی بھی وجہ سے ڈپریشن کا شکار ہوچکے ہیں تو اس وجہ کے متعلق اپنے ماحول سے مشاہدات میں وسعت پیدا کیجیے ، اپنے مطالعہ میں گہرائی لانے کے لیے اس میں اضافہ کیجیے اور خود کو اس خاص صورت حال سے باہر نکالنے کے لیے تجربے کے طور پر نئے نئے طریق ہائے کار کو آزمانے سے کبھی نہ گھبرائیے۔

یاد رکھیے!
اگر آپ اپنے ڈپریشن کے فیز میں خود کی مدد کرنے کے لیے یہ عملی کوششیں نہیں کریں گے تو پھر آپ کے پاس دوسرا حل تمام عمر اینٹی ڈپریسنٹ دوائیاں کھانے کے سوا کوئی نہیں ہو گا۔

 

Author

Related Articles

Back to top button