اُردو ادباُردو شاعرینظم
She ! / وسیم تاشف
! She
پردے کے پیچھے
اُس کا دل سیپ
اور اُس کا زخم
اس کا رحم ہے
وہ ایک ممنوعہ پھل ہے
جسے چھکنے کی ہمیں خواہش ہے
ہمارے دماغ
اُس کے ملعون شگافوں (جن سے ہماری مردانہ کمزوریوں پر نظر رکھی جاتی ہے) پر قابو پانے کے لیے
ہمہ وقت بے چین ہیں
ہم ایک گھٹن زدہ قید خانے میں
بند ہیں
جہاں اُس کی جنسی آواز کے علاوہ
کچھ سنائی نہیں دیتا
اُس کی لاتعداد گستاخیاں
ہمارے دِلوں میں گہری چبھ رہی ہیں
اُسے چاہیے
وہ خود کو ہمارے لیے
کھولے
اور اگر وہ سوچتی ہے کہ
وہ ہمارے بنائے اصولوں سے اختلاف کر کے
اپنا مقام بنا سکتی ہے
تو وہ غلط ہے
میں گواہ ہوں !
ایسی عورت کے ساتھ یہاں کیا ہوتا ہے
جو سمجھتی ہے کہ
وہ مَردوں سے زیادہ جانتی ہے !




