بلاگ

سب کو خوش کرنا ضروری نہیں / قرۃالعین حیدر

مجھے یہ اعتراف کرنے میں کوئی عار نہیں کہ ایک زمانے میں میں people pleaser تھی۔ خوشامدی نہیں، کیونکہ دونوں میں غرض اور جھوٹ کا فرق ہوتا ہے۔

لوگوں کو خوش کرنے کے اس خاص رویے کے پیچھے "اچھا بننے”، "اچھا کہلانے” اور لوگوں سے اپنے "اچھے پن کی داد وصول کرنے” کی نفسیات کار فرما ہوتی ہے۔ یعنی آپ کی اپنی شخصیت کی جگہ یا تو بہت کم رہ جاتی ہے یا مکمل طور پر ختم ہو جاتی ہے، اور زندگی کا بنیادی مقصد بن جاتا ہے ارد گرد والوں کو خوش رکھنا، ان کی ضروریات، جذبات، اور توقعات کو اپنی ذات سے مقدم رکھنا۔

مجھے ایک عمر گزار کر اندازہ ہوا کہ یہ رویہ اکثر بچپن کے تجربات، خاندانی رویوں، اور جذباتی ضروریات سے جنم لیتا ہے۔

1. رد کیے جانے یا تنہا چھوڑ دیے جانے کا خوف

یہ خوف بچپن میں کسی بھی وجہ سے دل میں گھر کر جاتا ہے۔ ایسے لوگ "نہیں” کہنے سے گھبراتے ہیں کیونکہ انہیں ڈر ہوتا ہے کہ اس سے دوسروں کی ناراضی یا تعلق ختم ہونے کا خطرہ ہوگا۔

2. بیرونی تعریف و توثیق کی طلب (Public Validation)

ایسے لوگ اپنی قدر کو دوسروں کی رائے سے جوڑ لیتے ہیں۔ جب تک دوسرا تعریف نہ کرے، مثبت ردِعمل نہ دے، اپنے آپ کو اہم نہیں سمجھتے۔ اور اگر الٹا ہو جائے تو ساری رات سوچتے رہتے ہیں:

"اس نے یہ کیوں کہا؟”، "ایسے کیوں دیکھا؟”، "غصہ کیوں کیا؟”، "مجھ سے کیا غلطی ہوئی؟”

3. خود اعتمادی کی کمی یا عاجزی

انسان کی شخصیت میں خوش اخلاقی اور نرم مزاجی توازن کے ساتھ ہونی چاہیے۔ اگر یہ رویہ اتنا بڑھ جائے کہ انسان خود اپنے بوجھ تلے دب جائے تو یہ حماقت بن جاتی ہے۔ ہم بھی ایک عمر تک یہی حماقت کرتے رہے۔ اپنی ناگواری چھپاتے رہے، چپ رہے کہ کوئی ہمیں عاجز سمجھے، لوگ ہماری قربانی کو ویلیو کریں۔ لیکن ایسا ہوتا کم ہی ہے۔

4. تنازع سے بچنے کی خواہش

مجھے تنازعات سے خوف آتا تھا۔ کہیں لڑائی ہو تو وہاں سے بھاگ جانا بہتر لگتا تھا۔ یوں میں لوگوں کی حدود مقرر کرنے سے گھبراتی تھی اور تنازعات سے بچنے کے چکر میں اکثر اپنا ہی نقصان کر بیٹھتی تھی۔

5. بچپن کی تربیت اور کلچرل سوچ

ہمیں بچپن سے بتایا جاتا ہے کہ:
"اچھی لڑکی ایسی ہوتی ہے”،
"اچھے بچے انکار نہیں کرتے”،
"فرمانبرداری سب سے بڑی خوبی ہے”،
"فلاں کے سامنے یہ بات کیوں کی؟ اسے ناراض کیوں کیا؟”

ان جملوں کے ذریعے ہمیں سکھایا جاتا ہے کہ محبت پانے کے لیے اپنی ذات کو پیچھے رکھنا پڑتا ہے۔ یہی رویے ہمیں People Pleaser بناتے ہیں۔

زندگی کے تھپیڑے کھانے اور مختلف طرح کے لوگوں سے واسطہ پڑنے کے بعد میں اس خول کو توڑنے میں کامیاب ہو چکی ہوں۔
لیکن مثبت انداز میں!
نہ بدتمیز ہوئی، نہ منفی، نہ خودغرض۔ محبت، دوستی، اخلاص، احساس، اور احترام آج بھی میری شخصیت کا حصہ ہیں۔

لیکن اب:

  • مجھے کسی کی طرف سے رد کیے جانے کا کوئی خوف نہیں۔
  • کوئی مجھے اچھا پروفیشنل یا اچھا انسان سمجھے نہ سمجھے، مجھے فرق نہیں پڑتا۔
  • جو پیٹھ پیچھے برا کہتے ہیں، اہانت کرتے ہیں یا میرے خلاف باتیں سنتے ہیں، ان کا میرے لیے ہونا نہ ہونا برابر ہے۔

سوائے چند ایک قریبی اور اہم لوگوں کے، کسی کی توثیق میرے لیے اب کوئی معنی نہیں رکھتی۔ حال ہی میں کسی نے فیس بک پر طعنہ دیا:
"تم تھوڑا پڑھ لیتیں تو اچھا تھا!”
میں نے جواب دیا:
"بھائی! تُو نے پڑھ لیا کافی ہے، سب پڑھ کر کیا کریں گے؟”

اب عاجزی بھی ان ہی کے لیے ہے جو اس کے اہل ہیں۔ باقی سب سے برابری کی بنیاد پر بات ہوتی ہے۔ کسی کو برا لگے تو بھی ٹھیک، اچھا لگے تو بہت اچھا۔

تنازعات سے اب میں نہ ڈرتی ہوں نہ گھبراتی ہوں۔ مجھے فضول لڑائی اور پھڈوں سے چڑ ہے، لیکن جہاں جواب دینا ضروری ہو، وہاں ٹکر بھی لیتی ہوں اور جواب بھی بھرپور دیتی ہوں مگر قانون و اخلاق کے دائرے میں۔

یوں میں اپنی ذات کو دوسروں کی منظوری سے الگ کرنے میں کامیاب ہو چکی ہوں۔ اب "نہیں” کہنے یا اپنی ضروریات کو ترجیح دینے پر مجھے کوئی شرمندگی محسوس نہیں ہوتی۔ میری حدیں اب میرے لیے کسی کی رائے سے زیادہ قابلِ احترام ہیں۔

اور اس تبدیلی کے بعد جو چند لوگ، چند دوست میرے ساتھ باقی رہ گئے ہیں، وہ میرے لیے واقعی قابلِ احترام ہیں—کہ انہوں نے مجھے ویسا ہی قبول کیا جیسی میں ہوں۔

آخری بات:

لوگوں کو خوش کرنے والی عادت سے نکلنا میرے لیے کٹھن تھا۔ یہ ایک ایسی جنگ تھی جو میں نے خود سے لڑی۔
اور خود سے جیتنے کا مزہ ہی الگ ہے!

 

Author

Related Articles

Back to top button