ستارے وہم کی بنیاد رکھتے ہیں / گل جہان
ستارے وہم کی بنیاد رکھتے ہیں
یہ کیسی بے محابہ رات ہے
جس کے تکونے میں
کوئی کونا ہمیں ترچھا نہیں ملتا
حدوں کی بے حدی ، بے سمت ہے
بے شکل ہے
لیکن جہاں اٙشکال کا غلبہ ہے
اس کے کیمیائی ربط کے بالکل مساوی ہے
اندھیرے کے تحیّر میں لتھڑتی
دور سے نزدیک کے اٙسرار بُنتی
نامیاتی واحدتوں پر منطقی پرتوں کی گرہیں کھولتی
ترتیب میں اجسام کی چوبیں جلاتی
خود پہ حاوی ہے
جہاں سے دن نکلتا ہے
اسی اک زاویے پر
روشنی کی روح کو تجسیم ملتی ہے
یہاں پر زندگی کے وسوسوں میں جان پڑتی ہے
کئی آنکھیں ادھورے ذائقوں کی
ادھ کھلی حسرت کے ملبوں سے نکلتی ہیں
کئی پیشانیاں
سجدوں سے مٙس پا کر چمکتی ہیں
حقیقت اور تیقّن کی فضا میں سانس کو آرام ملتا ہے
زمانے کی رگوں میں دوڑتی پھرتی
جہاں سازی کو پھر سے کام ملتا ہے
بصارت کو بصیرت کی نموداری سے خدوخال ملتے ہیں
ہر اک مخلوق کو
لوحِ مقرر کے مطابق
رزق اور خوشحالیوں کے تھال ملتے ہیں
جونہی آفاق پر شامیں
نمو سے جڑ پکڑتی ہیں
توٙہُم پھیلتا ، بے ہئیتی کا رقص بنتا ہے
فلک پر دیکھا دیکھی جابجا نقطے چمکتے ہیں
ستارے رست کے چوگرد اپنے وہم کی بنیاد رکھتے ہیں
وہ اپنی گردشیں تبدیل کرتے
برج سے ہر سعد کی برکت کو آخر نحس کی تمثیل کرتے ہیں
اندھیرے کی فسوں کاری کا پردہ تانتے ہیں
اور حقیقت کو وہ سب سے بعد رکھتے ہیں
ستارے وہم کی بنیاد رکھتے ہیں




