کالم

غیرت اور غلامی / ناصر عباس نئیر

 

ابتدا میں غیرت اور غلامی میں کوئی تعلق نہیں تھا۔ اب، کم از کم، ہمارے سماج میں، گہرا تعلق ہے۔ غیرت، عربی لفظ ’’غیرة‘‘ سے نکلا ہے۔ مطلب، بدل جانا، متغیر ہونا۔

عام طور پر دو مفاہیم اس سے وابستہ کیے جاتے ہیں۔ پہلا مفہوم ہے: کسی ناگوار بات پر دل کی حالت کا متغیر ہوجانا۔ دنیا میں روز ناگوار باتیں ہوتی ہیں۔ اخلاقی، قانونی اقدار کے منافی۔ ایسی باتوں پر اگر لوگوں کے دل متغیر نہ ہوں تو سمجھیے، دلوں میں لالچ، بزدلی، مصلحت، تعصب، حسد، خود غرضی کا قبضہ ہے۔ یعنی ایک سماج کے بخیے ادھیڑنے کا مکمل سامان۔

کسی واقعی بری بات پر، دل میں برا ماننا، ایک ایسی حالت ہے، جہاں مسلم شریف کی مشہور حدیث کے مطابق، ایمان کی سرحد ختم ہوجاتی ہے۔ غیرت کا یہی مفہوم، صداقت کو پہچاننے، اس کا ساتھ دینے کے لیے بہادری و جرأت پیدا کرتا ہے۔ آدمی کو غیور بناتا ہے۔

غیرت کا دوسرا مفہوم ہے: کسی خاص حق میں غیر کی شرکت کو برداشت نہ کرنا۔ حق اور غیر، دونوں الفاظ کے معانی طے کرنا آسان نہیں ہے۔ کون سی بات حق ہے؟ کس چیز پر ہمیں حق حاصل ہے؟ حق بات کا تعین کون کرتا ہے، کون سند ہے، کون نہیں؟ چیزوں پر حق اور انسانوں پر حق میں کیا فرق ہے؟ کیا چیز پر حق کے اصول کا اطلاق، انسان پر حق کے اصول پر کیا جا سکتا ہے؟

یہ مشکل سوالات ہیں۔ اس پر سیکڑوں کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔ اور ان پر مسلسل بات کی جاتی رہنی چاہیے۔ اسی سے یہ حقیقت عام کی جا سکتی ہے کہ محض رواج، کسی چیز کے حق ہونے کا پیمانہ نہیں۔ صدیوں سے جاری ایک رسم، خیال، تصور، قدر یکسر مہلک اور غیر انسانی ہوسکتی ہے۔

صرف طاقت ہی، ایسے رواج کو قائم رکھ سکتی ہے، اور صرف عقل ہی، اسے چیلنج کر سکتی ہے۔

غیر کون ہے؟ یہ سوال اتنا پیچیدہ نہیں ہے۔ جو ہم سے مختلف ہے، وہ ہمارا غیر ہے۔ ہمارے خون، رنگ، نسل، مرتبے، تصورات، قبیلے، قوم، مذہب، تہذیب سے مختلف ہے، وہ ہمارا غیر ہے۔

چوں کہ غیر ہے، اس لیے وہ اگر دشمن نہیں ہے تو دشمن بننے کا پورا امکان اور اہلیت رکھتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ غیرت کے مذکورہ بالا دوسرے مفہوم نے غیرت اور غلامی میں ایک گہرا رشتہ قائم کیا ہے۔ جس پر ہمیں حق حاصل ہے، اس میں کسی غیر کی شرکت، ہماری مرضی کے بغیر نہیں ہوسکتی۔ یہاں حق کا مطلب، حقِ ملکیت ہے۔ عورت ہماری ملکیت ہے۔ بلا شرکت غیرے۔ بالکل غلام کی مانند۔

اس کے جملہ حقوق، یعنی اس کے طرزِ زندگی سے لے کر، اس کی زندگی و موت کے حقوق، ہمارے ہیں۔ کیا اس سے کوئی مہلک ہوسکتا ہے؟ ہر مہلک تصور، ہلاکت خیز واقعات کو جنم دے کر رہتا ہے۔

ملکیت تصور کرتے ہی، عورت، انسان سے شے کے مرتبے پر آ جاتی ہے۔ شے کی کوئی ذات (سیلف) نہیں ہوتی۔ وہ خیال، ارادے، منشا، فیصلہ کرنے کی قوت اور اختیار سے یکسر محروم تصور کی جاتی ہے۔

لیکن اس میں دو دبدھے (dilemmas) ہیں۔ عورت، شے ہونے کے ساتھ، ایک علامت بھی سمجھی جاتی ہے۔ غیرت، حمیت، شرم اور لاج کی۔ عورت اپنے جسم و لباس سے لے کر، خیال و عمل، ہر جگہ ان چار عناصر کا مجموعہ ہے۔ یہی چار عناصر، ایک گہری نفسیاتی چال بھی ہے۔

عورت کے جسم کو قابو کرنا آسان ہے، ذہن و دل کو نہیں۔ یہ چار عناصر، عورت کے دل و ذہن کو قابو میں رکھنے کا مؤثر وسیلہ ہیں۔ ایک خالص استعماری حکمت عملی۔ استعمار صرف دور دراز خطوں سے نہیں آیا کرتا، خالص مقامی بھی ہوا کرتا ہے۔

دوسرا دبدھا یہ ہے کہ عورت، شے تصور کی جاسکتی ہے، ہے نہیں۔ وہ اپنی ذات کا اظہار کرکے رہتی ہے، عام طور پر جان ہتھیلی پر رکھ کر۔

وہ مرضی کی شادی کا فیصلہ کرکے، اپنے شے ہونے کی حقیقت کا انکار کرتی ہے۔ وہ شرم و حیا جیسے تصورات کو مرد کی بالادستی کا نفسیاتی حربہ سمجھ کر، انھیں بالائے طاق رکھتی ہے۔ وہ غیرت کے نام پر غلام سمجھے جانے کے خلاف، بغاوت کرتی ہے۔

چنانچہ عورت اگر مرضی سے شادی کرتی ہے تو ’’غیرت مند مردانہ سماج‘‘ اپنی ملکیت کے چھن جانے، اپنے غلام کی ناقابلِ معافی بغاوت اور نام نہاد غیرت و شرم کے تصورات کا سرِ عام مضحکہ اڑانے کا سنگین عمل سمجھا جاتا ہے۔

چنانچہ اس بغاوت کی سزا کو عبرت انگیز واقعہ بنایا جاتا ہے۔

آج جو کچھ بلوچستان میں مرضی سے شادی کرنے والے جوڑے کے ساتھ ہوا ہے، وہ غیرت اور غلامی میں خالص مقامی استعماری رشتے کا ہولناک مظہر ہے۔

خدا کرے، اس خاتون کے آخری الفاظ: "صرف گولی سے مارنے کی اجازت ہے” (یعنی تم ہاتھ نہیں لگا سکتے۔ مجھے چھو نہیں سکتے۔ میرا گلا نہیں گھونٹ سکتے) دیر تک گونج پیدا کرتے رہیں، تاکہ مزید کوئی عورت، محض اس بنا پر گولی کا نشانہ نہ بنے کہ اس نے نام نہاد مردانہ غیرت کو چیلنج کیا اور شے، کنیز، اور بے روح وجود بننے سے انکار کیا۔

ناصر عباس نیّر
۲۰ جولائی ۲۰۲۵ء

Author

Related Articles

Back to top button