عورت / عبدالرحمان واصف
عورت
(ایک نظم تمام ماؤں بہنوں بیٹیوں کے نام)
بنتِ حوا ہوں میں !
مجھ کو تسلیم ہے ، ٹیڑھی پسلی کی تعمیر ہوں !
پر یہ سچ بھی سنو!دل کی دھڑکن ہوں آنکھوں کی تنویر ہوں
ماں ہوں بیٹی ہوں بیوی ہوں ہمشیر ہوں
سر تا پا میں محبت کی تصویر ہوں
آدمی کی سکینت کے سپنے کی تعبیر ہوں !
زندگی رات ہے اور اجالا ہوں میں
بنتِ حوا ہوں میں !
میرے احساس نے آدمی کا ہمیشہ تحفظ کیا
میرے جذبات نے آدمی کو اذیت میں کندھا دیا
میری چاہت نے دیوار و در کو گھروندا کیا
حسنِ ترتیب ِ دنیا و عقبیٰ ہوں میں
بنتِ حوا ہوں میں !
گاہے مجھ کو قبیلے کی پگڑی کی سولی چڑھایا گیا
گاہے بھائیوں کی عزت پہ ناموس پر دل دکھایا گیا
مجھ کو روندا گیا مجھ کو کچلا گیا آزمایا گیا !
میں نے سب دکھ سہے ، میرے آنسو بہے ، مجھ پہ ہر ظلم ڈھایا گیا !
مجھ کو روندا گیا اور ستایا گیا !
ایسے توڑا کہ جیسے کھلونا ہوں میں
بنتِ حوا ہوں میں !
میں وہ جس نے زمانوں کو تہذیب دی
میں وہ ہوں جس نے نسلوں کی تعمیر کی
میں وہی جس کی اولاد زاہد، ولی
میرے قدموں میں فردوس رکھی گئی !
حرفِ تکریم ! خلدِ معلیٰ ہوں میں !
بنتِ حوا ہوں میں !




