حکومت پنجاب کا ایک اور بڑا فیصلہ / فیصل شامی

صوبہ پنجاب میں جگہ جگہ سے تجاوزات کے خاتمے کے بعد حکومت پنجاب کی طرف سے ایک اور بڑا فیصلہ کر لیا گیا جس کے مطابق صوبے بھر میں لوڈر اور چنگ چی رکشوں پہ پابندی کا فیصلہ کر لیا گیا اس فیصلے سے غریب مظلوم اور مفلوک الحال عوام کے دلوں پر گویا بجلی سی گر گئی ہے لوڈر اور چنگ چی رکشوں پر پابندی لگنے سے غریب محنت کش مزدور عوام پریشان ہو گئے ہیں۔ یقینا مزدوروں و محنت کشوں کی پریشانی جائز ہی لگتی ہے کیونکہ آج کے اس دور میں دو وقت کی روٹی کمانا عام غریب مزدور کے لئے آسان بات نہیں،کوئی بھی مزدور بارہ سے چودہ گھنٹے مزدوری کرتا ہے تو بمشکل اس کے گھر کاچولہاجلتا ہے اور مہنگائی کے اس طوفانی دور میں یقیناغریب مزدور طبقہ ہی پریشان نظر آتا ہے جس کو دن بھر محنت کے باوجود وہ معاوضہ نہیں ملتا جن کے وہ حق دارہیں اور ہمارے بہت سے دوست برملا کہتے ہیں کہ بڑی بڑی گاڑیوں میں گھومنے والے اور اے سی والے ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر مزدور کے حق کے لئے آواز اٹھانے والے لوگ تو مزدور کے دکھ و درد و تکلیف سے ذرا بھی آشناء نہیں ہوتے نہ ہی وہ یہ جانتے ہیں کہ کس طرح مزدور دن بھر محنت مشقت کر کے روزی کماتا ہے لیکن اس بات سے بے خبر وہ مزدور کے حقوق پر لمبی چوڑی تقریریں ضرور کرتے ہیں اور اگر دیکھا جائے تو چنگ چی رکشے جو ہیں وہ بھی مسلم لیگ ن کی سابقہ حکومت میں عوام کو روزگار کمانے کے لئے دئیے گئے تھے اور ہمسایہ و دوست ملک چائنہ سے مزدور غریب طبقے کے لئے خصوصی طور سے چنگ چی رکشے منگوائے گئے تھے تاکہ غریب و مفلوک الحال عوام عزت سے دو وقت کی روٹی روزی کما سکیں اور اتنے سالوں بعد ن لیگ کی حکومت ہی چنگ چی رکشوں اور لووڈر رکشوں پر پابندی لگا کر عوا م سے باعزت روٹی روزی کا ذریعہ چھین رہی ہے اور یقینا اگر حکومت چنگ چی اور لوڈر رکشوں پر پابندی لگاتی ہے تو یقینا حکومت وقت کا فرض ہے کہ چنگ چی رکشہ اور لوڈر رکشے چلانے والوں پر اگر پابندی لگا رہی ہے تو ایسے عوام جن کا روزگار حکومت کے فیصلے سے متاثر ہو رہا ہے۔ ایسے لوگوں کو یقینا متبادل روزگار فراہم کیا جانا چاہیے تاکہ غریب مزدوروں کے گھروں کا چولہا جلتا رہے اور غریب مزدور و محنت کشوں کے بچے حکومت کی مضبوطی،بہتری و کامیابی کے لئے بھی ہمہ وقت دعا گو رہیں تو بہر حال فی الوقت اپنے پیارے دوست فیصل شامی کو دیں اجازت تو ملتے ہیں جلد ایک بریک کے بعد تو چلتے چلتے اللہ نگہبان، رب راکھا۔۔۔




