بلاگ

اور وہ گھر میں آنا مِستریوں کا/ملک اسلم ہمشیرا

مستری رمضان اپنے والدِمحترم کی سوانحِ حیات پر لکھی کتاب ۔۔”باکستانی کل حرامی” کے صفحہ نمبری 420 کے اقتباسات و واقعات میں سے ایک واقعہ یوں بیان فرماتے ھیں کہ
” ایک دفعہ٠٠٠٠ اَباّ حضور کے گناہ اتنے زیادہ اکٹھے ھو گئے کہ ان کی میموری فُل ھوگٸ ٠٠٠٠ تو ابا حضور بسِلسلہ تخفیفِ گناہ و حصولِ متاع٠٠٠٠٠ حجازِ مقدس تشریف لے گٸے٠٠٠٠

مگر شومٸ قسمت ٠٠٠٠پورا سال گزر گیا نہ کسی عربی کے کرم پھوٹے اور نہ ابوّ کی قسمت جاگی٠٠٠٠٠
آخر مایوس ھو کر گھر پاکستان فون کیا کہ” میں سارا سال کام کیلٸے سرگرداں رھا ہوں۔۔۔ مگر کوٸ کام نہیں ملا۔۔۔ سِواٸے نمازیں پڑھنے کے٠٠٠لہذا پرسوں واپس پاکستان نازِل ھو رھا ھوں“٠٠٠٠٠٠
تو جس دن ابّا حضور کی واپسی تھی عین اُسی دِن ایک ”عربی“ آیا اور کہنے لگا
” اَناَ مُرَّمَةُ حَوضَةً نَلکةًُ
ًُ ”یعنی میں نے نلکے کا حوض مُرمَت کروانا ھے٠٠٠٠٠٠یہ سُن کر مِستری صاحب کی باچھیں کھِل کر کانوں کو جالگیں،آنکھوں میں چمک عود کر آگئ مو چھیں پھڑپھڑانے لگیں ۔۔
چنانچہ دونوں ھاتھ سینے پر رکھتے ھوٸے اگلے دن اپنی خدمات پیش کرنے کا یقین دِلایا٠٠٠٠٠
ابّا حضور نےً ھنگامی بنیادوں پر دوبارہ گھر فون مِلایا اور اگلے ”چھ ماہ“ تک کے کام کا مژدہ سُنایا٠٠٠٠٠
اگلے دِن ابّا حضور اپنے اُسترے قینچیاں لے کر ”عربی“ کے گھر جا دھمکے٠٠٠٠٠اور فوراً ھی اس عظیم منصوبے کا سنگِ بنیاد رکھ دیا ،شام تک پوری جاں فشانی سے کام میں جُتے رھے اور شام سے پہلے تک ایک خوبصورت حوض تیار کرنے میں کامیاب تو ھو گٸے مگر٠٠٠٠٠٠٠٠٠ جاتے جاتے پانی کی نکاسی والا ”پرنالا“ جان بوجھ کر اُونچا رکھ چھوڑا٠٠٠٠٠

دوسرے دِن وہ عربی پھر حاضر ھوا اور شکایت کی کہ
”لاَ یُخرِج ُالمإ من الحوضً ”یعنی حوض سے پانی کی نِکاسی نہیں ھو رھی“
دوسرے دن ابّا حضور نے اپنا ٹین ڈبہ پھر اُٹھایا اور ”عربی“ کا ”مکھو ٹھپنے“ دوبارہ پہنچ گٸے٠٠٠٠
اب کی بار ابّاحضور نے پہلے والے حوض کو زمین برد کر کے اس کی جگہ ایک نیا حوض تعمیر کیا جو صحن کے سطح سے ایک فٹ اونچا تھا٠٠٠٠
دو دِن بعد ”عربی“ سر پر ھاتھ رکھے دوبارہ نازِل ھوا کہ ”صحنُ لَباَ لَبُ من المإً“ ”یعنی پانی سےصحن کی بھرا ھوا ھے
”اگلے دِن ابّا جی نے جاٸے وقوع کا معاٸنہ کیا اور ”عربی“ کو ”بھَرا“یعنی مٹی ڈلوا کر صحن کی سطح کو اونچا کرنے کا آدھیش جاری کیا٠٠٠٠
چنانچہ ”عربی“نے پاکستانی مِستری کی مشاورت سے صحن کو اُونچا کروایا٠٠٠٠٠پھر چشم فلک نے وہ منظر بھی دیکھا کہ جب ”عربی“اپنا صحن اونچا کروا کے فارغ ھوا تبھی پورے گھر کی چھتیں نیچی ھو چُکی تھیں٠٠٠٠٠
جب عربی نے یہ منظر دیکھا تو بے ساختہ اس کے منہ سے نکلا
” یَا بَاکِستانی عاملِةًُ کُلُ حرامیًُ٠٠٠٠و ھذا صحنُ اُفقیتًُ ٠٠٠٠
و چَھتةُ عَمُودیة٠٠٠٠”یعنی صحن اونچا ھے چھتیں نیچی٠٠٠٠
اب ابّا حضور نے عربی سے کہا کہ ”جان کی امان پاٶں تو کچھ عرض کروں؟
عربی نے ”قَالو کَمبختَ“ کہہ کر اپنے اشارٕہٕ ابرو سے امان دے دی تو٠٠٠٠٠٠٠ابّا حضور نے بس اتنا کہا کہ”چَھتَاں پَٹو٠٠٠٠یعنی ”چھتیں اُونچی کرواٶ۔۔۔۔۔

تاریخ کے اوراق بتاتے ھیں کہ ابو جی پہلے فون سے دو سال تک پاکستان نہیں لوٹےتھے ٠٠٠

یہ فیضان نظر تھا یا کہ پیسے کی کرامت تھی٠٠٠٠
سِکھاٸے کِس نے مِستریوں کو اندازِ چکر بازی٠٠٠٠٠

Author

Related Articles

Back to top button