افسانہ

افسانہ : نن Nun / افسانہ نگار : رانی احمد

حرم امام دین دو روزہ ‘بین الثقافتی و مذہبی ہم آہنگی کانفرنس’ سے واپس لوٹی تو کافی الجھی ہوئی تھی۔
اگرچہ کانفرنس کا دعوت نامہ وصول کرتے اور جاتے سمے اس کی خوشی دیدنی تھی۔
اسے اس قابل سمجھا گیا تھا کہ وہ اتنی اہم تقریب میں شامل ہو اور اپنے خیالات کا اظہار کرے۔
اس نے تقریب میں انتہائی سیر حاصل گفت گو کی تھی جسے کافی سراہا گیا تھا۔
دو دن اتنی جلدی گزرے کہ اسے خبر تک نہ ہوئی۔
لیکن واپسی کا سفر خاصا بوجھل تھا۔
سوالات کا ایک خود رو جنگل تھا جو اس کے اندر اگ آیا تھا اور راستے بھر اسے احساس ہوتا رہا جیسے جنگل میں اچانک آگ بھڑک اٹھی ہو۔
اس کا وجود بھڑ بھڑ جلنے لگا ہو اور اس کے وجود کے جلنے کی بد بو چاروں اور پھیلی ہو ۔
اس نے لا شعوری طور پہ گھبرا کر اپنے جسم پہ ہاتھ پھیرا ۔
وہ سلامت تھی مگر بری طرح پسینے میں شرابور تھی۔

آج سے پہلے اس کی یہ کیفیت کبھی نہ ہوئی تھی۔
گھر پہنچ کر تھکن کے سبب ابا اماں نے اس سے کوئی بات نہ کی تھی۔
مگر وہ جانتی تھی ابا بہت خوش ہوں گے۔
ان کی ہو نہار بیٹی اپنے چھوٹے سے علاقے سے نکل کر ملکی سطح پہ معروف ہو چکی ہے۔
وہ واقعی نڈھال تھی لیکن یہ تھکاوٹ جسمانی سے زیادہ ذہنی تھی۔
وہ سخت ذہنی دباؤ کا شکار ہو رہی تھی۔
جلتے وجود کے ساتھ بھی ابھی زندہ رہنے کا احساس باقی تھا ۔

کوئی رائیگانی سی رائیگانی تھی۔

دل مسلسل بے چین تھا اور اس سے سوال پہ سوال کر رہا تھا۔

وہ دل کی سنتی ہی کب تھی۔
اب دل نے گویا پلو پکڑ کر اسے اپنی جانب کھینچا تھا۔

اس نے پلو چھڑانے کے لیے جیسے ہی پیچھے جھانکا تو اس کے تعلیمی دور کا روشن دریچہ اس کے سامنے کھلتا چلا گیا۔

آٹھ سال پہلے کی زندگی کا وہ لمحہ کتنا مختلف سا تھا ۔
حبس زدہ سے دنوں میں اس کے اندر کا موسم یک دم بدل جائے گا وہ اس بات سے بالکل بے خبر تھی۔

وہ کلاس ختم ہونے پر دم بھر سستانے کو راہ داری سے ہوتی ہوئی باغیچے میں چھاؤں تلے آ بیٹھی تھی۔

"حرم! ”

اپنے نام کی پکار پہ چونکتے ہوئے اس نے مڑ کر دیکھا تب تک پکارنے والا بے تکلفی سے اس کے سامنے آکر بیٹھ چکا تھا ۔
اس کے چہرے پہ ناگواری اتری۔
” کھڑے کھڑے بات کرنا معیوب سا لگتا ہے۔ اسی لیے بنا اجازت بیٹھ گیا۔
پکارنے والے نے ناگواری محسوس کرتے ہوئے صفائی دی۔
"میرا نام زریاب خان ہے۔
پٹھان ہوں۔
شعبہ ریاضی میں رُلتا پھرتا ہوں۔
دوست سے ملنے یہاں کا چکر لگتا رہتا ہے۔
معلوم نہیں تھا یہ چکر لگنا مجھے چکرا کے رکھ دے گا۔”

وہ بے تکلفی سے شروع ہو چکا تھا۔

حرم کچھ بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر اپنا درست حجاب پھر سے درست کرنے لگی ۔
"ہاں تو میں کہ رہا تھا کہ پچھلے ہفتے جب یہاں آیا تو یوں سمجھیے اپنا آپ شعبہ عربی میں ہی چھوڑ گیا۔”
خود پہ شدید غصہ ہوں۔
میں وہاں ریاضی کے کلیوں ،فارمولوں کے ساتھ جھک مارتا رہا ہوں اور سارے کے سارے فارمولوں کا حل یہاں موجود تھا.”

"آپ کہنا کیا چاہ رہے ہیں۔”
وہ بے ساختہ پوچھتے ہوئے اٹھ کر کھڑی ہوئی۔

"پچھلے ہفتے آپ کو دیکھا تھا.”

"آپ مجھے کیسے دیکھ سکتے ہیں؟”

"آپ اسی جگہ اپنا حجاب درست کر رہی تھیں۔
یہ شاید آپ کی پسندیدہ جگہ ہے۔
اُس دن راہ داری سے گزرتے ہوئے بلا ارادہ نظر اس طرف اٹھ گئی تھی۔
گستاخی معاف۔
بے ادبی ہوگئی۔”
وہ کوئی خیال آنے پر خود بخود مسکرایا۔
کچھ لمحوں کا اپنا سحر ہوتا ہے کیوں کہ وہاں محبت تاک لگائے بیٹھی ہوتی ہے۔
وہ بھی ایسا ہی لمحہ تھا۔
اس کی جان لیوا مسکراہٹ حرم کے پورے وجود میں اترتی چلی گئی۔

وہ سٹپٹاتے ہوئے ہل کر رہ گئی لیکن
وہ نامحرم تھا۔
اس نے گھبرا کر اپنی نظروں کا زاویہ بدلا۔

” یہ سب فضول کہانی سنانے کا مقصد ؟”
بولی تو لہجے میں سختی مفقود تھی۔
"مقصد صرف اتنا کہ عزت و احترام سے آپ کو اپنا بنانا چاہتا ہوں۔
اس سلسلے میں آپ کی مرضی درکار ہے۔
کچھ دنوں میں یونیورسٹی کا سلسلہ ختم ہو جائے گا۔
زندگی میں سب ٹھیک یے میں اماں ابا کا آخری شاہ کار ہوں۔
اس لیے لمبے چوڑے سسرال کا بھی کوئی جھنجھٹ نہیں ہوگا۔
آپ چاہیں گی تو پشاور رہ لیں گے۔نہیں تو پھر یہیں سہی۔”

وہ حیران سی آنکھیں پھاڑے اسے دیکھے جا رہی تھی جو لمحوں میں اس کی زندگی میں خود کو شامل کر چکا تھا۔

"زریاب! اس کے لبوں نے بے اختیار پکارا۔”
دل نے کب سے تھاما پلو چھوڑ دیا۔
اس کے اندر باہر خوشی پھیلنے لگی۔
زریاب کے تصور سے مسکراتے ہوئے بھی اس کی ذہنی رو کانفرس ہال کے باہر بنے ریستوران میں بھٹک رہی تھی۔
وہ فوراً شعوری طور پہ کسی خیال سے دامن چھڑاتے اٹھی اور زریاب کو اپنی رضامندی کا فون کرکے آئینے کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔

کتنا صابر و وفادار نکلا تھا وہ ۔
آٹھ سال بنا کوئی گلہ شکوہ کیے اس کی ہاں کا منتظر رہا تھا۔
وہ چاہتے ہوئے بھی اقرار نہ کر سکی تھی۔
کچھ لمحے اپنے آپ میں اقراری ہوتے ہیں مگر اظہار میں تبدیل ہوتے بہت سا وقت مانگتے ہیں۔
وقت مانگا گیا تھا۔
اب جانے زریاب نے فون پہ ایسا کیا کہا تھا کہ اس کی دل نشیں مسکراہٹ پیامِ اقرار بن گئی تھی۔
کمرے میں برسوں بعد سنگھار کے رنگ جاگے۔
بالوں کو کھلا چھوڑا گیا اور گلابی ہونٹوں کو سرخ رنگ کی لپ اسٹک سے سجا دیا گیا
آنکھوں میں کاجل ڈالا تو مدہوشی کی رتھ پہ سوار کتنے ہی خواب اس کی گہری سیاہ آنکھوں میں ادھر ادھر ڈولنے لگے۔
ماحول پہ کسی نے فسوں پھونکا۔
اسے اپنے آس پاس زریاب کی آہٹ سنائی دینے لگی۔
دل بالکل ویسے ہی انوکھی لے پہ دھڑکنے لگا جیسے پہلی بار اسے دیکھ کر دھڑکا تھا۔
اسے لگا آٹھ سال کہیں تحلیل ہو گئے ہیں۔ ملن رت آئینے کے اس پار سے جھانکتی ہے۔
دو دن سے چھائی ذہنی کثافت چھٹنے لگی تھی۔
دل خود بہ خود خوش کن لمحات کے تصور سے بہک رہا تھا۔
دل بہک رہا تھا یا وہ دل کے تابع ہوکر بہک گئی تھی۔
اس کا ادراک کرنا تب مشکل ٹھہرا جب اس کے کانوں نے وہ سب سنا جسے وہ دانستہ جھٹلاتی رہی تھی۔

"جاہل عورت!
کیا بکتی ہے؟
حرم کی شادی کبھی نہیں ہو سکتی۔ میں نے اسے اللہ کی راہ میں دے دیا ہے ۔
یہ شادی جسے فعل تم جیسی عورتوں کے کام ہیں۔
ساری زندگی محلے کی مسجد میں لوگوں کے گھروں سے آئی ہوئی روٹیوں پہ گزارا کیا ہے۔ اب اچھے دن آگئے ہیں تو تُو چاہتی ہے میں اپنے بڑھاپے کی کمائی کسی اور کے سپرد کردوں؟
وہ جو کوئی بھی ہے اسے صاف انکار کردو ۔”

ابا پتا نہیں کیا کہے جا رہے تھے۔

وہ تو جیسے یہاں تھی ہی نہیں۔
شاید ہوا میں تحلیل ہو چکی تھی۔
جہاں خود رو جنگل میں آگ لگی تھی اور ہر سو کچے گوشت کے جلنے کی بدبو پھیلی تھی۔

اماں اس کے لیے منمنا رہی تھیں۔
” ارے بدبخت عورت!

اس کام میں بڑا پیسہ ہے لوگ اب ناچنے والیوں پہ اتنا نہیں لٹاتے جتنا دین والیوں پہ لٹاتے ہیں۔”

ابا نے اس کے دل کی خوشی کو بالوں سے پکڑا تھا۔
اسے لگا اس کی گردن تکلیف سے درد کر رہی یے۔
الفاظ اس قدر نوکیلے تھے کہ پورے وجود میں پیوست ہوگئے۔

دوران تعلیم شروع شروع میں وہ تہواروں پہ بلائی جاتی تھی۔
جو کام مولوی امام دین ساری زندگی نہ کر سکا تھا ۔ وہ اب اس کی بیٹی کر رہی تھی
لوگ خود کو ارفع مسلمان ثابت کرتے ہوئے حرم کو ہاتھوں ہاتھ لیتے اور پیسے میں تولتے تھے۔

مولوی امام دین اچھے سے جانتے تھے کہ اس کی بیٹی دولت کے لالچ سے کوسوں دور ہے۔
نیک فطرت ہے ۔
سچ مچ کی دین دار ۔
دوہری نیکی تھی بیٹی کے توسط سے پیسہ بھی آ رہا تھا۔
نام بھی بن رہا تھا اور دین کی خدمت بھی ہو رہی تھی۔

اب اچانک سب کچھ ہاتھوں سے جاتے دیکھ کر وہ تلملا اٹھے تھے۔
اس نے حرم کی کمائی سے اپنے آٹھ بچوں کی شادی کی تھی۔بیٹے سب ناکارہ تھے۔کیا تھا تیسرے نمبر والی حرم عمر بھر کے لیے اس کا سہارا بنی رہے ۔
لوگوں کو خدا کے سہارے کا یقین دلاتا مولوی امام دین خود بیٹی کے سہارے کی لاٹھی پکڑے بیٹھا تھا۔

"لوگ اب ناچنے والیوں پہ اتنا نہیں لٹاتے جتنا دین والیوں پہ لٹاتے ہیں۔”
ابا کی اس مثال سے وہ اندر تک کانپ گئی تھی۔
اس کا وجود سوکھے پتوں کی طرح اڑنے لگا ۔
"وہ تو دین سیکھنے نکلی تھی۔
دین کا پرچار کرتی تھی۔
تو کیا ابا نے اسے ‘بازار ‘ میں لا بٹھایا تھا؟
کیا مولوی امام دین بیوپاری تھا؟”

اس نے کرب سے آنکھیں موند لیں۔
کانفرنس ہال کے باہر بنے ریستوران کا منظر جاگ اٹھا تھا ۔

دورانِ کانفرنس ہی تو حرم کی ملاقات مریم ہارون گِل سے ہوئی تھی۔
دھیمے مزاج کی مریم اسے ہو بہو اپنا پر تو لگی ۔ بات مذہبی ہم آہنگی سے ہوتی ہوئی مختلف موضوعات کے گرد گھومنے لگی تھی۔
"حرم!
محبت بھی کسی الہام سے کم نہیں۔ خوب صورت اور پاکیزہ دلوں پہ اترنے میں ایک لمحہ لگاتی ہے۔

جیسے راہبہ میری الزبتھ اور راہب رابرٹ کی محبت ۔
تمہیں معلوم ہے لنکا شائر کے قصبے پرسٹین میں اتفاقا میری کو رابرٹ کی آستین کا ہلکا سا لمس چھو گیا تھا ۔
اور وہ دونوں ایک جیسی کیفیت کا شکار ہوکر محبت میں مبتلا ہو گئے تھے۔زمان و مکاں کو رکتے محسوس کیا گیا تھا۔
محبت وسیع احساس ہے۔ آپ کا دل کیسے تقسیم ہو سکتا ہے؟
کیوں کہ خدا تو اس میں موجود رہتا ہے۔کسی سے محبت کے بعد آپ کا رشتہ خدا سے بدل نہیں جاتا۔
یہ عبادت سے نہیں روکتی۔

محبت ہر کام کو خیروبرکت کا ذریعہ بنا سکتی یے۔
اگر کوئی ہو تو محبت میں مبتلا ہو جانا چاہیے اور اسے خود میں مبتلا کر لینا چاہیے۔

پھر شادی کرکے ایک خوب صورت جہان میں داخل ہو کر دنیا کے سارے دروازے بند کر دینے چاہییں تاکہ کوئی اس جہان میں داخل نہ ہو سکے۔”

مریم دور خلاؤں میں دیکھتے ہوئے اس سے مخاطب تھی ۔
جانے دو ہی دن میں ان کی اتنی دوستی کیسے ہو گئی تھی؟

"حرم!
کبھی کبھی میں سوچتی ہوں.
مذہب ایک تیز دھار تلوار ہے۔
یہ جتنی بھی عبادت گاہیں ہیں، یہ دراصل قربان گاہیں ہیں۔
جہاں انسانی احساسات و جذبات کو ذبح کیا جاتا ہے۔

لوگ اپنی مرضی کا حلیہ بنائے اپنے پسندیدہ نظریات کا پرچار کرتے ہیں۔
وہ سمجھتے ہیں کہ ایسا کرکے وہ اپنے اپنے مذہب کی پیروی اور خدمت کر رہے ہیں۔
ایسے وہ خداوند کریم کی رضا حاصل کر لیں گے اور Heaven (جنت) کے حق دار بن جائیں گے۔
جب کہ وہ کئی جگہوں پہ انسانیت کو مسلسل روندتے جا رہے ہوتے ہیں۔
مجھے لگتا ہے انسانیت اور انسانی خوشیوں کا خیال کرنا ہم بھول گئے ہیں۔
ان خوشیوں میں ایک خوشی شادی بھی ہے۔

"حرم! تم شادی کرلو ۔
جس طرح روح کی تسکین کے کچھ تقاضے ہوتے ہیں بالکل اسی طرح جسم بھی تسکین مانگتا ہے۔”
” اور تم ؟
حرم نے اس کے مخصوص سفید لباس میں ملبوس سراپے پہ نظر ڈالی۔
” میں ؟
میں شادی کیسے کرسکتی ہوں ؟
بھلے کوئی رابرٹ ہو بھی تو کیا۔۔۔۔۔.”

دونوں کی گفتگو میں خاموش حائل ہوئی جسے قریبی چرچ کی بجنے والی گھنٹیوں نے توڑا ۔

مریم گِل نے اپنے گلے میں موجود صلیب پہ ہاتھ پھیرا اور بنا کچھ کہے اسے الوداعی بوسہ دیتی ہوئی تیزی سے چرچ کی جانب مڑ گئی تھی۔
مغرب کی سمت بڑھتے سورج نے دونوں کی آنکھوں کو نم دیکھا تھا ۔

"آہ!
وہ کراہی۔

سود وزیاں کا حساب جاری تھا
دن سوگوار سے ہوں یا راتیں پہاڑ سی،
کبھی نہیں ٹھہرتے انہیں گزرنا ہوتا ہے.
وہ ہر شے سے بے زار ہو گئی۔
عبادات میں جی نہ لگتا۔
اسے لگا وہ منافق بن کر دین کا بیوپار کرتی رہی تھی۔
اکثر اب ابا کا چہرہ پہچاننے میں ہلکان ہونے لگی تھی ۔
اسے لگتا ابا کی داڑھی بڑھتی جا رہی ہے اور بڑھتے بڑھتے پاؤں تک آ گئی ہے۔
ابھی کل ہی تو ایسا ہوا تھا ۔
جب ان کے فون پہ کسی کی طرف سے بھیجی گئی مریم اور اس کی تصویر دکھاتے ہوئے وہ کہ رہے تھے۔
” حرم!
لوگ کیا کہیں گے مولوی امام دین کی دین دار بیٹی اور ایک نجس، ناپاک سے دوستی؟
نہ میرا پتر۔”
ابا کو مریم کے بارے میں کہی گئی بدبودار بات کا قطعی احساس نہ ہوا۔
وہ جوابا کچھ کہنے کی کوشش میں ہلکان ہونے لگی۔ اچانک ابا کا چہرہ سیاہ پڑ گیا تھا اور ان کی آنکھیں اندر کو دھنستی جا رہی تھیں ۔
اسے لگا آنکھیں اتنی دھنس گئی ہیں کہ اب آنکھوں کی جگہ دو خوف ناک سوراخ ہو گئے ہیں۔

اف! ابا کتنے خوف ناک لگنے لگے تھے۔
کیسی نجس بات تھی کہ ابا کا خوش گلو لہجہ پھدا ہو گیا تھا۔

ابا پہلے والے مولوی امام دین لگتے ہی نہ تھے۔
جن کے چہرے پہ نور کا ہالہ محسوس ہوتا تھا ۔پتا نہیں ہالہ ختم ہو گیا تھا یا اس کی عقل پہ پڑا پردہ سرک گیا تھا۔
بہرحال طویل دورانیے کا ناٹک ختم ہو چکا تھا۔
بس حرم بے خبر رہی تھی۔
اسے پتا ہی نہ چلا تھا کہ اس کا اپنا چہرہ کب سے مریم ہارون گِل کے چہرے میں ڈھل چکا تھا۔

Author

Related Articles

Back to top button